Jasarat News:
2026-06-03@06:18:39 GMT

تحقیق میں ایشیا کی برتری

اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

فی زمانہ کسی بھی ملک کی ترقی اور برتری کا مدار اِس بات پر ہے کہ اُس نے فطری علوم و فنون میں پیش رفت یقینی بنائے رکھنے کا اہتمام کس قدر کیا ہے۔ فطری علوم و فنون میں غیر معمولی پیش رفت ہی اب اِس بات کا فیصلہ کرتی ہے کون سا ملک کس طور محض زندہ رہے گا اور کون سا ملک بہت آگے جائے گا، دوسروں کو بھی راہ دکھائے گا۔ فطری اور سماجی علوم و فنون میں پیش رفت یقینی بنانے کے لیے تحقیق پر بہت زیادہ خرچ کرنا پڑتا ہے اور اِس عمل کو جاری بھی رکھنا پڑتا ہے۔ آج کے تمام ترقی یافتہ ممالک کا جائزہ لیجیے تو اندازہ ہوگا کہ اُن کی برتری صرف اِس بات میں ہے کہ وہ تحقیق و ترقی کا عمل کس طور جاری رکھتے ہیں اور اِس معاملے میں فنڈنگ کے حوالے سے کہاں تک جاتے ہیں۔ چند عشروں کے دوران چین اور دیگر بہت سے ایشیائی ممالک بہت تیزی سے ابھرے ہیں اور اُنہوں نے باقی دنیا کو ٹف ٹائم دینا شروع کردیا ہے۔ چین اِس معاملے میں بہت نمایاں ہے۔ آئیے، دیکھتے ہیں کہ چین اور دیگر ایشیائی ممالک فطری اور سماجی علوم میں کس قدر پیش رفت کی ہے اور خود کو کس حد تک منوایا ہے۔
فطری علوم و فنون کے حوالے سے چین کا مقام اِس قدر خاصا بلند ہے۔ عالمی معیار کی تحقیق میں چین اپنا حصہ دھیرے دھیرے بڑھاتا رہا ہے۔ اب اِس عمل کی رفتار بہت بڑھ چکی ہے۔ چین کی قیادت اور اہم سرکاری ادارے جدید علوم اور اُن سے متعلق ٹیکنالوجیز میں پیش رفت کا گراف بلند کرتے جارہے ہیں۔ نیچر انڈیکس ریسرچ لیڈرز کی رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۴ میں چین علوم و فنون سے متعلق تحقیق کے میدان میں بہت نمایاں اور آگے رہا۔ ساتھ ہی ساتھ دوسرے کئی ایشیائی ممالک بھی تحقیق کے میدان میں اپنی مہارت کے جھنڈے گاڑ رہے ہیں۔ چین دیگر رینکنگز میں بھی نمایاں ہوتا جارہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ فطری علوم و فنون میں اُس کے اثرات کا دائرہ وسعت اختیار کر رہا ہے۔ مغربی دنیا کے بیش تر ادارے تحقیق و ترقی کے شعبے میں خاصی غیر متاثر کن کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ وہ رینکنگز میں بھی بہت پیچھے ہیں اور فنڈنگ میں بھی۔ ایسے میں یہ بات بلا خوفِ تردید کہی جاسکتی ہے کہ اعلیٰ درجے کی علمی و فنی تحقیق کا مرکز مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ نیچر انڈیکس ریسرچ لیڈرز کی رینکنگ فطری علوم و فنون کے علاوہ صحت و تعلیم اور دیگر سماجی شعبوں میں کے ۱۴۵ عالمی شہرت یافتہ اور کامیاب جرائد میں شایع ہونے والے مقالوں کی بنیاد پر تیار کی جاتی ہے۔ ۲۰۲۳ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ اِس رینکنگ میں چین نے امریکا کو پیچھے چھوڑ کر ٹاپ پوزیشن حاصل کی۔ پانچ سال میں چین نے بہت تیزی سے اپنے معاملات کو درست ہی نہیں کیا بلکہ بہتر بھی بنایا ہے۔ چین کی کارکردگی میں رونما والی بہتری کا یہ حال ہے کہ اُس نے صرف ایک سال میں اپنی اعلیٰ درجے کے تحقیقی مقالوں کی تیاری کے حوالے سے اپنی کارکردگی چار گنا کی ہے۔ ۲۰۲۳ کے مقابلے میں اُس کے مقالوں کی تعداد میں ۱۷ فی صد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ چین نے رواں سال عالمی معیار کے جرائد میں ۳۲۱۲۲ تحقیقی مقالے شایع کروائے ہیں۔
شمال مشرقی اور جنوبی ایشیا خود کو فطری و سماجی علوم و فنون کے شعبے میں پیش رفت کے حوالے سے خوب منوا رہا ہے۔ نیچر انڈیکس رینکنگ میں ایشیائی ادارے پہلے ۱۰ میں سے ۸ مقامات پر ہیں۔ گزشتہ برس پہلے ۱۰ میں سے ۷ تھے۔ اس بار رینکنگ میں دی چائنا اکیڈمی آف سائنسز کا پہلا نمبر ہے۔ دی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی آف چائنا تیسرے نمبر پر ہے۔ چین ہی کی شی ژیانگ یونیورسٹی چوتھے نمبر پر ہے۔
ورلڈ انٹیلیکچوئل پراپرٹ آرگنائزیشن کی سرپرستی میں جاری کیے جانے والے گلوبل انوویشن انڈیکس میں مسلسل دوسرے سال چین کا پہلا نمبر ہے۔ یہ رینکنگ ۱۰۰ سے زائد ٹیکنالوجی کلسٹرز میں کی جانے والی تحقیق اور پیش رفت کی بنیاد پر تیار کی جاتی ہے۔ ان میں سے ۲۶ کلسٹرز میں چین کی کارکردگی غیر معمولی اور نمایاں ہے۔ چین نے ایک عشرے کے دوران ٹیکنالوجی میں غیر معمولی پیش رفت یقینی بناکر اپنی معیشت کو قابل ِ رشک حد تک مستحکم کردیا ہے۔ چین نے تعلیم اور تحقیق کے شعبے میں خاصی ذہانت کے ساتھ سرمایہ کاری کی ہے۔ چینی قیادت نے اس بات کو اچھی طرح سمجھا ہے کہ آگے بڑھنا ہے تو دوسروں کے ساتھ مل کر چلنا پڑے گا، اشتراکِ عمل یقینی بنانا پڑے گا۔ تحقیق کے میدان میں جنوبی کوریا، بھارت، سنگاپور اور دوسرے ایشیائی ممالک بھی اپنے آپ کو نمایاں کر رہے ہیں۔ بھارت سے آنے والے اعلیٰ معیار کے تحقیقی مقالوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔ جنوبی کوریا بھی تحقیق کی مد میں خوب خرچ کر رہا ہے اور اِس کے نتیجے میں اُس کی معیشت کا اچھا فیڈ بیک مل رہا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ فطری علوم و فنون اور چند ایک سماجی معاملات میں تحقیق کے حوالے سے جاپان پیچھے رہ گیا ہے۔ جاپان کے تعلیمی ادارے تحقیق پر زیادہ توجہ نہیں دے رہے اور اِس مد میں کچھ زیادہ خرچ بھی نہیں کر رہے۔ جاپان نے ایک زمانے تک تحقیق و ترقی پر غیر معمولی توجہ دی اور اُس کا پھل کھایا۔ اب شاید اُن کا معاملہ سیچیوریشن پوائنٹ تک پہنچ چکا ہے۔ بہت زیادہ کام کرنے اور ترقی کے پیچھے بھاگتے رہنے سے وہ اُوب سے گئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اِن تمام معاملات سے پیچھے ہٹ کر زندگی بسر کرنے میں بھی دلچسپی لیں۔ (www.

visualcapitalist.com)

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فطری علوم و فنون علوم و فنون میں ایشیائی ممالک کے حوالے سے میں پیش رفت غیر معمولی مقالوں کی تحقیق کے رہے ہیں میں بھی ہیں اور میں چین اور ا س ہے کہ ا چین نے رہا ہے ہے اور

پڑھیں:

قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان

بھارتی ریاست آسام میں قدرت کے انوکھے مظاہر میں شمار ہونے والے ہولونگ درخت کے منفرد ’ہیلی کاپٹر پھل‘ ایک بار پھر لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جرمنی کا صدیوں پرانا شاہ بلوط کا درخت پریمیوں کا پیغام رساں کیسے بنا؟

ڈیپٹیروکارپس ریٹوسس المعروف ہولونگ ایک مضبوط اور بلند قامت درخت ہے جو تقریباً 60 میٹر تک بلند ہو سکتا ہے۔ یہ درخت جنوب مشرقی ایشیا میں پایا جاتا ہے اور مقامی ثقافتوں میں اسے خاص اہمیت حاصل ہے جبکہ اس کی لکڑی تعمیرات، فرنیچر سازی اور کشتیوں کی تیاری میں استعمال کی جاتی ہے۔

Hollong seeds are a stunning local example of nature's autorotating 'helicopters'! ????????

Globally, maple samaras inspired much of the research into this principle for real helicopters and drones.
The origin of helicopter autorotation (and modern drone/micro-flyer designs) is… https://t.co/jKXLuMq5nR

— Chinnu Senthilkumar (@chinnusenthil1) May 20, 2026

اس درخت کی سب سے دلچسپ خصوصیت اس کے 2 پروں والے پھل ہیں جو شاخوں سے گرنے کے دوران ننھے ہیلی کاپٹر کی طرح گھومتے ہوئے نیچے آتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ قدرتی نظام بیجوں کو درخت سے دور زرخیز زمین تک پہنچانے میں مدد دیتا ہے جہاں ان کی افزائش کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیے: کچھ درخت جان بوجھ کر آسمانی بجلی کو گرنے کی دعوت کیوں دیتے ہیں؟

خشک موسم میں جب درجنوں یہ پھل آسمان سے گھومتے ہوئے زمین کی طرف اترتے ہیں تو یہ منظر دیکھنے والوں کو مسحور کر دیتا ہے۔

حال ہی میں ایسے ہی ایک منظر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس نے اس قدرتی مظہر کو عالمی توجہ دلائی۔

مزید پڑھیں: فضائی کمپنی نے مسافر کو جہاز سے اترجانے کے لیے 3 ہزار ڈالر کی پیشکش کیوں کی؟

بھارتی ریاست آسام کو اس نظارے کے لیے بہترین مقامات میں شمار کیا جاتا ہے کیونکہ ہولونگ وہاں بڑی تعداد میں پایا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہولونگ کو آسام کا سرکاری درخت بھی قرار دیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

جنوب مشرقی ایشیا جنوب مشرقی ایشیا کا حیرت انگیز درخت ہولونگ درخت ہولونگ درخت کے ہیلی کاپٹر پھل‘ ہیلی کاپٹر پھل

متعلقہ مضامین

  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان