Jasarat News:
2026-07-24@15:44:24 GMT

تحقیق میں ایشیا کی برتری

اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

فی زمانہ کسی بھی ملک کی ترقی اور برتری کا مدار اِس بات پر ہے کہ اُس نے فطری علوم و فنون میں پیش رفت یقینی بنائے رکھنے کا اہتمام کس قدر کیا ہے۔ فطری علوم و فنون میں غیر معمولی پیش رفت ہی اب اِس بات کا فیصلہ کرتی ہے کون سا ملک کس طور محض زندہ رہے گا اور کون سا ملک بہت آگے جائے گا، دوسروں کو بھی راہ دکھائے گا۔ فطری اور سماجی علوم و فنون میں پیش رفت یقینی بنانے کے لیے تحقیق پر بہت زیادہ خرچ کرنا پڑتا ہے اور اِس عمل کو جاری بھی رکھنا پڑتا ہے۔ آج کے تمام ترقی یافتہ ممالک کا جائزہ لیجیے تو اندازہ ہوگا کہ اُن کی برتری صرف اِس بات میں ہے کہ وہ تحقیق و ترقی کا عمل کس طور جاری رکھتے ہیں اور اِس معاملے میں فنڈنگ کے حوالے سے کہاں تک جاتے ہیں۔ چند عشروں کے دوران چین اور دیگر بہت سے ایشیائی ممالک بہت تیزی سے ابھرے ہیں اور اُنہوں نے باقی دنیا کو ٹف ٹائم دینا شروع کردیا ہے۔ چین اِس معاملے میں بہت نمایاں ہے۔ آئیے، دیکھتے ہیں کہ چین اور دیگر ایشیائی ممالک فطری اور سماجی علوم میں کس قدر پیش رفت کی ہے اور خود کو کس حد تک منوایا ہے۔
فطری علوم و فنون کے حوالے سے چین کا مقام اِس قدر خاصا بلند ہے۔ عالمی معیار کی تحقیق میں چین اپنا حصہ دھیرے دھیرے بڑھاتا رہا ہے۔ اب اِس عمل کی رفتار بہت بڑھ چکی ہے۔ چین کی قیادت اور اہم سرکاری ادارے جدید علوم اور اُن سے متعلق ٹیکنالوجیز میں پیش رفت کا گراف بلند کرتے جارہے ہیں۔ نیچر انڈیکس ریسرچ لیڈرز کی رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۴ میں چین علوم و فنون سے متعلق تحقیق کے میدان میں بہت نمایاں اور آگے رہا۔ ساتھ ہی ساتھ دوسرے کئی ایشیائی ممالک بھی تحقیق کے میدان میں اپنی مہارت کے جھنڈے گاڑ رہے ہیں۔ چین دیگر رینکنگز میں بھی نمایاں ہوتا جارہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ فطری علوم و فنون میں اُس کے اثرات کا دائرہ وسعت اختیار کر رہا ہے۔ مغربی دنیا کے بیش تر ادارے تحقیق و ترقی کے شعبے میں خاصی غیر متاثر کن کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ وہ رینکنگز میں بھی بہت پیچھے ہیں اور فنڈنگ میں بھی۔ ایسے میں یہ بات بلا خوفِ تردید کہی جاسکتی ہے کہ اعلیٰ درجے کی علمی و فنی تحقیق کا مرکز مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ نیچر انڈیکس ریسرچ لیڈرز کی رینکنگ فطری علوم و فنون کے علاوہ صحت و تعلیم اور دیگر سماجی شعبوں میں کے ۱۴۵ عالمی شہرت یافتہ اور کامیاب جرائد میں شایع ہونے والے مقالوں کی بنیاد پر تیار کی جاتی ہے۔ ۲۰۲۳ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ اِس رینکنگ میں چین نے امریکا کو پیچھے چھوڑ کر ٹاپ پوزیشن حاصل کی۔ پانچ سال میں چین نے بہت تیزی سے اپنے معاملات کو درست ہی نہیں کیا بلکہ بہتر بھی بنایا ہے۔ چین کی کارکردگی میں رونما والی بہتری کا یہ حال ہے کہ اُس نے صرف ایک سال میں اپنی اعلیٰ درجے کے تحقیقی مقالوں کی تیاری کے حوالے سے اپنی کارکردگی چار گنا کی ہے۔ ۲۰۲۳ کے مقابلے میں اُس کے مقالوں کی تعداد میں ۱۷ فی صد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ چین نے رواں سال عالمی معیار کے جرائد میں ۳۲۱۲۲ تحقیقی مقالے شایع کروائے ہیں۔
شمال مشرقی اور جنوبی ایشیا خود کو فطری و سماجی علوم و فنون کے شعبے میں پیش رفت کے حوالے سے خوب منوا رہا ہے۔ نیچر انڈیکس رینکنگ میں ایشیائی ادارے پہلے ۱۰ میں سے ۸ مقامات پر ہیں۔ گزشتہ برس پہلے ۱۰ میں سے ۷ تھے۔ اس بار رینکنگ میں دی چائنا اکیڈمی آف سائنسز کا پہلا نمبر ہے۔ دی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی آف چائنا تیسرے نمبر پر ہے۔ چین ہی کی شی ژیانگ یونیورسٹی چوتھے نمبر پر ہے۔
ورلڈ انٹیلیکچوئل پراپرٹ آرگنائزیشن کی سرپرستی میں جاری کیے جانے والے گلوبل انوویشن انڈیکس میں مسلسل دوسرے سال چین کا پہلا نمبر ہے۔ یہ رینکنگ ۱۰۰ سے زائد ٹیکنالوجی کلسٹرز میں کی جانے والی تحقیق اور پیش رفت کی بنیاد پر تیار کی جاتی ہے۔ ان میں سے ۲۶ کلسٹرز میں چین کی کارکردگی غیر معمولی اور نمایاں ہے۔ چین نے ایک عشرے کے دوران ٹیکنالوجی میں غیر معمولی پیش رفت یقینی بناکر اپنی معیشت کو قابل ِ رشک حد تک مستحکم کردیا ہے۔ چین نے تعلیم اور تحقیق کے شعبے میں خاصی ذہانت کے ساتھ سرمایہ کاری کی ہے۔ چینی قیادت نے اس بات کو اچھی طرح سمجھا ہے کہ آگے بڑھنا ہے تو دوسروں کے ساتھ مل کر چلنا پڑے گا، اشتراکِ عمل یقینی بنانا پڑے گا۔ تحقیق کے میدان میں جنوبی کوریا، بھارت، سنگاپور اور دوسرے ایشیائی ممالک بھی اپنے آپ کو نمایاں کر رہے ہیں۔ بھارت سے آنے والے اعلیٰ معیار کے تحقیقی مقالوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔ جنوبی کوریا بھی تحقیق کی مد میں خوب خرچ کر رہا ہے اور اِس کے نتیجے میں اُس کی معیشت کا اچھا فیڈ بیک مل رہا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ فطری علوم و فنون اور چند ایک سماجی معاملات میں تحقیق کے حوالے سے جاپان پیچھے رہ گیا ہے۔ جاپان کے تعلیمی ادارے تحقیق پر زیادہ توجہ نہیں دے رہے اور اِس مد میں کچھ زیادہ خرچ بھی نہیں کر رہے۔ جاپان نے ایک زمانے تک تحقیق و ترقی پر غیر معمولی توجہ دی اور اُس کا پھل کھایا۔ اب شاید اُن کا معاملہ سیچیوریشن پوائنٹ تک پہنچ چکا ہے۔ بہت زیادہ کام کرنے اور ترقی کے پیچھے بھاگتے رہنے سے وہ اُوب سے گئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اِن تمام معاملات سے پیچھے ہٹ کر زندگی بسر کرنے میں بھی دلچسپی لیں۔ (www.

visualcapitalist.com)

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فطری علوم و فنون علوم و فنون میں ایشیائی ممالک کے حوالے سے میں پیش رفت غیر معمولی مقالوں کی تحقیق کے رہے ہیں میں بھی ہیں اور میں چین اور ا س ہے کہ ا چین نے رہا ہے ہے اور

پڑھیں:

سیاروں، ستاروں اور چاند کی حدیں دھندلا گئیں، ماہرین نے پہلی بار نظام شمسی سے باہر چاند دریافت کر لیا

ماہرین فلکیات نے ایک اہم پیشرفت میں ایک ایسا منفرد فلکیاتی جسم دریافت کیا ہے جس نے کائنات سے متعلق کئی نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ خود سائنس دان بھی تاحال اس بات پر متفق نہیں کہ اسے سیارہ کہا جائے چاند یا پھر کچھ اور۔

یہ بھی پڑھیں: چاند کی گرد میں خلائی مخلوق کی تہذیبوں کے آثار چھپے ہو سکتے ہیں، نئی تحقیق

نئی تحقیق کے مطابق سی ڈی-35 2722 (CD-35 2722) نامی ستارے کے نظام میں ایک ایسا منفرد جسم دریافت ہوا ہے جو ممکنہ طور پر نظام شمسی سے باہر دریافت ہونے والا پہلا چاند ہو سکتا ہے۔

اس دریافت کی سب سے غیرمعمولی بات یہ ہے کہ یہ جسم کسی سیارے کے گرد گردش نہیں کرتا بلکہ ایک براؤن ڈوارف یعنی ایسے فلکیاتی جسم کے گرد چکر لگاتا ہے جو خود ایک ستارے کے گرد گردش کر رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس کا حجم اتنا بڑا ہے کہ اسے سیارہ بھی قرار دیا جا سکتا ہے تاہم اس کا مدار اسے چاند سے زیادہ مشابہ بناتا ہے اگرچہ یہ ہمارے نظام شمسی کے چھوٹے اور پتھریلے چاندوں جیسا نہیں۔

’ایکسو سیٹلائٹ‘ کا نام دیا گیا

تحقیق کرنے والی ٹیم نے اس منفرد جسم کو عارضی طور پر ’ایکسو سیٹلائٹ‘ کا نام دیا ہے کیونکہ یہ ستاروں، سیاروں اور چاندوں کے درمیان موجود روایتی درجہ بندی کو دھندلا دیتا ہے۔

مزید پڑھیے: خلائی تحقیق میں چین کا نیا سنگِ میل، انسان کو چاند پر اتارنے کے لیے مشن کامیابی سے روانہ

معروف سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی اس تحقیق کی سربراہ ایلس زورلو نے کہا کہ ہمارے نظامِ شمسی میں سورج، سیاروں اور چاندوں کی واضح تقسیم موجود ہے اس لیے چاند کی تعریف کرنا آسان ہے لیکن سی ڈی-35 2722 کے نظام میں ستاروں، سیاروں اور چاندوں کی سرحدیں ایک دوسرے میں مدغم ہوتی دکھائی دیتی ہیں جس سے اس جسم کی درست درجہ بندی کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

ہزاروں سیارے دریافت، مگر چاند نہیں

ماہرین کئی برسوں سے ایگزو مونز یعنی نظامِ شمسی سے باہر موجود چاندوں کی تلاش میں مصروف ہیں تاہم اب تک کسی ایسے چاند کی حتمی تصدیق نہیں ہو سکی تھی۔

اب تک سائنس دان 6 ہزار سے زائد ایگزو پلینیٹس یعنی نظام شمسی سے باہر موجود سیارے دریافت کر چکے ہیں مگر ان کے گرد گردش کرنے والے کسی چاند کی باقاعدہ تصدیق نہیں ہوئی۔

محققین کے مطابق نئی دریافت اس بات کو سمجھنے میں مدد دے گی کہ ایسے اجسام کتنے عام ہیں ان کی تشکیل کیسے ہوتی ہے اور ان کی اصل نوعیت کیا ہے۔

مزید پڑھیں: ناسا آرٹیمس II مشن: خلا بازوں نے چاند کے سفر کے راز ٹی وی شو میں بیان کر دیے

ایلس زورلو کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ نظام انتہائی غیرمعمولی ہے لیکن یہی اس کی اہمیت بھی ہے کیونکہ یہ ممکنہ طور پر نظام شمسی سے باہر کسی چاند کی پہلی قابل اعتماد دریافت ثابت ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

فلکیات میں نئی تحقیق ماہرین فلکیات نظام شمسی سے باہر کا چاند

متعلقہ مضامین

  • سیاروں، ستاروں اور چاند کی حدیں دھندلا گئیں، ماہرین نے پہلی بار نظام شمسی سے باہر چاند دریافت کر لیا
  • وسیم خان باسکٹ بال کی عالمی تنظیم فیبا ایشیا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مقرر
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ