لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) لیسکو دفتر میں معمر خاتون سے بدتمیزی اور بدسلوکی کرنے والے سیکیورٹی گارڈ کے خلاف پاور ڈویژن نے فوری ایکشن لیتے ہوئے سخت کارروائی کا آغاز کر دیا۔ واقعے کی ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد عوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا، جس پر حکام متحرک ہو گئے۔

ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق، متاثرہ خاتون کی بے توقیری کے واقعے میں ملوث سیکیورٹی گارڈ کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے جبکہ اس کے خلاف مقدمہ درج کر کے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔پاور ڈویژن نے واقعے کو "ناقابل قبول انفرادی عمل" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کی تذلیل اور قانون شکنی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ گارڈ کے خلاف محکمانہ انکوائری کا آغاز کر دیا گیا ہے،تین دن کے اندر رپورٹ مکمل کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ترجمان پاور ڈویژن کا کہنا تھا کہ گارڈ کو نوکری سے برخاست کرنے کے لیے بھی کارروائی جاری ہے،پاور ڈویژن نے تمام بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کو ہدایت دی ہے کہ عوام سے حسن سلوک اور احترام کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ۔واقعے پر عوامی حلقے اور صارفین نے پاور ڈویژن کے فوری ایکشن کو سراہا ہے اور توقع ظاہر کی ہے کہ ایسے واقعات کی مکمل روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔

صدر مملکت سینیارٹی طے کرنے سے پہلے چیف جسٹس سے مشاورت کے پابند تھے: جسٹس منصور علی شاہ

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: پاور ڈویژن کر دیا

پڑھیں:

لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور

سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔

کراچی: پنکی کے بعد مطلوب منشیات فروش خاتون شیریں گرفتار

پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔

ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔

اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔

جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔

اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔

ملزمہ  کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟