معمر خاتون کی بے توقیری پر لیسکو گارڈ معطل، مقدمہ درج ، پاور ڈویژن کا سخت نوٹس
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) لیسکو دفتر میں معمر خاتون سے بدتمیزی اور بدسلوکی کرنے والے سیکیورٹی گارڈ کے خلاف پاور ڈویژن نے فوری ایکشن لیتے ہوئے سخت کارروائی کا آغاز کر دیا۔ واقعے کی ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد عوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا، جس پر حکام متحرک ہو گئے۔
ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق، متاثرہ خاتون کی بے توقیری کے واقعے میں ملوث سیکیورٹی گارڈ کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے جبکہ اس کے خلاف مقدمہ درج کر کے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔پاور ڈویژن نے واقعے کو "ناقابل قبول انفرادی عمل" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کی تذلیل اور قانون شکنی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ گارڈ کے خلاف محکمانہ انکوائری کا آغاز کر دیا گیا ہے،تین دن کے اندر رپورٹ مکمل کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ترجمان پاور ڈویژن کا کہنا تھا کہ گارڈ کو نوکری سے برخاست کرنے کے لیے بھی کارروائی جاری ہے،پاور ڈویژن نے تمام بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کو ہدایت دی ہے کہ عوام سے حسن سلوک اور احترام کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ۔واقعے پر عوامی حلقے اور صارفین نے پاور ڈویژن کے فوری ایکشن کو سراہا ہے اور توقع ظاہر کی ہے کہ ایسے واقعات کی مکمل روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔
صدر مملکت سینیارٹی طے کرنے سے پہلے چیف جسٹس سے مشاورت کے پابند تھے: جسٹس منصور علی شاہ
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: پاور ڈویژن کر دیا
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔