اسلام آباد( ڈیلی پاکستان آن لائن ) امیرجماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہاہے کہ حکومت بجلی کے بنیادی ٹیرف، پٹرول کی قیمت اور لیوی میں کمی لائے، بجٹ میں اشرافیہ،جاگیرداروں کو نوازا گیا، حکمران مراعات، عیاشیاں، پروٹوکول کم کرنے کو تیار نہیں، عوام کو نچوڑا جارہا ہے، ملک پر مافیا کا راج، چینی گندم کے برآمدی، درآمدی کھیل سے اربوں لوٹے جارہے ہیں۔ ٹرمپ سے کشمیر پر منصفانہ ثالثی کی توقع رکھنا احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے، کسی نے بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کی جرأت کی تو عوامی قوت سے اسے ناکام بنائیں گے۔ جماعت اسلامی بھرپور طریقے سے میدان میں ہے، عوام کو ریلیف دلائیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی اسلام آباد کے دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔امیر جماعت اسلامی شمالی پنجاب ڈاکٹر طارق سلیم،امیر اسلام آباد نصراللہ رندھاوا اور امیر راولپنڈی سید عارف شیرازی بھی اس موقع پر موجود تھے۔

پنجاب کے دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح میں اضافے کا خدشہ ، پی ڈی ایم اے الرٹ جاری

امیرجماعت اسلامی نے کہاکہ بجٹ منظور کرلیاگیا حکومت کے پاس تعداد ہے جس کہ وجہ سے وہ ہرچیز کو پاس کرالیتی ہے۔عدالتی  فیصلے کے بعدمخصوص نشستیں بھی حکومت کو مل جائیں گی،یہ عمل انصاف کے منافی ہے۔26ویں آئینی ترمیم کے وقت ہم نے کہا تھا کہ اس ترمیم کو مکمل مسترد ہونا چاہئے،اس وقت بعض جماعتوں نے26ویں ترمیم ضروری قرار دی،ثابت ہوگیا 26ویں ترمیم کے بعد ہر ادارے پر کنٹرول مضبوط کیا جارہا ہے عدلیہ کو مکمل محکوم کرکے رکھ دیا گیا، اب حکومت زیادہ سے زیادہ اختیارات لے رہی ہے،دوتہائی اکثریت دینے کا سپریم کورٹ کا فیصلہ مسترد کرتے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ انصاف کے منافی ہے، مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ جمہوری نظام کے لئے تباہی لارہا ہے، اسمبلیاں ربڑ سٹمپ بن کر رہ گئی ہیں، 26 آئینی ترمیم کو غیر آئینی طریقہ سے پاس کیا گیا۔ 26 آئینی ترمیم کلی طور پر مسترد ہونی چاہیے،یہ سارا عمل اپنی گرفت کو مضبوط کرنے اور جمہوریت کو مسمار کرنے کا ہے۔ایک مرتبہ پھر سے لوٹ سیل، انسانوں کی منڈی لگنا شروع ہوگئی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہاکہ بجٹ میں عوام پر ٹیکس کا بوجھ آدھا کرنا چاہیے تھا تاکہ لوگ ملک سے باہر نہ جائیں،ہوناتو یہ چاہیے تھاکہ ایوان ہائے صدر و وزیراعظم کا خرچ کم ہوتا،حکمران گاڑیاں چھوٹی، مراعات کم کرتے، مگر  اشرافیہ کو نوازنے کا عمل جاری ہے، عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھایا جا رہا ہے، پیٹرول کی قیمتوں میں دو مرتبہ اضافہ کیا گیا ہے جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔پٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے سے سارا بوجھ عوام پر آجاتا ہے، وزیراعظم کے ایک روپے بجلی کی قیمت کم کرنے کے اعلان سے کچھ نہیں ہوگا،پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کی مخالفت کرتے ہیں، عالمی مارکیٹ میں قیمت کم ہوئی تو حکومت نے لیوی بڑھانا شروع کردی،حکومت کو پیٹرول کی قیمت اور لیوی کم کرنی چاہیے، آئی ایم ایف سے بات کریں کہ ہمارے خطے میں جنگ ہے،اس لیے لیوی نہیں لگاسکتے ہیں۔ 
 امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہاکہ جاگیرداروں پر ٹیکس نہیں لگایا جارہاہے،شوگر مافیا پہلے چینی برآمد کرتا ہے اور بعد میں درآمد کی جاتی ہے، پی ڈی ایم کے پہلے دور میں گندم درآمد کرنے کے بعد  1 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے، اس کا حکومت جواب دے۔ مافیا حکومت کے ساتھ مل کر معیشت کا بیڑا غرق کرتا ہے،اس وقت ملک پر مافیا کا راج ہے، چینی و گندم باہر بھیج کر اور واپس منگواکر اربوں روپے لوٹے جاتے ہیں، پچھلے سال مریم نواز نے گندم کا ریٹ دیا مگر اس ریٹ پر خریداری نہیں کی جس سے اس سال گندم کی پیدوار کم ہوگئی، ن لیگ، پی پی نے مل کر زراعت کا بیڑا غرق کیا، ان کی وجہ سے ملک میں زرعی بحران پیدا ہوگیا ہے۔پنجاب میں کسانوں کو ریلیف کے نام پر اشتہار چلاتے ہیں۔ گندم نیشنل فوڈ سiکیو رٹی کا معاملہ ہے، حکومت بتائے اس کی کیا زرعی پالیسی کیا ہے،ایف بی آر کے 25 ہزار ملازمین ہدف پورا نہیں کرتے ہیں مگر ان کو اختیارات مل رہے ہیں کہ وہ لوگوں کو گرفتار کریں، معیشت ٹھیک ہورہی ہے تو پٹرول کی قیمت کیوں کم نہیں ہورہی ہے،حکومت جھوٹ بول رہی ہے اگر ہم دھرنے نہ دیتے تو بجلی جتنی تھوڑی بہت سستی ہوئی ہے وہ بھی نہ ہوتی، پاکستان میں بجلی بنانے کی قیمت بہت کم ہے،25 ہزار میگاواٹ کی رقم آئی پی پیز کو دیئے جارہے ہیں جو بجلی پیدا ہی نہیں کرتی ہیں، یہ معاہدے غلط اعداد وشمار پر کئے گئے ہیں بجلی کے ٹیرف میں کمی کی جائے۔

”اپنی چھت، اپنا گھر“ پراجیکٹ تیزی سے کامیابی کی طرف گامزن، چند ماہ میں 50 ہزار سے زائد گھروں کی تعمیر کا ریکارڈ قائم

امیر جماعت اسلامی نے کہا  پاکستانی قوم پر مشکل وقت آیا تو حکومت کا ساتھ دیا،بھارت کے ساتھ جنگ میں پاکستان سرخرو ہوا، اب اس پوزیشن سے کشمیر کا مسئلہ حل کیوں نہیں کیا جارہاہے؟ پاکستان پر جنگ مسلط کرنے پر امریکہ نے بھارت کا ساتھ دیا جب تک بھارت نے حملے کئے امریکہ نے کچھ نہیں کیا جب پاکستان نے جواب دیا تو امریکہ آگیا، کشمیر کے بغیر کوئی ثالثی نہیں ہوسکتی ہے.

بلاول کا بیان کہ’’ را‘‘ اور آئی ایس آئی مل کر دہشتگردی کے خلاف کام کرے سمجھ سے بالاتر ہے،  اس طرح کے بیان سے امریکہ اور دیگر لابیز کو خوش کیا جاتا ہے۔ ’’ را‘‘ پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے۔ٹرمپ کون سے ثالثی کررہاہے اس نے سندھ طاس معاہدے،مقبوضہ کشمیر کی ریاستی حیثیت ختم کرنے پر کیا بیان دیا ہے۔فلسطین میں روزانہ لوگ شہید ہورہے ہیں اور امریکہ کہتا ہے کہ ہم جنگ بندی کرارہے ہیں، ایران نے جب اسرائیل کو جواب دیا تو امریکہ نے جنگ بند کروائی ہے،امریکہ کشمیر کا مسئلہ حل نہیں کرے گا، جو یہ سمجھتا ہے کہ امریکہ مسئلہ حل کرائے گا وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہاکہ ایک بار پھر ابراہم اکارڈ میں عرب ممالک اور پاکستان پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے دباؤ آرہا ہے اگر کسی نے بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کوشش کی تو عوامی قوت سے اسے ناکام بنائیں گے۔ 
امیر جماعت اسلامی نے کہاکہ جماعت اسلامی کی 20لاکھ ممبرشپ ہوگئی ہے، اب 30ہزار عوامی کمیٹیاں بنائیں گے، جو عوامی مسائل کو حل کریں گی۔ ملک بھر میں بلدیاتی ادارے مفلوج ہیں، کراچی میں مئیر شپ پر پیپلزپارٹی نے قبضہ کیا ہوا ہے۔ تاثر یہ بنایا ہوا ہے کہ پنجاب میں دودھ شہد کی نہریں بہہ  رہی ہیں جبکہ پنجاب کے کئی شہروں میں بارش کے بعد ساری سڑکوں پر پانی کھڑا تھا۔جب تک بلدیاتی ادارے مضبوط نہیں ہوں گے، مسائل حل نہیں ہوگے۔ اسلام آباد میں بھی بلدیاتی انتخابات نہیں ہورہے ہیں، کے پی کے میں بھی بلدیاتی ادارے تباہ ہیں۔ سوات میں صوبائی حکومت کی کوتاہی کی وجہ سے شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔ صوبائی حکومت کام نہیں کررہی تو این ڈی ایم اے کہاں ہے؟ کراچی میں نعمت اللہ کے دور میں بلدیات کا بجٹ 45ارب روپے تھا اور آج بھی 45 ارب روپے ہی ہے۔ سیاسی جماعتیں خوف کی وجہ سے بلدیاتی انتخابات نہیں کراتی ہیں۔ اسلام آباد میں 30 سال سے پانی کی کوئی نئی سکیم نہیں بنی ہے۔ اسلام آباد  میں بھی پانی کا بحران ہے۔ عوامی مسائل حل کرنے میں حکومت سنجیدہ نہیں ہے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز مری سے واپسی پر فیلڈ ہسپتال دیکھ کر رک گئیں،ادویات کی مفت فراہمی اور ورکنگ کے بارے میں تفصیلات حاصل کیں

مزید :

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمان نے نعیم الرحمان نے کہ امیر جماعت اسلامی اسرائیل کو اسلام آباد نے کہاکہ کی قیمت ہوا ہے کے بعد

پڑھیں:

طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔

بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟