۔2 ماتحت عدالتوں کے متفقہ فیصلے میں ہائیکورٹ مداخلت نہیں کرسکتی، چیف جسٹس
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(صباح نیوز) چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ خان آفریدی نے کہا ہے کہ ہم عدالت عظمیٰ میں بیٹھ کریہ نہیں کہہ سکتے کہ نیچے 3 عدالتوں نے غلط فیصلہ دیا، خاندانی معاملات میں 2 ماتحت عدالتوں کے متفقہ فیصلے آجائیں تو اس میں ہائیکورٹ بھی مداخلت نہیں کرسکتی۔ ہم حقائق کے تعین میں جاہی نہیں سکتے۔آئین کے آرٹیکل 199کے تحت ہائی کورٹ کے پاس کرایہ کم کرنے کااختیار کہاں سے آیا، اگرانہوں نے کچھ
کرنا تھا توماتحت عدالت کو معاملہ دوبارہ فیصلہ کیلیے بھجوادیتے، معاملہ رینٹ کنٹرولریاایپلٹ فورم نے طے کرنا ہے۔ یہ ریمارکس چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں جسٹس شکیل احمد پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے مختلف کیسز کی سماعت کرتے ہوئے دیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
کراچی کے علاقے ڈیفنس میں زیادتی کا شکار غیر ملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
کراچی میں درخشاں تھانے کی حدود میں امریکی خاتون سے زیادتی کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ہوئی پولیس نے گرفتار ملزم جیسپر عرف آدی محمود کو عدالت میں پیش کیا۔
متاثرہ خاتون نے عدالت میں زیر دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کروایا، متاثرہ خاتون نے ملزم کو معاف کرنے کا بیان دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ میں ملوث ملزم آدی محمود کو گرفتار کرلیا ہے، ملزم تھانا درخشاں میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے صفائی کا کام کر رہا تھا۔
خاتون نے بیان میں کہا کہ پولیس افسر نے اس کا دستخط شدہ بیان جلادیا، پولیس افسر نے کہا کہ مقدمہ درج کروائیں ورنہ ہمارے لیے مشکل ہوجائے گی۔
متاثرہ خاتون نے کہا کہ ملزم کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتی۔
عدالت نے متاثرہ خاتون کا بیان کیس کا حصہ بنادیا جبکہ عدالت نے ملزم جیسپر کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو ملزم کی عمر کے تعین سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔