کندھکوٹ، وارث علی کلوڑ کی عدم بازیابی پر اہل خانہ کا احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کندھکوٹ(نمائندہ جسارت)کشمور تھانہ کی حدود کے نواحی گائوں قاضی اللہ رکھیو کلوڑ سے4 روز قبل اغوا ہونے والے15 سالہ وارث علی کلوڑ کے اہل خانہ مرد اور عورتوں نے پاک کتاب اٹھا کر ڈسٹرکٹ پریس کلب کشمور کے سامنے تپتی دھوپ میں احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے دھرنا دیا۔ دھرنے کے باعث روڈ کے دونوں اطراف گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ دھرنے میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مظاہرین مرد و عورتوں کا کہنا تھا کہ 4 دن گزر گئے ہیں مگر پولیس نے ابھی تک کچھ نہیں کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایس ایچ او کا رویہ بھی غیر مناسب ہے جب تک ہمارا نوجوان بازیاب نہیں ہوگا تب تک یوں روڈ پر بیٹھے رہیں گے۔ تاہم ایس ایچ او کشمور مظاہرین کے پاس پہنچ گئے اور انہیں یقین دلایا کہ مغوی وارث علی کو دو دن میں بازیاب کرالیا جائے گا۔ پولیس کی یقین دہانی پر احتجاج ختم کر کے روڈ کھول دیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں
یورپی چیمپئنز لیگ میں پی ایس جی کی کامیابی کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن پرتشدد ہنگاموں میں تبدیل ہو گیا۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں، جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے واقعات میں متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ پولیس نے 400 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔
یورپی چیمپئنز لیگ کے فائنل میں پی ایس جی کی فتح کے بعد فرانس کے دارالحکومت پیرس میں جشن کا ماحول بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا، جہاں مشتعل افراد نے جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں مظاہرین نے بوتل بم پھینکے، متعدد دکانوں پر حملے کیے اور سڑکوں پر موجود کچرے کے ڈبوں سمیت دیگر اشیا کو آگ لگا دی۔ ہنگامہ آرائی کے دوران درجنوں گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم سات پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ بعض شرپسند عناصر نے آتش بازی کا رخ آسمان کے بجائے پولیس اہلکاروں کی جانب کر دیا، جس کے باعث کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔
فرانسیسی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 400 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد کے قبضے سے تیزاب سے بھری بوتلیں اور دیگر خطرناک مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔
حکام کو پہلے ہی ممکنہ ہنگامہ آرائی کا خدشہ تھا، جس کے پیش نظر پیرس میں 22 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ اس کے باوجود شہر کے مختلف حصوں میں جلاؤ گھیراؤ اور پرتشدد واقعات کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہ ہو سکا۔
واضح رہے کہ پیرس سینٹ جرمین (PSG) نے چیمپئنز لیگ کے فائنل میں آرسنل کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا، جس کے بعد ہزاروں شائقین جشن منانے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ تاہم بعض مقامات پر یہ جشن بدامنی اور تشدد میں تبدیل ہو گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں