نوجوان آنتوں کے کینسر میں مبتلا ہونے لگے، خاموش بحران قراردیدیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نوجوانوں میں آنتوں کے کینسر میں خطرناک اضافہ ہونے لگا، ماہرین نے خاموش بحران قرار دے دیا۔
ایک حالیہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ دنیا بھر میں نوجوانوں میں بڑی آنت اور نظامِ ہاضمہ سے متعلق کینسر تیزی سے بڑھ رہا ہے، جسے ماہرین نے ایک خاموش عالمی بحران قرار دیا ہے۔
طبی ویب سائٹ کے مطابق، حالیہ تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ دنیا بھر میں نوجوانوں میں نظامِ ہاضمہ، بشمول آنتوں اور معدے سے متعلق کینسر کے کیسز میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔
ماہرین اس تیزی سے بڑھتے ہوئے رجحان کو ایک ’خاموش عالمی بحران‘ قرار دے رہے ہیں۔
تحقیق کے مطابق، 50 سال سے کم عمر افراد خصوصاً 20 سے 40 سال کے درمیان کے افراد بڑی تعداد میں بڑی آنت کے کینسر کا شکار ہو رہے ہیں اور گزشتہ دو دہائیوں کے دوران اس میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔
امریکا میں 20 سے 24 سال کے نوجوانوں میں بڑی آنت کے کینسر کی شرح میں 8.
تحقیق میں نشاندہی کی گئی ہے کہ 1990 کے بعد پیدا ہونے والے افراد میں بڑی آنت کے کینسر کا خطرہ پچھلی نسلوں کے مقابلے میں دوگنا زیادہ ہو چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق، اس رجحان کی ممکنہ وجوہات میں موٹاپا، غیر صحت مند طرزِ زندگی، زیادہ پراسیسڈ کھانوں اور چینی سے بھرپور مشروبات کا استعمال، تمباکو نوشی، شراب نوشی، معدے میں مضر بیکٹیریا اور چربی والا جگر شامل ہو سکتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ نوجوانوں میں اس بیماری کی بروقت تشخیص ایک بڑا مسئلہ بنتی جا رہی ہے، کیونکہ مریض اور بعض اوقات ڈاکٹر بھی ابتدائی علامات کو سنجیدگی سے نہیں لیتے، جس کی وجہ سے اکثر مریضوں میں بیماری کا پتہ آخری مرحلے پر چلتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نوجوانوں میں میں بڑی ا نت کے کینسر
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔