پشاور ( اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ آئی پی اے ۔ 08 جولائی 2025ء ) وزیراعلی علی امین خان گنڈاپور نے ”خیبر پاس“ کے نام سے صوبائی حکومت کے ڈیجیٹل شناختی نظام کا اجراء کردیا۔ خیبر پاس کے اجراء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی علی امین گنڈاپور نے کہا کہ خیبر پاس سرکاری محکموں کی خدمات تک آسان رسائی کا ایک انقلابی اقدام ہے، ابتدائی طور پر اس نظام کے تحت تین خدمات فراہم کی جارہی ہیں، آنے والے دنوں میں صحت کارڈ سمیت صوبائی حکومت کی تمام خدمات اور سہولیات کو اس نظام میں شامل کیا جائے گا۔

لوگوں کو زیادہ سے سہولیات کی فراہمی، شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانے کے لئے سسٹم کو ڈیجیٹائز کرنا بہت ضروری یے، ہم عمران خان کے وژن کے مطابق تمام سیکٹرز میں نظام کو زیادہ زیادہ ڈیجیٹائز کرنے پر کام کر رہے ہیں، ہم ایسا نظام لا رہے ہیں جس میں حکومت اور شہریوں دونوں کےلئے آسانی ہو۔

(جاری ہے)

صوبائی حکومت میں کافی چیزیں ڈیجیٹائز کر دی ہیں اور بہت کچھ کرنا باقی ہے، مختلف شعبوں میں نظام کی ڈیجیٹائزیشن کے بہترین نتائج سامنے آرہے ہیں، صرف چالان کی ڈیجیٹائزیشن سے حکومت کو تقریباً 3 ارب روپے کا فائدہ ہوا۔

صحت کارڈ کی مانیٹرنگ شرو ع کی ، علاج معالجہ کی شرح بڑھنے کے باوجود 13 ارب روپے کم لاگت آئی، جب ہم حکومت میں آئے تو خزانہ خالی تھا اور اس وقت خزانے میں 190 ارب روپے موجود ہیں۔ ڈیجیٹائزیشن کا یہ سفر تیز رفتاری سے جاری ہے، امید ہے ہم اپنے اہداف جلد حاصل کر لیں گے، ہم انفارمیشن ٹیکنالوجی کے موثر استعمال کے ذریعے شفافیت اور میرٹ کو یقینی بناکر عوام کا اعتماد بحال کریں گے۔

وزیر اعلی علی امین خان گنڈاپور نے کہا کہ خیبر پاس ملک میں اپنی نوعیت کا پہلا اور منفرد ڈیجیٹل شناختی نظام ہے۔ یہ ڈیجیٹل شناختی پلیٹ فارم کیو آر کوڈ سسٹم پر مبنی ہے۔ خیبر پاس ڈیجیٹل شناختی نظام کو نادرا سسٹم اور دیگر سرکاری ریکارڈ کے ساتھ منسلک کیا جائے گا۔ خیبر پاس کے تحت صوبائی شہریوں کی تمام شناختی معلومات اور کوائف آن لائن دستیاب ہونگی۔

خیبر پاس کے تحت ڈیجیٹل اکاونٹ کے ذریعے شہری صوبائی حکومت کے تمام شہری خدمات اور سہولیات تک بآسانی رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس نظام سے شہریوں کو مختلف خدمات کے حصول کے لیے الگ الگ رجسٹریشن کرنے اور فارم بھرنےکی ضرورت نہیں پڑے گی۔ خیبر پاس کے تحت ایک ہی کیو کوڈ کے ذریعے صحت، تعلیم، ٹیکس، لائسنس، جائیداد سمیت دیگر خدمات حاصل کی جا سکیں گی۔

شناختی کیو آر کوڈ سے شہریوں کو تمام سہولیات اور خدمات آن لائن دستیاب ہونگی اور لوگوں کو الگ الگ دفاتر کے چکر لگانے اور قطاروں میں کھڑے ہونے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ تقریب میں وزیر اعلی نے ایبٹ آباد اور بنوں کے سٹیزن فیسیلیٹیشن سنٹرز کا بھی افتتاح کیا۔ سٹیزن فیسیلیٹیشن سنٹرز میں مختلف سرکاری محکموں کی عوامی خدمات ون ونڈو آپریشن کے تحت ایک ہی جگہ فراہم ہونگی۔

  ان مراکز میں عوامی خدمات کے محکموں کے تحت 19 مختلف خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔ منصوبے کے پہلے مرحلے میں صوبے کے تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں ایک ایک فیسیلیٹیشن سینٹر قائم کیا جا رہا ہے۔ منصوبے کے تحت ڈیرہ اسماعیل خان اور سوات میں دو سیٹیزن فیسیلیٹیشن سنٹرز کا افتتاح پہلے سے کیا جا چکا ہے۔ منصوبے کے دوسرے مرحلے میں یہ مراکز ہر ضلع کی سطح پر اور تیسرے مرحلے میں تحصیل سطح تک قائم کیے جائیں۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ڈیجیٹل شناختی نظام صوبائی حکومت خیبر پاس کے کے تحت کیا جا

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نوجوانوں کی خدمات کے اعتراف میں اداکار ادریس ایلبا کو نائٹ کا خطاب
  • کوہستان آپریشن سکینڈل: نیب نے 6 ارب سے زائد اثاثے خیبر پی کے حکومت کے حوالے کر دیئے
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی