پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین آباد حسن بخشی نے کہا کہ غیر معیاری بلڈنگیں کراچی میں لاکھوں کی تعداد میں ہیں، جو ناقص میٹریل سے تیار کی جاتی ہیں، خدا نخواستہ اگر شہر میں زلزلہ آئے گا تو یہ عمارتیں ڈھیر ہو جائیں گی۔ اسلام ٹائمز۔ ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے چیئرمین حسن بخشی کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت نے مخدوش عمارتیں گرانے کیلئے کوئی پلاننگ نہیں کی۔ کراچی میں چیئرمین آباد حسن بخشی نے سینئر وائس چیئرمین سید افضل ندیم کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 2017ء سے 2025ء تک عمارتیں گرنے کے 12 واقعات ہوئے، جس میں 150 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں 2 قسم کی عمارتیں گریں، جو مخدوش تھیں یا غیر قانونی تھیں، سندھ حکومت نے مخدوش عمارتوں کو گرانے کیلئے کوئی حکمت عملی مرتب نہیں کی، جو پلاٹ کا مالک ہوتا ہے، بلڈنگ مخدوش ہونے پر اس کا فائدہ ہوتا ہے۔ حسن بخشی نے کہا کہ پہلے مرحلے میں نجی اداروں کے ذریعے سروے کرایا جائے، جو عمارتیں رپیئرنگ ورک کے ذریعے ٹھیک ہو سکتی ہیں، ان کی مرمت کرائی جائے اور جن عمارتوں کو مرمت سے ٹھیک نہیں کیا جا سکتا، تو انہیں دوبارہ تعمیر کرانے کیلئے مالک کو پابند کیا جائے۔ 

حسن بخشی نے بتایا کہ کراچی میں لاکھوں عمارتوں پر اضافی منزلیں بنا کر کرپشن کا بازار گرم ہے، کراچی میں 5 سالوں کے دوران 85 ہزار عمارتوں پر غیر قانونی منزلیں بنا کر رہائشیوں کی زندگی داؤ پر لگا دی ہے، ایس بی سی اے اور بلدیاتی ادارے غیر قانونی بلڈنگ کی تعمیر میں معاونت فراہم کرتے ہیں۔ چیئرمین آباد کے مطابق عمارتوں میں مزید غیر قانونی تعمیرات سے مزید فلور ڈالے جاتے ہیں، ان تعمیرات سے عوام کی جان و مال کو داؤ پر لگایا دیا جاتا ہے، یہ بلڈنگ اور چھتوں کی لائف 15 سے 20 سال ہیں، ان تعمیرات میں مقامی انتظامیہ، پولیس اور متعلقہ حکام ملوث ہیں، جبکہ مالی طور پر کمزور افراد ان عمارتوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ حسن بخشی نے مطالبہ کیا کہ ایسے افراد کیخلاف سندھ حکومت سخت کارروائی کرے، یہ غیر معیاری بلڈنگیں کراچی میں لاکھوں کی تعداد میں ہیں، جو ناقص میٹریل سے تیار کی جاتی ہیں، خدا نخواستہ اگر شہر میں زلزلہ آئے گا تو یہ عمارتیں ڈھیر ہو جائیں گی، نیسپاک یا این ڈی ایم اے جیسے ادارے ان معاملات پر اپنا کردار ادا کریں، اگر آج اس معاملے کو سنجیدہ نہ لیا گیا تو اس شہر کو مزید نقصان ہوگا۔

چیئرمین آباد کا کہنا تھا کہ سندھ بلڈنگ کنڑول اتھارٹی کی کارکردگی کرپشن کا مظہر ہے، اسے ہم کو 2 حصوں میں تقسیم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں، اس میں انجنیئرنگ اور نقشہ منظور کرانے کے محکموں کو الگ کیا جائے، غیر قانونی عمارتوں کی تعمیر میں ملوٹ بلڈرز اور سرکاری افسران پر انسداد دہشتگردی عدالت کا مقدمہ دائر کیا جائے۔ چیئرمین آباد نے کہا کہ لیاری واقعے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو کم از کم 25 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان کرنا چاہیے، واقعے میں رہائش سے محروم افراد کو کم از کم صوبائی حکومت 10 لاکھ روپے معاوضہ فراہم کرے، اسی طرح لیاری واقعے میں ملوث افسران کی انکوائری ایس بی سی اے اور بلدیاتی افسران سے نہ کرائی جائے۔ حسن بخشی کا کہنا تھا کہ آباد سندھ حکومت کو مخدوش عمارتوں کی دیکھ بھال اور غیر قانونی بلڈنگ کیخلاف خدمات دینے کو تیار ہے

چیئرمین آباد نے کہا کہ ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے عوام سے 25 ارب روپے وصول کیے مگر 30 سال گزرنے کے باوجود قبضہ نہیں دیا، سندھ حکومت مخدوش عمارتوں کے متبادل کیلئے آباد یا انجینئرنگ کونسل کی مدد حاصل کرے۔ حسن بخشی کے مطابق ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز محکموں کی غفلت کی نشاندہی کر سکتا ہے اور یہ کام کر رہا ہے، آباد ان مخدوش عمارتوں کو 700 دن میں تعمیر کرنے کیلئے تیار ہے، دہلی کالونی، لیاقت آباد لیاری جیسے کئی علاقوں میں مخدوش عمارتوں کا جال ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح پنجاب میں مریم نواز گھروں کیلئے اسکیم دے رہی ہیں، سندھ حکومت بھی اسکیموں کا اعلان کرے، سندھ میں گھروں کی قلت برقرار ہے، جس کا فائدہ مافیا اٹھا رہا ہے، سندھ حکومت اگر آباد کو کہے کہ ایک لاکھ مکان چاہیئے تو ہم تعاون کیلئے تیار ہیں، ہمیں لوگوں کی آسانی کیلئے آگے بڑھنا ہے اور ہم اس کیلئے تیار ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کچی آبادیوں کی ازسرنو تعمیر کیلئے سندھ حکومت کو پیش کردہ منصوبے پر کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے، کراچی میں لاکھوں غیر قانونی عمارتوں کا جال بچھا ہوا ہے، بلاول بھٹو سے بھی مطالبہ کیا تھا کراچی کے ماسٹر پلان کا کیا بنا؟ کراچی کا ماسٹر پلان تاحال نہیں بنایا جا سکا ہے۔ حسن بخشی نے کہا کہ زمینی دستاویزات کو ڈیجیٹل نہ کرنے کیلئے سسٹم حرکت میں آ جاتا ہے، ہر جانب کرپشن عروج پر ہے، عدالت میں بروقت انصاف نہیں ملتا مقدمہ دائر کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت کراچی کا ماسٹر پلان بنانے میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کر رہی ہے، کراچی میں غیر قانونی عمارتوں کی تعمیرات میں صحافی بھی ملوث شامل ہیں، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے کراچی کے بلڈرز کی اہم ملاقات طے ہوگئی ہے، ان کی مشاورت سے لاہور میں نئے تعمیراتی منصوبوں کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کراچی میں لاکھوں مخدوش عمارتوں چیئرمین ا باد سندھ حکومت نے کہا کہ انہوں نے نہیں کی

پڑھیں:

حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری

صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اہلِ سنت پاکستان کراچی کے وفد نے حضرت علامہ سید شاہ عبد الحق قادری کی قیادت میں سندھ کے صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات میں دینی امور، مساجد، مدارس، محکمہ اوقاف کے زیر انتظام مزاراتِ اولیائے کرام کی دیکھ بھال زائرین کو سہولیات کی فراہمی سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد میں سید رفیق شاہ، مفتی بلال قادری، مولانا جمیل احمد امینی، عبداللہ میمن اور شفیع رانا قادری بھی شامل تھے۔ وفد نے صوبائی وزیر کو کراچی سمیت سندھ بھر میں مساجد، مدارس اور مزارات کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا اور مختلف تجاویز پیش کیں۔

شاہ عبد الحق قادری نے اس موقع پر کہا کہ حکومتی ادارے مساجد، مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان کریں۔ انہوں نے محکمہ اوقاف کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے، انتظامی مسائل کے حل اور مسلسل رابطہ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ صوبائی وزیر مذہبی امور و اوقاف سید ریاض شاہ شیرازی نے وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ دینی اداروں، مساجد، مدارس اور مزارات کے مسائل کے حل کو اہمیت دیتی ہے اور اس حوالے سے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفد کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو قابلِ قدر قرار دیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کیلئے کام کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی سمیت ملک کے جنوبی اور وسطی علاقوں میں بارشوں کی پیشگوئی، اربن فلڈنگ کا خدشہ
  • ایران کے بحرین اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات پر ڈرون حملے، طیارہ گرانے کا دعویٰ
  • تیسرے آپریشن کیلئے آنے والی خواتین کا مانع حمل کا آپریشن کیا جائےگا: وزیر صحت سندھ
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری