پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت اور قابض میئر اہل کراچی کیلئے عذاب بنے ہوئے ہیں، حافظ نعیم الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
افتتاحی تقریب سے خطاب میں امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ میں چالان پر کوئی اعتراض نہیں، قانون کی خلاف ورزی پر چالان ہوں لیکن پہلے ٹریفک کا معقول نظام ہونا چاہیئے، شہر کا انفرا اسٹرکچر صحیح ہونا چاہیئے، سستی اور معیاری ٹرانسپورٹ فراہم کی جائے، شہر کواس وقت پندرہ ہزار بسوں کی ضرورت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت اور قابض میئر اہل کراچی کے لیے عذاب بنے ہوئے ہیں، پیپلز پارٹی 17 سال سے حکومت کر رہی ہے، بلدیاتی اداروں، اختیارات و وسائل پر قابض ہے لیکن عوام کو ان کا حق دینے اور مسائل حل کرنے کے لیے تیار نہیں ہے، جماعت اسلامی بااختیار شہری حکومت کا نظام چاہتی ہے، لاڑکانہ ہو، شکارپور یا حیدرآباد اور کراچی، بلدیاتی اداروں کو با اختیار بنایا جائے، 17 سال میں کراچی کے لیے صرف 400 بسوں سے ٹرانسپورٹ کا مسئلہ حل نہیں ہوگا، ای چالان کا مسئلہ اگر بات چیت سے حل نہ ہوا تو مجبوراً احتجاج کا راستہ اختیار کرنا پڑے گا، صحت ہماری بنیادی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گلبرگ ٹاؤن کے تحت فیڈرل بی ایریا بلاک 18 ثمن آباد ہیلتھ کیئر یونٹ کے افتتاح کے موقع پر منعقدہ تقریب اور بلاک 8 عزیز آباد میں شاہراہ نعمت اللہ خان کا سنگِ بنیاد رکھنے کے بعد علاقہ مکینوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ہمیں چالان پر کوئی اعتراض نہیں، قانون کی خلاف ورزی پر چالان ہوں لیکن پہلے ٹریفک کا معقول نظام ہونا چاہیئے، شہر کا انفرا اسٹرکچر صحیح ہونا چاہیئے، سستی اور معیاری ٹرانسپورٹ فراہم کی جائے، شہر کواس وقت پندرہ ہزار بسوں کی ضرورت ہے، سندھ حکومت 17 سال میں صرف 400 بسیں لاسکی ان میں سے بھی معلوم نہیں کتنی چل رہی ہیں، سڑکیں ٹوٹی ہیں،گٹر بہہ رہے ہیں، پنجاب میں جو چالان 200 روپے کا ہے وہی کراچی میں 5000 روپے کا ہے، بہت افسوس کی بات ہے کہ ٹریفک پولیس میں کراچی کے 10 فیصد شہری بھی نہیں ہیں، کراچی میں معیاری ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے باعث پچاس لاکھ لوگ موٹر سائیکل چلانے پر مجبور ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ہونا چاہیئے
پڑھیں:
24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
علامتی فوٹوحکومت نے مسلسل تیسرے روز پیٹرول جبکہ چوتھے روز ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں اضافہ کردیا ہے۔
اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔ اسی طرح ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
اس میں کہا گیا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں 24 جولائی کے لیے ہوں گی۔
خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ خطے کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر روزانہ کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کیا جائے گا۔
اوگرا وزیراعظم یا حکومت کی منظوری کے بغیر قیمتوں کا اعلان کرے گا، جبکہ ہفتہ اور اتوار کو گزشتہ اعلان کردہ قیمتیں برقرار رہیں گی۔
یومیہ اعلان کے تحت اب تک کی تبدیلیعلم میں رہے کہ 21 جولائی کےلیے حکومت نے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 35 پیسے کمی جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 71 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔
22 جولائی کیلئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 93 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 15 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا تھا۔
اسی طرح 23 جولائی کےلیے حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا تھا۔