میری دعا ہے کہ کراچی اپنی پرانی عظمت کو بحال کر سکے: احسن اقبال
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
—فائل فوٹو
وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ میری دعا ہے کہ کراچی اپنی پرانی عظمت کو بحال کر سکے۔ میرے بچپن میں کراچی ترقی یافتہ اور روشنیوں کا شہر ہوا کرتا تھا۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلی سے چوتھی جماعت تک عائشہ باوانی اسکول میں پڑھا ہوں، طالبعلم اسکول میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں کل کو کوئی بھی ملک کا وزیر بن سکتا ہے۔
احسن اقبال کا کہنا ہے کہ باوانی فیملی کی تعلیم میں بہت کاوشیں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں ہم سب سے پیچھے ہیں، ہمارے تعلیمی ادارے فقط روزگار مہیا کرنے کے لیے نہیں بلکہ مستقبل کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ مستقبل کی جنگ ہے جو لیبارٹریز کے اندر لڑی جا رہی ہے، نئی ایجادات ہونی چاہئیں تاکہ دنیا کے ساتھ مقابلہ کر سکیں، او لیول اور اے لیول کو بڑھاوا دیا ہے، اس سے ہماری روٹس خراب ہو گئی ہیں۔ ہمیں شیکسپیئر کا معلوم ہوگا لیکن اپنے ہیروز کا علم نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے منفی نظریات کا پھیلاؤ بہت خطرناک ہے، منفی پروپیگنڈا اور منفی نظریات کی وجہ سے مجھ پر چلائی گئی گولی ابھی تک میرے جسم میں ہے، ہمیں اپنے نوجوانوں کو منفی نظریات سے بچانا ہو گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔