کراچی کے علاقے لیاری بغدادی میں 2 روز قبل زمین بوس ہونے والی 5 منزلہ خستہ حال عمارت کے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کا ریسکیو آپریشن تیسرے روز بھی جاری ہے۔ ریسکیو حکام نے تصدیق کی ہے کہ اب تک ملبے سے 26 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جن میں 12 مرد، 9 خواتین اور 5 بچے شامل ہیں۔

ریسکیو افسر کے مطابق ملبے تلے اب بھی مزید 3 افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ہے، جنہیں نکالنے کے لیے آپریشن پوری شدت سے جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملبہ ہٹانے کا 80 فیصد کام مکمل کیا جا چکا ہے، تاہم آپریشن مکمل ہونے میں مزید 8 سے 10 گھنٹے لگ سکتے ہیں۔

ریسکیو اہلکاروں کا کہنا ہے کہ منہدم عمارت کے نچلے حصے میں رکشے پارک کیے جاتے تھے اور قریباً 50 رکشے بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب پولیس نے متاثرہ عمارت کے اطراف کی دیگر عمارتوں کو خالی کرا کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

مزید پڑھیں:کراچی میں خستہ حال عمارت گرنے سے ہونے والی اموات کی تعداد میں مسلسل اضافہ

واقعے کے روز، جمعہ کی صبح، لیاری بغدادی میں واقع رہائشی عمارت اچانک گر گئی تھی، جس کے نتیجے میں ابتدائی طور پر 10 افراد جاں بحق اور 9 زخمی ہوئے تھے۔ سول اسپتال کراچی کے اعداد و شمار کے مطابق 9 لاشیں اسپتال لائی گئیں، جبکہ ایک شخص دورانِ علاج چل بسا۔ پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے اموات کی تصدیق کی تھی۔

شہید محترمہ بینظیر بھٹو انسٹیٹیوٹ آف ٹراما کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر صابر میمن کے مطابق زخمی ہونے والے افراد میں سے 6 کو طبی امداد کے بعد ڈسچارج کر دیا گیا تھا۔

واقعے کے بعد وزیربلدیات سعید غنی نے انکشاف کیا کہ متاثرہ عمارت کو 2 جون 2025 کو آخری نوٹس جاری کیا گیا تھا اور یوٹیلٹی سروسز منقطع کرنے کے لیے خطوط بھی لکھے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال مئی میں بھی عمارت خالی کرانے کی ہدایت کی گئی تھی۔

سعید غنی نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کے متعلقہ افسران کو معطل کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں اور تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

مزید پڑھیں:کراچی: لیاری میں 107 مخدوش عمارتیں، 22 انتہائی حساس قرار، ڈپٹی کمشنر ساؤتھ

یاد رہے کہ دسمبر 2024 میں سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے حکومت سندھ کو ہدایت دی تھی کہ کراچی میں خطرناک قرار دی گئی 570 سے زائد عمارتوں کو فوری خالی کرانے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں تاکہ انسانی جانوں کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔

ایس بی سی اے کے ڈائریکٹر جنرل نے کمیٹی کو بتایا تھا کہ سندھ بھر میں خطرناک قرار دی گئی عمارتوں کی تعداد یوں ہے، کراچی میں 570، حیدرآباد میں 80، میرپور خاص میں 81، سکھر میں 67 اور لاڑکانہ میں 4۔

متاثرہ علاقے میں تاحال خوف اور بے یقینی کی فضا قائم ہے، جبکہ متاثرہ خاندانوں نے حکام سے فوری انصاف اور متاثرین کے لیے مالی امداد کا مطالبہ کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

26 جاں بحق سعید غنی سندھ حکومت عمارت منہدم کراچی لیاری مخدوش عمارت ملبہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سندھ حکومت کراچی لیاری کے لیے

پڑھیں:

گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔

(جاری ہے)

حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔                                                              

متعلقہ مضامین

  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد