کراچی، لیاری میں عمارت کے حادثے میں سرکاری غفلت کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
عمارت 2022ء میں تین منزلہ ہونے پر ہی خطرناک قرار دے کر تیسری منزل گرانے کا سرکاری فیصلہ ہو چکا تھا، لیکن پھر کیا جادو ہوا کہ تیسری منزل گرانے کے بجائے دو منزلیں اور تعمیر ہوگئيں۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد کے علاقے لیاری بغدادی میں 5 منزلہ عمارت کے گرنے میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) اور ضلعی انتظامیہ کی نااہلی سامنے آگئی۔ تفصیلات کے مطابق عمارت حادثہ میں سرکاری غفلت کا انکشاف ہوا ہے، عمارت 2022ء میں تین منزلہ ہونے پر ہی خطرناک قرار دے کر تیسری منزل گرانے کا سرکاری فیصلہ ہو چکا تھا، لیکن پھر کیا جادو ہوا کہ تیسری منزل گرانے کے بجائے دو منزلیں اور تعمیر ہوگئيں، لوگ آباد کرکے انہيں جانتے بوجھتے موت کے منہ میں دھکیل دیا گيا۔ کراچی کے علاقے لیاری بغدادی فدا حسین شیخا روڈ پر واقع 5 منزلہ عمارت کو خطرناک قرار دینے کے باوجو خالی کیوں نہیں کروایا گیا؟ پلاٹ نمبر 29 ایل وائی پر بنی عمارت گاڈا پیلس ایک کمپاؤنڈ نما جگہ پر ڈھائی سو گز کے رقبے پر بنی ہوئی تھی۔
1974ء میں بننے والی عمارت قانونی طور پر تین منزلہ تھی، لیکن چند سال قبل عمارت مخدوش ہونا شروع ہو ئی، جس کے بعد 2022ء میں اسے خطرناک قرار دے دیا گیا اور رپورٹ دی گئی کہ عمارت کی تیسری منزل کو توڑ کر بقیہ عمارت لائسنس یافتہ اسٹراکچر انجینئر سے مرمت کروائی جائے، تو عمارت رہنے کے لائق ہو جائے گی، لیکن رپورٹ میں دی گئی تجاویز پر کام ہونا تو دور الٹا 2022ء کے بعد تین منزلہ عمارت پر مزید دو غیر قانونی فلورز بلڈرز مافیا کی جانب سے سرکاری افسران کی مبینہ ملی بھگت کے ساتھ تعمیر کر دیے گئے اور نچلی منزلوں کی مرمت بھی نہیں کی گئی۔ غیر قانونی فلورزکی تعمیرات کے بعد سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ویجیلنس ٹیم نے غیر قانونی منزلوں کی رپورٹ دی اور نا ہی ڈینجرس بلڈنگ قرار دینے والی ٹیم نے اس پر کوئی ایکشن لیا۔
2023ء سے 2025ء تک دستاویزات میں 5 منزلہ عمارت کو 3 منزلہ عمارت دکھا کر خطرناک قرار دیا جا تا رہا، افسوس اس پر کہ اس غفلت پر ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے بھی اپنی آنکھیں بند رکھیں۔ ان دستاویزاتی ثبوت سے سوالات اٹھتے ہیں کہ تین منزلہ عمارت جب غیر قانونی قرار دے دی گئی اس اس پر اضافی فلور کیسے بنے؟ جب مخدوش عمارت پر تعمیرات جاری تھیں، تب ایس بی سی اے کی ویجیلنس ٹیم نے رپورٹ کیوں نہیں کیا؟ بلڈنگ کو خطرناک قرار دینے والی ٹیم نے 5 منزلہ عمارت کی دستاویزات میں کیوں تین منزلہ دکھایا اور خالی کروانے کے نوٹسز دیے؟ اس سب کے دوران ضلعی انتظامیہ کہاں تھی؟ جب گیس بجلی منقطع کرنے کیلئے متعلقہ اداروں کو خط لکھا گیا تو گیس بجلی پانی کی فراہمی کیوں منقطع نہیں کی گئی؟
یہ سب وہ سوالات ہیں جنہوں نے تمام متعلقہ محکمہ جات کی کارکردگی پر سوالیہ نشان پیدا کر دیا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ اس سانحے میں جاں بحق ہونے والے اور زخمیوں کے دکھ کا ازالہ ہو سکے گا یا نہیں۔ گزشتہ روز گرنے والی عمارت کے ملبے سے ہفتے کے روز مزید 6 لاشیں نکال لی گئيں، جاں بحق افراد کی تعداد 21 ہوگئی، اب بھی 10سے 12 افراد ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ ریسکیو آپریشن جاری ہے حکام کے مطابق ملبا ہٹانے میں مزید کچھ وقت لگے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تیسری منزل گرانے خطرناک قرار منزلہ عمارت تین منزلہ ٹیم نے
پڑھیں:
عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کا اپنی قبر تیار کرنے کا انکشاف
پاکستان کے لیجنڈری گلوکار عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی(Attaullah Khan Esakhelvi) نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں اپنی آخرت کی تیاری اور اپنی قبر سے متعلق گفتگو کی ہے۔
عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی نے پوڈکاسٹ میں بتایا کہ میں نے اپنی قبر پہلے ہی تیار کروا لی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے آخرت کی تیاری کر لی ہے، میری قبر عیسیٰ خیل میں تیار ہے، اگر آپ میری زندگی میں آئیں گے تو میں آپ کو دکھا دوں گا، ورنہ بعد میں خود دیکھ لیں گے، ہمارا خاندانی قبرستان ہے اور میں نے وہاں اپنے لیے ایک قبر مخصوص کروا رکھی ہے، ساتھ کچھ مزید جگہ بھی ہے، ایک میری اہلیہ کے لیے بھی ہے، اگرچہ یہ بات میں نے مذاق میں کہی تھی، اصل میں صرف اپنی قبر تیار کروائی ہے، اللّٰہ تعالیٰ ہم سب پر رحم فرمائے۔
مزیدپڑھیں:بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی نے بتایا کہ فارم ہاؤس اور مسجد تعمیر کروانے کے بعد میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ اپنی آخری آرام گاہ بھی وہیں ہونی چاہیے۔
گلوکار کا کہنا ہے کہ والدہ، عزیز و اقارب اور قریبی دوستوں کی وفات نے مجھے زندگی اور موت کے بارے میں زیادہ سوچنے پر مجبور کیا اور میں صرف اتنی دعا کرتا ہوں کہ اللّٰہ مجھے پُرسکون موت عطاء فرمائے۔
عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کے اس بیان پر سوشل میڈیا صارفین کی مختلف آراء سامنے آئی ہیں۔