پنجاب بھر میں غیرقانونی طور پر رکھے گئے شیروں اور دیگر خطرناک جانوروں کے خلاف ایک بڑا کریک ڈاؤن شروع کر دیا گیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی خصوصی ہدایت پر پنجاب وائلڈ لائف رینجرز نے صوبہ بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کارروائی کرتے ہوئے 18 شیر بازیاب کر لیے ہیں اور مختلف شہروں سے 5 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

پنجاب وائلڈ لائف نے کارروائیوں کے دوران 5 مقدمات بھی درج کیےاور بتایا کہ دو کیسز زیر تفتیش ہیں۔

ڈی جی وائلڈلائف پنجاب کے مبین الہٰی کی سربراہی میں لاہور کے علاقہ بیدیاں روڈ میں ایک نجی بریڈنگ فارم سے پانچ شیر برآمد کیے گئے جن میں تین نر اور دو مادہ شیر شامل ہیں۔

ایکسپریس نیوز کو انٹرویو میں ڈی جی وائلڈلائف پنجاب مبین الہٰی نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران  صوبے بھر میں  مختلف مقامات پر انسپکشن کی گئی، لاہور میں 9 شیر تحویل میں لیے گئے اور 4 افراد گرفتار ہوئے، ایک احاطہ سیل اور 3 مقدمات درج کیے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ گوجرانوالہ سے 4 شیر برآمد کیے گئے، ایک ایف آئی آر زیر کارروائی ہے، فیصل آباد میں 2 شیر تحویل میں لیے گئے، ایک احاطہ سیل کیا گیا اور ایک مقدمہ زیر تکمیل ہے، ملتان سے 3 شیر بازیاب کرائے گئے، ایک شخص گرفتار اور دو ایف آئی آرز درج کی گئیں۔

مبین الہٰی نے بتایا کہ بگ کیٹس کی کسی صورت شہری آبادیوں میں رکھنے کی اجازت نہیں دیں گے اور خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رہے گا۔

وائلڈ لائف رینجرز کے مطابق پنجاب میں اس وقت 587 "بِگ کیٹس" کی موجودگی ظاہر کی گئی ہے تاہم حکام کا خیال ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ بہت سے جانور غیرقانونی طور پر شہری یا دیہی علاقوں میں پالے جا رہے ہیں۔

پنجاب کی سینئر وزیر اور جنگلات مریم اورنگزیب نے خبردار کیا ہے کہ جنگلی حیات کا غیرقانونی کاروبار ناقابل برداشت ہے اور عوامی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ غیرقانونی طور پر شیر رکھنا نہ صرف سنگین جرم ہے بلکہ معاشرتی خطرہ بھی ہے۔

مریم اورنگزیب نے مزید کہا کہ زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور وائلڈ لائف قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا، "قانون سے کوئی بھی بالاتر نہیں"۔

وائلڈ لائف رینجرز  نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کہیں غیرقانونی طور پر شیر یا دیگر خطرناک جانور رکھے جانے کی اطلاع ہو تو فوری طور پر ہیلپ لائن 1107 پر اطلاع دیں تاکہ بروقت کارروائی کی جا سکے۔

دوسری طرف جانوروں کے حقوق کی وکیل عزت فاطمہ نے کہا غیرقانونی بگ کیٹس رکھنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن احسن اقدام ہے، وائلڈلائف کو خطرناک جانور نجی تحویل میں رکھنے سے متعلق مزید موثر اور سخت کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بگ کیٹس رکھنے کا لائسنس صرف ایسے افراد کو ملنا چاہیے جو بین الاقوامی معیار کے مطابق بریڈنگ فارم بنائے، بگ کیٹس کے علاوہ دیگر نایاب جنگی حیات گھروں میں رکھنے والوں کے خلاف بھی کارروائیاں ہونی چاہیں۔

ماحولیاتی اور اینیمل رائٹس وکیل التمش سعید کہتے ہیں کہ سرکس میں شیروں کا کھیل تماشا دکھانے والوں کے خلاف بھی کریک ڈاؤن کیا جائے اور انہوں نے اس حوالے سے لاہور ہائی کورٹ میں پٹیشن بھی دائر کر رکھی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وائلڈ لائف کریک ڈاؤن بتایا کہ انہوں نے کے خلاف بگ کیٹس

پڑھیں:

آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع

فائل فوٹو 

آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع ہوگئی، میرپور ڈویژن میں انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہوئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی ہدایت پر پی ٹی اے نے انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا عمل شروع کیا، آزاد کشمیر میں 5 جون سے انٹرنیٹ سروس معطل تھی۔

آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال کے باعث انٹرنیٹ سروس بند کی گئی تھی، چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حکومت سے انٹرنیٹ بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

متعلقہ مضامین

  • فلک جاوید اور صنم جاوید کےخلاف ٹویٹ کیس کی سماعت ملتوی
  • چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • گوجرانوالہ: ایجنٹ مافیا کے خلاف ایف آئی اے کا کریک ڈاؤن، 15 گرفتار
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع