لیاری سانحہ پیپلز پارٹی کی لاپروائی اور کرپشن کا نتیجہ ہے، عوامی تحریک
اشاعت کی تاریخ: 6th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) عوامی تحریک کے مرکزی صدر ایڈووکیٹ وسند تھری، مرکزی سینئر نائب صدر نور احمد کاتیار، مرکزی رہنما ڈاکٹر رسول بخش خاصخیلی اور نور نبی پلیجو نے اپنے مشترکہ پریس بیان میں لیاری سانحہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انسانی المیا پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کی لاپرواہی اور کرپشن کا نتیجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سمیت تمام متعلقہ ادارے بھتہ خوری میں مصروف ہیں، جس کے باعث خستہ حال عمارتیں بھی کرائے پر دی جارہی ہیں۔ ہاؤسنگ سوسائٹیز میں کمرشل تعمیرات عام ہوچکی ہے۔ بلڈر مافیا کی رشوت پیپلز پارٹی کی رگ رگ میں بسی ہوئی ہے۔رہنماؤں نے کہا کہ سندھ حکومت کی سرپرستی میں بلڈر مافیا غیر قانونی عمارتیں تعمیر کر رہی ہے۔ عوامی تحریک کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ بلڈر مافیا اور ان کے سہولت کار سندھ حکومت کے کارندوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے، اور لیاری میں عمارت گرنے کے نتیجے میں جاں بحق افراد کے قتل کی ایف آئی آر بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور سندھ حکومت کے متعلقہ ذمہ دار افسران کے خلاف درج کی جائے ۔ دوسری جانب، سندھ میں بڑھتے ہوئے اغواء اور ڈکیتی کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عوامی تحریک کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے سندھ کو اغواء انڈسٹری کا مرکز بنا دیا ہے۔کچے کے ڈاکوؤں کو سرکاری سرپرستی میں نیٹو کے ہتھیار فراہم کیے جا رہے ہیں۔رہنماؤں نے کہا کہ سندھ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے پریا کماری گزشتہ چار سالوں سے ڈاکوؤں کی قید میں ہے اور حکومت نے اس کی بازیابی کے لیے کچھ بھی نہیں کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی کی عوامی تحریک سندھ حکومت نے کہا
پڑھیں:
بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
اسلام آباد (ًؐنمائندہ خصوصی +نوائے وقت رپورٹ) وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کا 3 جون کو ہونے والا اجلاس ملتوی ہو گیا جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ پیش کرنے کی نئی تاریخ کا تعین نہیں ہو سکا، دوسری جانب ذرائع قومی اسمبلی کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی وجہ سامنے آگئی۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق حکومت بجٹ اجلاس سے قبل اہم قانون سازی کرنا چاہ رہی ہے، قانون سازی کے آئندہ وفاقی بجٹ سے متعلق اہم اثرات ہوں گے تاہم پیپلز پارٹی قانون سازی کے حق میں نہیں ہے۔ پارلیمانی ذرائع کا بتانا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شگر ویلی میں اپنے خطاب میں واضح پیغام دیا ہے، پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالفت کر رہی ہے۔ بجٹ اجلاس سے قبل ترامیم نہ ہو سکیں تو آئندہ مالی سال میں تبدیلیاں نہیں آسکیں گی۔ پارلیمانی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پیپلز پارٹی کو منانے کے لیے اہم شخصیات کو ٹاسک دے دیا گیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری فی الحال گلگت بلتستان میں الیکشن مہم میں مصروف ہیں، بلاول بھٹو زرداری کو منانے کے بعد ہی بجٹ اجلاس کی نئی تاریخ دی جا سکے گی۔وزارت خزانہ میں پیپلز پارٹی اور حکومتی ٹیم کے درمیان اجلاس ختم ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کئے جا سکے۔ پی پی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہو گا۔