data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) عوامی تحریک کے مرکزی صدر ایڈووکیٹ وسند تھری، مرکزی سینئر نائب صدر نور احمد کاتیار، مرکزی رہنما ڈاکٹر رسول بخش خاصخیلی اور نور نبی پلیجو نے اپنے مشترکہ پریس بیان میں لیاری سانحہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انسانی المیا پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کی لاپرواہی اور کرپشن کا نتیجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سمیت تمام متعلقہ ادارے بھتہ خوری میں مصروف ہیں، جس کے باعث خستہ حال عمارتیں بھی کرائے پر دی جارہی ہیں۔ ہاؤسنگ سوسائٹیز میں کمرشل تعمیرات عام ہوچکی ہے۔ بلڈر مافیا کی رشوت پیپلز پارٹی کی رگ رگ میں بسی ہوئی ہے۔رہنماؤں نے کہا کہ سندھ حکومت کی سرپرستی میں بلڈر مافیا غیر قانونی عمارتیں تعمیر کر رہی ہے۔ عوامی تحریک کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ بلڈر مافیا اور ان کے سہولت کار سندھ حکومت کے کارندوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے، اور لیاری میں عمارت گرنے کے نتیجے میں جاں بحق افراد کے قتل کی ایف آئی آر بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور سندھ حکومت کے متعلقہ ذمہ دار افسران کے خلاف درج کی جائے ۔ دوسری جانب، سندھ میں بڑھتے ہوئے اغواء اور ڈکیتی کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عوامی تحریک کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے سندھ کو اغواء انڈسٹری کا مرکز بنا دیا ہے۔کچے کے ڈاکوؤں کو سرکاری سرپرستی میں نیٹو کے ہتھیار فراہم کیے جا رہے ہیں۔رہنماؤں نے کہا کہ سندھ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے پریا کماری گزشتہ چار سالوں سے ڈاکوؤں کی قید میں ہے اور حکومت نے اس کی بازیابی کے لیے کچھ بھی نہیں کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی کی عوامی تحریک سندھ حکومت نے کہا

پڑھیں:

سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے

سکھر:

سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔

مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔

دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔

سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔

سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔

صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔

سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔

انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔

سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو