کراچی: سربراہ جے ڈی سی ظفرعباس کی تیز رفتار گاڑی کی موٹرسائیکل کو ٹکر، 2 نوجوان شدید زخمی
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
شارع پاکستان انچولی کے قریب جے ڈی سی کے سربراہ سید ظفرعباس کی تیز رفتار گاڑی نے موٹر سائیکل کو ٹکرمار دی جس کے باعث موٹر سائیکل سوار 2 نوجوان شدید زخمی ہوگئے۔
رپورٹ کے مطابق اتوار اور پیر کی درمیانی شب سمن آباد تھانے کے علاقے شارع پاکستان انچولی کے قریب تیز رفتار سیاہ ریوو رجسٹریشن نمبرایل ایچ 0110 نے موٹر سائیکل سواروں کو ٹکرماری اور موقع سے فرار ہوگئی۔
حادثے کے باعث ریوو کی نمبر پلیٹ گر گئی جسے موقع پر موجود شہریوں نے اٹھالیا، حادثے کے نتیجے میں موٹر سائیکل پر سوار 2 نوجوان شدید زخمی ہوگئے جنہیں پہلے شارع فیصل پر واقعے نجی اسپتال اور بعدازاں اسٹیڈیم روڈ پرواقع نجی اسپتال منتقل کردیا گیا۔
زخمی نوجوانوں کی شناخت عبدالاحد ولد محمد حنیف اور حنیف ولد ابراہیم کے ناموں سے کی گئی، زخمی نوجوانوں کی عمریں 18 سے19 سال کے درمیان ہیں، حادثے میں شدید زخمی ہونے والے نوجوان عبدالاحد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
حادثے میں زخمی ہونے والے دونوں نوجوان آپس میں کزن اورعزیز آباد محمدی کالونی کے رہائشی ہیں۔
ایس ایچ اوسمن آباد رانا اجمل نے بتایا کہ جس ریوو ڈالے نے موٹرسائیکل سواروں کو ٹکر ماری وہ ڈالا جے ڈی سی کے سربراہ سید ظفرعباس کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔
حادثے کے وقت ریوڈالا سید ظفرعباس کا ڈرائیور چلا رہا تھا، حادثے کے بعد دونوں زخمی نوجوانوں کو شارع فیصل پرایک نجی اسپتال منتقل کیا گیا۔
نجی اسپتال میں سید ظفرعباس بھی پہنچے اور دونوں زخمی نوجوانوں کواسٹیڈیم روڈ پر واقع نجی اسپتال منتقل کرادیا، نجی اسپتال میں شدید زخمی نوجوان وینٹیلیٹر پر ہے۔
پولیس افسر نے بتایا کہ حادثے کی اطلاع ملنے پرپولیس جائے حادثہ پر پہنچی تھی، حادثے کے بعد ریوو ڈالے اورڈرائیورکوغائب کرا دیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس زخمی نوجوانوں کے بیانات قلمبند کرنے کے لیےاسپتال گئی تھی، زخمی نوجوانوں کی حالت ایسی نہیں تھی کہ ان کے بیانات قلمبند کیے جاتے۔
زخمی نوجوانوں کے اہلخانہ نے پہلے علاج مکمل ہونے اور بعد میں کارروائی کرانے کا کہا۔
ایس ایچ او نے بتایا کہ پولیس کے پاس سید ظفرعباس کی گاڑی کا رجسٹریشن نمبر اور ڈرائیورکا نام اور نوجوانوں کی موٹر سائیکل موجود ہے۔
پولیس زخمی نوجوانوں کے بیانات قلبند کرنے کے بعد قانونی کارروائی کرے گی، انھوں نے کہا کہ حادثے سے متعلق مزید معلومات بھی اکٹھی کی جا رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: زخمی نوجوانوں موٹر سائیکل نوجوانوں کی زخمی نوجوان نجی اسپتال حادثے کے
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔