جرمنی، سائیکلنگ چیمپئن شپ میں سائیکلسٹ تماشائیوں میں جا گھسے، 9 افراد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
DUDENHOFEN:
جرمن ٹریک سائیکلنگ چیمپئن شپ کا آخری دن اس وقت ملتوی کر دیا گیا جب دو سائیکلسٹس کے حادثے کے نتیجے میں متعدد تماشائی زخمی ہو گئے۔
یہ واقعہ مینز کیرین سیمی فائنلز کے آخری موڑ پر پیش آیا، جب دو سائیکلسٹس تقریباً 35 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے تماشائیوں کی جانب جا گرے۔
حادثے میں 2 سائیکلسٹس سمیت 7 تماشائی زخمی ہوئے، جن میں سے کچھ کی حالت تشویش ناک تھی، اور دو کو اسپتال پہنچانے کے لیے ہیلی کاپٹر کا استعمال کیا گیا۔ دونوں سائیکلسٹس معمولی زخمی ہوئے۔
حادثے کے فوراً بعد دو ہیلی کاپٹر چھ ایمبولنسیں اور ایمرجنسی ڈاکٹر موقع پر پہنچے۔
جرمن سائیکلنگ کے مارکیٹنگ اور کمیونیکیشن افسر اولیور اسٹریک نے کہا کہ کھیلوں اور تماشائیوں کی صحت ہمیشہ اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ اس لیے ایونٹ کو منسوخ کرنا ناگزیر تھا۔ زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعائیں دی جاتی ہیں۔
ڈوڈنہوفن سائیکلنگ کلب کے چیئرمین جینس ہارٹ وِگ نے کہا کہ میں اس حادثے سے صدمے میں ہوں۔ ہم نے یہاں پانچ دنوں تک سائیکلنگ فیسٹیول کا انعقاد کیا تھا، اور کوئی بھی نہیں چاہتا تھا کہ ایونٹ اس طرح ختم ہو۔ میں تمام متاثرین کی جلد اور مکمل صحت یابی کی دعا گو ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
برلن: جرمنی نے بحیرۂ احمر میں تعینات اپنے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ممکنہ مشن کی فوری ضرورت باقی نہیں رہی۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق واپس بلائے جانے والے جہازوں میں ’فلڈا‘ نامی مائن ہنٹر اور ’موزیل‘ نامی سپورٹ شپ شامل ہیں۔ دونوں جہاز جون میں نہرِ سویز کے راستے بحیرۂ احمر پہنچے تھے اور اس وقت جبوتی میں تعینات تھے۔
ان جہازوں کے ساتھ تقریباً 140 اہلکار بھی موجود تھے، جن میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے غوطہ خور، خودکار زیرِ آب نظام کے ماہرین اور سکیورٹی ٹیمیں شامل تھیں۔
جرمن حکام کے مطابق ان بحری جہازوں کو اس خدشے کے پیش نظر تیار رکھا گیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھاتا ہے تو انہیں فوری کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مشن کا انحصار سیاسی اور سفارتی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران اور عمان سمیت علاقائی ممالک کی رضامندی پر ہوگا۔
وزارتِ دفاع نے کہا کہ یہ بحری مشن کسی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں تھا بلکہ یورپی ممالک کی جانب سے عالمی بحری راستوں پر آزادانہ جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ تھا۔
اگرچہ یہ دونوں جہاز واپس بلائے جا رہے ہیں، تاہم جرمنی بدستور یورپی یونین کے آپریشن اسپائیڈیز میں شامل رہے گا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو یمن کے حوثی گروپ کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اس کے علاوہ جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان کے ساحل پر اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفل میں اپنی بحری شمولیت بھی 2026 کے اختتام تک برقرار رکھے گا۔
جرمن حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فوری خطرات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں عالمی جہاز رانی ایک مرتبہ پھر متاثر ہو سکتی ہے۔