غریب کا علاج خواب بن گیا، صحت کی سہولیات مزید مہنگی
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ملک بھر میں علاج معالجے کے اخراجات میں ہوشربا اضافہ غریب عوام کے لیے صحت کی بنیادی سہولیات بھی خواب بنتا جا رہا ہے۔ مہنگی دوائیں، بڑھتی کلینک فیسیں اور اسپتالوں کے اخراجات نے شہریوں کی مشکلات دوچند کر دی ہیں۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران ادویات کی قیمتوں میں 15.
جون کے مہینے میں بھی صحت کی سہولیات مزید مہنگی ہوئیں۔ رپورٹ کے مطابق جون میں ادویات کی قیمتوں میں 0.63 فیصد اور مجموعی صحت سہولیات میں 0.99 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ سالانہ بنیاد پر صحت کے شعبے میں مہنگائی کی شرح 12.63 فیصد رہی۔
ڈاکٹروں کی کلینک فیسوں میں بھی اضافہ جاری ہے۔ جون کے دوران کلینک فیسوں میں 1.32 فیصد اضافہ دیکھا گیا جبکہ پچھلے بارہ ماہ میں کلینک فیسیں 12.80 فیصد تک بڑھ چکی ہیں۔
ڈینٹل سروسز کی بات کریں تو جون میں ان کی قیمتیں 1.54 فیصد مزید بڑھ گئیں، جس کے بعد سالانہ بنیاد پر ان میں مجموعی اضافہ 26.66 فیصد تک جا پہنچا۔
رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ میڈیکل ٹیسٹ کی فیسیں جون میں 1.52 فیصد مہنگی ہوئیں اور سالانہ بنیاد پر ان میں 6.99 فیصد اضافہ ہوا۔ اسپتالوں کی سہولیات جون میں 1.27 فیصد مہنگی ہوئیں اور سال کے دوران ان کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 8.30 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت صحت کے شعبے میں اصلاحات لانے اور قیمتوں میں کمی کے اقدامات کرے، کیونکہ مہنگے علاج نے عام آدمی کو دوا اور ڈاکٹر دونوں سے دور کردیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فیصد اضافہ قیمتوں میں
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔