بجٹ 26-2025: آن لائن کاروبار اور امپورٹڈ اشیا پر نئے ٹیکسز سے چھوٹے تاجر پریشان
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
حکومت نے نئے مالی سال کے بجٹ میں آن لائن خرید و فروخت سے وابستہ کاروباروں پر مختلف ٹیکسز عائد کیے ہیں جن کے باعث چھوٹے تاجروں اور گھریلوں سطح پر کاروبار کرنے والے افراد شدید متاثر ہو رہے ہیں۔
واضح رہے کہ نئے بجٹ کے تحت نقد ادائیگی پر خریدی گئی اشیاء پر اب 2 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس اور 2 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہوگا، جسے کورئیر کمپنیاں وصول کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف اقسام کی اشیاء پر کیٹیگری کے لحاظ سے بھی ٹیکس لاگو کیا گیا ہے جیسے الیکٹرانکس پر 0.
یہ بھی پڑھیے: انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء میں ترمیم منظور، پراپرٹی کی فروخت پر ود ہولڈنگ ٹیکس میں اضافہ
سب سے زیادہ اثر غیر ملکی ای کامرس ویب سائٹس جیسے ایمازون، علی ایکسپریس اور ٹیمو سے منگوائے گئے سامان پر پڑا ہے۔ ان پلیٹ فارمز پر اب ڈیجیٹل سروسز ٹیکس کی مد میں 5 فیصد اضافی چارج کیا جا رہا ہے، جس کے باعث ایسی اشیاء کی قیمتوں میں 200 سے 300 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ ریسیلرز کے مطابق وہ اب وہی اشیاء 3 گنا قیمت پر درآمد کرنے پر مجبور ہیں، جو پہلے آسانی سے منگوائی جا سکتی تھیں۔
مقامی سطح پر کاروبار کرنے والے افراد بھی ان ٹیکسز سے پریشان ہیں۔ گھریلو سطح پر کپڑے، کاسمیٹکس، اور دیگر چھوٹے پیمانے پر سامان فروخت کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ کورئیر کمپنیز کے ذریعے ٹیکس کٹوتی کے بعد ان کے مارجنز تقریباً ختم ہو گئے ہیں۔ کئی چھوٹے سیلرز کا کہنا کی ہے کہ اب وہ صارفین کو وہی پرانے ریٹ پر چیزیں فراہم نہیں کر پا رہے جس سے ان کے کاروبار کو نقصان ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: نئے ٹیکس کے نفاد کے بعدکوریئر کمپنیوں نے ڈیلیوری چارجز کتنے فیصد بڑھا دیے؟
راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے محمد عامر حفیظ کہتے ہیں کہ وہ آن لائن ٹیمو سے بچوں کے کپڑے خرید کر مارکیٹ میں بیچ رہے ہی۔ چونکہ ٹیمو کی جانب سے اچھا خاصہ ڈسکاؤنٹ اور فری ڈیلیوری جیسی آسانیاں فراہم کی جاتی ہیں اس لیے ان کا کاروبار اچھا چل رہا تھا۔ مگر اب بجٹ میں آن لائن خریدوفروخت پر اتنے ٹیکسز لگ چکے ہیں جس کی وجہ سے جو پیس مجھے وہاں سے 1000 روپے میں مل رہا تھا اب وہی پیس لگ بھگ 1300 روپے ہو گیا ہے جبکہ میں وہ منگوا کر تقریباً 1300 سے 1500 روپے میں فروخت کرتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اب چونکہ ٹیکسز لگ چکے ہیں جس کی وجہ سے قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ اس لیے میں اب جب میں وہی چیز گاہک کو نئے ریٹس میں دے رہا ہوں تو وہ لینے کو تیار نہیں ہو رہے جس کی وجہ سے کاروبار شدید ڈاؤن ہو رہا ہے۔
فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے سلمان نذیر، جو آن لائن الیکٹرانکس فروخت کرتے ہیں، نے وی نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ پاور بینکس، کیبلز، اور موبائل چارجرز چین سے امپورٹ کر کے فروخت کرتے ہیں مگر اب ڈیجیٹل سروسز ٹیکس اور دیگر کٹیگری ٹیکسز کی وجہ سے ایک چیز جو پہلے 500 روپے کی پڑتی تھی، اب 800 سے 900 روپے میں آ رہی ہے۔ گاہک وہی پرانا ریٹ کا تقاضا کرتا ہے اور نئی قیمت سن کر ناراض ہو جاتا ہے۔ ان حالات میں نہ تو ہم چیزیں امپورٹ کر سکتے ہیں، نہ ہی اپنی مارکیٹ فروخت کر پا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ایف بی آر کا بڑا ریلیف: 7 ہزار آئٹمز پر ٹیکس و ڈیوٹی میں کمی
اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی نور فاطمہ، جو بین الاقوامی ویب سائٹس جیسے ٹیمو اور ایمازون سے جیولری اور بیوٹی پروڈکٹس امپورٹ کر کے آن لائن فروخت کرتی ہیں، ان کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ وہ کافی عرصے سے ان پلیٹ فارمز سے مختلف جیولری آئٹمز اور بیوٹی پروڈکٹس منگواتی ہیں۔ کیونکہ ان پر اچھی ڈیلز اور فری شپنگ ہوتی تھی مگر اب ہر آرڈر پر 5 فیصد ڈیجیٹل سروسز ٹیکس اور پھر کسٹم کے مسائل نے قیمتیں اتنی بڑھا دی ہیں کہ گاہک خریدنے کو تیار نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جو آئٹم پہلے 1200 میں آتی تھی، اب وہی 1800 تک پہنچ چکی ہے۔ ٹیمو حد سے زیادہ اب مہنگا ہو چکا ہے۔ میرے کئی پرانے کسٹمرز نے آرڈر دینا چھوڑ دیا ہے اور مجھے لگتا ہے کہ اگر یہی صورتحال رہی تو چھوٹے لیول پر امپورٹ بیسڈ کاروبار کرنا ناممکن ہو جائے گا۔
یہ تمام اقدامات نہ صرف چھوٹے کاروباروں کے لیے مشکلات کا باعث بنے ہیں بلکہ آن لائن شاپنگ کرنے والے عام صارفین کے لیے بھی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر حکومت نے ان ٹیکسز پر نظرثانی نہ کی تو پاکستان کی ای کامرس انڈسٹری کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
Tax امپورٹڈ اشیا ٹیکس کوریئر ود ہولڈنگ ٹیکس
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امپورٹڈ اشیا ٹیکس کوریئر ود ہولڈنگ ٹیکس کرنے والے کی وجہ سے آن لائن ٹیکس ا
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔