چین نے بھارت پاکستان تنازع کے بعد رافیل کی فروخت متاثر کرنے کے لیے مہم چلائی: فرانس WhatsAppFacebookTwitter 0 6 July, 2025 سب نیوز

پیرس: فرانس کے فوجی اور انٹیلی جنس حکام کا کہنا ہے کہ چین نے مئی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان چار روزہ جھڑپوں کے بعد فرانسیسی ساختہ رافیل لڑاکا طیاروں کے بارے میں شبہات پھیلانے کے لیے اپنے دفاعی اتاشیوں کو مختلف سفارت خانوں میں تعینات کیا۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق فرانسیسی حکام کا کہنا تھا کہ چین کا مقصد رافیل کی ساکھ اور فروخت کو متاثر کرنا تھا اور خاص طور پر انڈونیشیا جیسے ممالک کو اس کی مزید خریداری سے روکنا تھا۔
فرانسیسی انٹیلی جنس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چین کے دفاعی اتاشیوں نے ان ممالک کو قائل کیا جو پہلے ہی رافیل خرید چکے ہیں یا خریدنے کا ارادہ رکھتے تھے کہ وہ مزید نہ خریدیں اور ان کی بجائے چینی ساختہ طیاروں کو ترجیح دیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ مہم سوشل میڈیا پر منظم اور مربوط انداز سے چلائی گئی جس میں وائرل پوسٹس، اے آئی سے تیار کردہ تصاویر، ویڈیو گیم نما مناظر اور رافیل کے ملبے دکھانے والی من گھڑت تصویریں شامل تھیں۔
فرانسیسی فوجی اور انٹیلی جنس حکام کی جانب سے اخذ کردہ نتائج کی تفصیلات ایک فوجی عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے پی کو فراہم کی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس دوران ہزاروں نئے بنائے گئے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے چین کی ٹیکنالوجی کی برتری کا تأثر بہتر کرنے کی کوشش بھی کی گئیں۔
رواں برس مئی میں بھارت اور پاکستان کی شدید جھڑپیں ہوئیں جن میں فضائی لڑائی بھی شامل تھی۔ اس فضائی جنگ میں دونوں جانب کے درجنوں طیارے شامل تھے۔
اس کے بعد پاکستان نے دعویٰ کیا کہ اس نے پانچ انڈین جنگی طیارے مار گرائے ہیں جن میں تین رافیل شامل تھے لیکن فرانسیسی فضائیہ کے سربراہ جنرل جیرو بیلانجر نے واضح کیا کہ متاثرہ طیاروں کی تعداد تین تھی۔ ایک رافیل، ایک روسی ساختہ سخوئی اور ایک میراج 2000۔ تاہم یہ کسی بھی جنگ میں گرایا جانے والا پہلا رافیل تھا۔
فرانسیسی فضائیہ کے سربراہ کے الفاظ کچھ یوں تھے ’یقیناً وہ تمام ممالک نے جنہوں نے رافیل خریدے، انہوں نے خود سوال پوچھے۔‘
فرانسیسی حکام کا موقف ہے کہ رافیل کو ایک منظم ’ڈس انفارمیشن مہم‘ کا نشانہ بنایا گیا جس میں سوشل میڈیا پر وائرل پوسٹس، ایڈیٹ شدہ یا خود بنائی گئی تصاویر، مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد اور ویڈیو گیم نما مناظر شامل تھے۔

فرانسیسی فوجی انٹیلی جنس کا کہنا ہے کہ انہیں اس مہم کو براہ راست چینی حکومت سے جوڑنے میں کامیابی تو نہیں ہوئی لیکن ان ڈیفنس اتاشیوں کے لابنگ سیشنز میں بھی یہی بیانیہ دہرایا گیا کہ بھارتی رافیل نے خراب کارکردگی دکھائی ہے اور چینی ساختہ طیارے بہتر ہیں۔
دفاعی اتاشیوں نے خاص طور پر ان ممالک میں یہ لابنگ کی جو رافیل خرید چکے یا خریدنے کا سوچ رہے تھے اور فرانسیسی حکام کو بتایا گیا کہ بعض ممالک نے چین کی اس لابنگ کے بارے میں بتایا ہے۔
دوسری جانب چین نے ان الزامات کو ’خالص بے بنیاد افواہیں اور بہتان‘ قرار دیا ہے اور اے پی کے سوال کے جواب میں کہا ہے کہ ’چین نے علاقائی اور عالمی امن و استحکام میں تعمیری کردار ادا کیا ہے اور اس نے فوجی برآمدات کے لیے مستقل طور پر محتاط اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا ہے۔‘
فرانس کا موقف ہے کہ اس مہم کا مقصد صرف رافیل یا اس کی برآمدات کو متاثر کرنا نہیں بلکہ فرانس کی دفاعی صنعت اور قومی ساکھ کو بھی کمزور کرنا تھا۔
واضح رہے کہ رافیل کی عالمی برآمدات فرانس کی دفاعی صنعت کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہیں اور ایشیا سمیت دیگر خطوں میں فرانس کی سفارتی و اقتصادی پالیسی کا اہم حصہ ہیں جہاں چین تیزی سے غالب علاقائی طاقت بنتا جا رہا ہے۔
فرانس کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ ’یہ غلط معلومات کی ایک وسیع مہم تھی جس کا مقصد متبادل جنگی سازوسامان بالخصوص چینی ساختہ ہتھیاروں کی برتری کو فروغ دینا تھا۔‘

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرملک بھر میں یوم عاشور کے جلوس پُرامن طور پر اختتام پذیر جسٹس سردار سرفراز ڈوگر 8 جولائی کو بطور چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عہدے کا حلف اٹھائیں گے مسجد اقصیٰ ہماری ’ریڈلائن‘ ہے، ہر قیمت پردفاع کریں گے: حماس سوئٹزرلینڈ نے ایران میں سفارت خانہ دوبارہ کھول دیا بھارت میں رائٹرز کے ’ایکس اکاؤنٹس‘ بلاک کر دیئے گئے سپریم کورٹ کی پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کے نئے ضوابط 2025ء کا اجرا خامنہ ای کی اسرائیلی جارحیت کے بعد پہلی بار عاشورہ پر عوامی تقریب میں شرکت TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: رافیل کی چین نے کے بعد کے لیے

پڑھیں:

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز

تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران پر امریکی جارحیت کے بعد عالمی توانائی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ برطانوی خام تیل 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات کا مربن خام تیل 108 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہونے لگا ہے، جو عالمی منڈی میں توانائی کی بڑھتی ہوئی بے یقینی کی عکاسی کرتا ہے۔ادھر قدرتی گیس کی قیمت بھی بڑھ کر 2.95 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (MMBtu) ہو گئی ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں کشیدگی کے اثرات مزید نمایاں ہو رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ