وزیرِاعلیٰ نے سندھ جاب پورٹل کا افتتاح کر دیا، ملازمتوں کا سلسلہ 15 روز میں شروع ہو گا
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ—فائل فوٹو
وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی میں سندھ جاب پورٹل کا افتتاح کر دیا۔
اس حوالے سے منقعدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ گریڈ 1 سے 5 کی ملازمتوں کا سلسلہ آ ئندہ 15 روز سے شروع ہو جائے گا۔
وزیرِاعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ سندھ جاب پورٹل کا افتتاح عوامی خدمت کی فراہمی میں ایک سنگِ میل ہے، یہ منصوبہ ڈیجیٹل تبدیلی، شفافیت اور عوامی با اختیار کا مظہر ہے۔
انہوں نے کہا کہ محکمۂ سائنس اینڈ آئی ٹی حکومت کا عملی و اسٹریٹیجک بازو ہے، سندھ جاب پورٹل مؤثر، جامع اور شہری مرکوز آئی ٹی سسٹمز کی بہترین مثال ہے، حکمرانی کو جدید خطوط پر استوار کر رہے اور عوامی خدمات تک رسائی کو آسان بنا رہے ہیں۔
وزیرِاعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہناہے کہ شہری و دیہی علاقوں میں عوامی سہولت کے پلیٹ فارمز متعارف کرا رہے ہیں، یہ محض آغاز ہے، سائنس اینڈ آئی ٹی ڈپارٹمنٹ ڈیجیٹل خدمات کے دائرے کو وسعت دے رہا ہے، ہم ایسے نتائج دے رہے ہیں جو عوام کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لائیں۔
یہ بھی پڑھیے سندھ ہائیکورٹ، صوبائی حکومت کو سرکاری ملازمتیں فراہم کرنے کی مشروط اجازتان کا کہنا ہے کہ ہم ایسا سندھ بنا رہے ہیں جہاں ٹیکنالوجی عوام کا حق ہو، ہمارا مقصد قابلِ رسائی اور با اختیار نظام بنانا ہے، آئی ٹی ڈپارٹمنٹ نے ایک بہترین پورٹل بنایا ہے، جس سے نوجوانوں کو شفاف اور میرٹ پر ملازمت ملے گی۔
وزیرِاعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ جب بھی ملازمت کا اعلان کرتے ہیں تو معاملہ عدالت تک چلا جاتا ہے، ہم آہستہ آہستہ نظام کو ڈیجیٹلائز کر رہے ہیں، ہم نے ملازمتوں کے لیے بار بار دستاویزات جمع کروانے، ٹیسٹ دینے کا نظام ختم کر دیا، تمام ٹیسٹ سکھر آئی بی اے لے گا، جو تمام ملازمتوں کے لیےکافی ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ گریڈ 1 سے 5 کی ملازمتوں کا سلسلہ آئندہ 15 روز سے شروع ہو جائے گا، امید ہے کہ یہ پورٹل شفاف اور میرٹ پر ملازمت فراہم کرنے کا سبب بنے گا، یہ تاثر ختم ہونا چاہیےکہ سفارش کے بغیر نوکری نہیں ملتی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سندھ مراد علی شاہ سندھ جاب پورٹل وزیر اعلی رہے ہیں ا ئی ٹی کہا کہ
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔