مریم نواز کا تاریخی اقدام، آئمہ مساجد کیلئے ماہانہ وظیفے کا اعلان، دنیا بھر میں خراجِ تحسین
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
قاری علی حسن—
جاپان سمیت دنیا بھر کے مذہبی و سماجی حلقوں نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے اس تاریخی فیصلے کو سراہا ہے، جس کے تحت پنجاب کی 65 ہزار مساجد کے آئمہ کرام کے لیے ماہانہ 10 ہزار روپے وظیفہ مقرر کیا گیا ہے۔
اس حوالے سے اسلامک سینٹر تجوید القرآن جاپان کے چیئرمین قاری علی حسن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پنجاب کے کئی پس ماندہ علاقوں میں انتہائی تعلیم یافتہ اور صاحبِ علم آئمہ کرام انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں، ان میں سے اکثر کا وظیفہ یا تو چندے پر منحصر ہوتا ہے یا انہیں گندم و غلّے کی شکل میں معمولی اعانت دی جاتی ہے، جو ان کی مالی پسماندگی کو ظاہر کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا یہ فیصلہ اگرچہ ان کے مسائل کا مکمل حل نہیں، مگر یہ آئمہ کرام کے لیے ایک بڑا سہارا اور قابلِ قدر سپورٹ ہے، جو ان کی خدمتِ دین کے عزم کو مزید مضبوط کرے گا۔
قاری علی حسن کے مطابق یہ اقدام مریم نواز شریف اور حکومتِ پنجاب کے دینی طبقات کے ساتھ مثبت تعلقات کی علامت ہے، دنیا بھر، بالخصوص جاپان، خلیجی ممالک اور یورپ میں موجود علماءنے بھی اس اقدام کو سراہتے ہوئے مریم نواز شریف کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
مزید برآں حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اب مساجد کی تعمیر و مرمت کے لیے چندے کے بجائے انہیں سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) میں شامل کیا جائے گا، تاکہ عبادت گاہوں کے امور شفاف اور منظم انداز میں انجام دیے جا سکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مریم نواز
پڑھیں:
گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔