محمد رضوان نے بگ بیش لیگ میں شرکت کی تصدیق کر دی
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
قومی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان نے اپنی بگ بیش لیگ میں شرکت کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔
بگ بیش لیگ کے آفیشل اکاؤنٹ پر جاری ویڈیو پیغام میں محمد رضوان نے کہا کہ مجھے چیلنجز کا سامنا کرنا پسند ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں آسٹریلیا کے کھلاڑیوں کی کرکٹ کو قریب سے دیکھتا رہا ہوں، وہ بہت مضبوط اور چیلنجنگ حریف ہیں، ان کے کھیلنے کا انداز مجھے بہت پسند ہے۔
محمد رضوان کا مزید کہنا تھا کہ آسٹریلیا کے کھلاڑی دوسروں کی پروا نہیں کرتے، وہ جو فیصلہ کر لیتے ہیں، اس پر ڈٹے رہتے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے 30 ستمبر 2025 تک بیرون ملک ٹی ٹوئنٹی لیگز میں کھلاڑیوں کی شرکت کے این او سی عارضی طور پر معطل کر دیے تھے، تاہم گزشتہ ہفتے بورڈ نے کھلاڑیوں کو بگ بیش لیگ میں شرکت کی اجازت دے دی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: محمد رضوان بگ بیش لیگ
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔