صنم جاوید خان کو رہا کر دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جولائی 2025ء) صنم جاوید خان کو رہا کر دیا گیا، لاہور ہائیکورٹ نے 2 روز قبل تحریک انصاف کی خاتون رہنما کی ضمانت منظور کر لی تھی۔ تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے خاتون کارکن اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ صنم جاوید خان کو بدھ کے روز رہا کر دیا گیا۔ 30 جون کو لاہور ہائی کورٹ نے ریاست مخالف مواد اپ لوڈ کرنے کے مقدمے میں پاکستان تحریک انصاف کی کارکن صنم جاوید کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کر لی تھی۔
عدالت نے صنم جاوید کی ضمانت پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کی۔ عدالت عالیہ میں جسٹس فاروق حیدر نے کیس کی سماعت کی، جب کہ صنم جاوید کی جانب سے میاں علی اشفاق ایڈووکیٹ نے دلائل پیش کیے۔ مقدمہ وفاقی تحقیقاتی ادارے لاہور کی جانب سے درج کیا گیا تھا، جس میں صنم جاوید پر ریاست مخالف مواد انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کرنے کا الزام تھا۔(جاری ہے)
وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ ان کی مؤکلہ بے گناہ ہے اور مقدمہ بدنیتی پر مبنی ہے۔
عدالت نے وکلا کے دلائل سننے کے بعد پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض صنم جاوید کی ضمانت منظور کرتے ہوئے رہائی کا حکم دیا تھا۔ عدالت کے حکم کے 2 روز بعد آج صنم جاوید کو رہا کر دیا گیا۔ .
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے صنم جاوید کی
پڑھیں:
لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا
فوٹو: آن لائنلاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا، ڈی ايچ اے اور ہربنس پورہ انڈر پاس پانی سے بھر گئے، ٹریفک کے لیے بند کردیے گئے۔
تاج پورہ اور ایئرپورٹ کے قریب علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا، گاڑیاں ڈوب گئیں، موٹرسائيکلیں بند ہوگئیں، فیروز پور روڈ پر موٹرسائیکل پھسل کر کھمبے سے جا ٹکرائی، جس کے نتیجے میں دو بھائی جاں بحق ہوگئے، چھت گرنے کے واقعات میں چار افراد زخمی ہوئے۔
بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث 99 فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔
گوجرانوالا میں مسلسل تیسرے دن بھی بارش برسی، نکاسِ آب کے لیے لاہور سے مشینری طلب کرلی گئی، شکر گڑھ میں تیسرے روز بھی موسلادھار بارش ہوئی، نالہ بئیں اور بسنتر سے ملحقہ نشیبی دیہات میں پانی داخل ہوگیا۔
منڈی بہاء الدین میں بارش سے سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی دھان اور چارے کی فصلیں تباہ ہونے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب دریائے چناب میں نچلے سے درمیانے درجے کا ریلا گزرنے کا خطرہ ہے، تریموں بیراج پر پانی کی سطح بلند ہونے لگی، سرگودھا میں طالب والا کے مقام پر اکتالیس دیہات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔