خیبر پختونخوا کا بجٹ حتمی نہیں، عمران خان کی ہدایت پر تبدیلیاں ہوسکتی ہیں، مزمل اسلم
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
صوبہ خیبر پختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے کہا ہے کہ جو بجٹ ہم نے منظور کیا ہے، یہ حتمی نہیں ہے۔ جس دن عمران خان سے ملاقات ہوئی، انہوں نے بجٹ میں تبدیلیاں کروائیں تو اگلے 24 گھنٹوں میں وہ تبدیلیاں اسمبلی میں پیش ہوتی نظر آئیں گی۔
جیو نیوز کے پروگرام’ کیپیٹل ٹاک‘ میں اس سوال کے جواب میں کہ عمران خان کی مرضی کے بغیر خیبرپختونخوا کا بجٹ کیسے پیش اور منظور ہوا؟ مزمل اسلم نے کہا کہ عمران خان 15 مئی سے مسلسل یہ پیغام دے رہے تھے کہ ان کے پاس آکر بجٹ کو ڈسکس کریں تاکہ وہ اس حوالے سے ڈائریکشن دیں۔
انہوں نے بتایا کہ 22 مئی کی ملاقات میں عمران خان نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین گنڈا پور کو کوئی ہدایات بھی دی تھیں اور یہ بھی کہا تھا کہ بجٹ پیش کرنے سے پہلے بھی ملاقات کرنے کی کوشش کرنا۔ لیکن جب ملاقات نہیں ہوئی تو ہمیں بجٹ پیش کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیے بانی پی ٹی آئی عمران خان نے خیبرپختونخوا بجٹ کی منظوری نہ دی تو کیا ہوگا؟
مزمل اسلم نے بتایا کہ جب بجٹ پیش کیا تو بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے پیغام بھیجا کہ اسے منظور کرنے سے پہلے ملاقات کرنی ہے۔ لیکن بجٹ پیش کرنے کے بعد، 30 تاریخ کے اندر اندر سارا کام مکمل کرنا ہوتا ہے۔ اس کے آگے پیچھے عمران خان کی پیشیاں بھی تھیں، وہ منسوخ کردی گئیں تاکہ ملاقات نہ ہوسکے۔
’پھر جب بجٹ منظور ہوگیا تو خان صاحب نے اگلا پیغام دیا کہ چلیں! بجٹ منظور تو ہوگیا ہے، اب سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کرو اور ملاقات کے لیے آ جاؤ۔‘
مشیر خزانہ خیبر پختونخوا نے کہا کہ وہ ایک بات واضح کرنا چاہتے ہیں۔ جو بجٹ ہم نے منظور کیا ہے، یہ حتمی نہیں ہے۔ جس دن ملاقات ہوئی اور خان صاحب نے اس میں تبدیلیاں کروائیں تو اگلے 24 گھنٹوں میں وہ تبدیلیاں اسمبلی میں پیش ہوتی نظر آئیں گی۔ ابھی ہمیں تنخواہیں اور پینشنز جو جاری رہتی ہیں، انہیں جاری رکھنا تھا۔ اگر بجٹ منظور نہ ہوتا تو یہ نظام رک جاتا۔
واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے بغیر مشاورت خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس کرنے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے اسے بجٹ کی منظوری کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بجٹ میں وہ ضروری تبدیلیاں کرنی ہوں گی جو وہ چاہتے ہیں۔
اڈیالہ جیل میں اپنی بہنوں عظمیٰ خان اور نورین خان سے ملاقات میں انہوں نے پاس کرنے کو یکطرفہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہاکہ یہ میرا حتمی فیصلہ تھا کہ میرے ساتھ مشاورت کی جاتی۔
یہ بھی پڑھیں ’لگتا ہے مائنس عمران ہو ہی گیا ہے‘، علیمہ خان نے بڑی بات کہہ دی
عمران خان نے کہا کہ علی امین گنڈا پور کو بہت پہلے میرے پاس آ جانا چاہیے تھا، بیرسٹر سیف کو بھیجا گیا تھا تاکہ وہ مجھے بجٹ کی جلدی منظوری کی وجوہات سمجھا سکیں، مگر یہ سب ناقابل قبول ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ پارٹی قیادت کے بغیر بجٹ کی منظوری نہ صرف غیر آئینی بلکہ ناقابل قبول ہے۔ اب 5 رکنی مشاورتی ٹیم میرے پاس آئے، اور پھر ہم سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے کہ آئی ایم ایف ایسے بجٹ کو کیسے تسلیم کرے گا جس میں پارٹی ہیڈ کی مشاورت ہی نہیں ہوئی۔
یہ بھی پٖڑھیے خیبر پختونخوا: بجٹ معاملے پر پی ٹی آئی یو ٹرن لینے پر مجبور کیوں ہوئی؟
علیمہ خان نے مزید بتایا کہ بانی تحریک انصاف عمران خان خیبر پختونخوا کے سرپلس بجٹ سے بالکل مطمئن نہیں۔ سرپلس دکھانے کا فائدہ وفاقی حکومت کو ہوتا ہے، اب وہ چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ سے اجازت لی جائے اور بجٹ میں وہ تبدیلیاں لائی جائیں جو وہ کہیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا انہوں نے بجٹ پیش میں وہ یہ بھی تھا کہ بجٹ کی نے کہا
پڑھیں:
ٹرمپ کے بدلتے پینترے
امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔
دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔
ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔