پھلوں اور سبزیوں کو بغیر دھوئے کھانا خطرناک ہو سکتا ہے، ماہرین نے خبردار کردیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ہم میں سے اکثر لوگ بازار سے سیب یا ٹماٹر خریدتے ہی فوراً کھا لیتے ہیں، مگر کیا واقعی یہ محفوظ عمل ہے؟
ماہرینِ صحت کے مطابق تازہ پھلوں اور سبزیوں کو دھوئے بغیر کھانے سے مختلف بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے چاہے پھل کتنا ہی چمکتا ہوا کیوں نہ لگے، اسے استعمال سے پہلے اچھی طرح صاف کرنا ضروری ہے۔
تحقیقی ماہرین بتاتے ہیں کہ پھلوں اور سبزیوں کی سطح پر ای کولی، سالمونیلا اور دیگر خطرناک جراثیم پائے جا سکتے ہیں۔ یہ جراثیم زیادہ تر آلودہ پانی، مٹی یا کھیتوں میں استعمال ہونے والے کھاد اور کیمیکلز کے ذریعے ان میں منتقل ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ انہیں مارکیٹ یا اسٹور تک پہنچانے کے دوران بھی یہ آلودگی بڑھ سکتی ہے۔
اسی طرح کیڑے مار ادویات کے ذرات اور کیمیائی اثرات بھی پھلوں کی بیرونی سطح پر چپکے رہ جاتے ہیں، جو انسانی جسم کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کے علاوہ گرد و غبار بھی مضر صحت اجزا کو پھلوں تک پہنچا دیتا ہے۔ اگرچہ دھونے سے ان تمام آلودگیوں کا مکمل خاتمہ نہیں ہوتا، لیکن ُھر بھی خطرہ واضح طور پر کم ضرور ہو جاتا ہے۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ پھلوں یا سبزیوں کو دھونے سے پہلے اپنے ہاتھوں کو صابن اور صاف پانی سے دھونا ضروری ہے تاکہ صفائی کا عمل مؤثر ہو۔ پھر پھلوں اور سبزیوں کو کم از کم 10 سے 20 سیکنڈ تک صاف پانی میں دھویا جائے۔ اگر کسی پھل یا سبزی کا کوئی حصہ خراب یا سڑا ہوا دکھائی دے تو اسے فوراً کاٹ کر الگ کر دیں۔
دھونے کے بعد انہیں خشک کپڑے یا صاف تولیے سے پونچھ کر صاف کٹنگ بورڈ پر کاٹنا چاہیے تاکہ دوبارہ جراثیم منتقل نہ ہوں۔
ماہرین کے مطابق یہ معمولی سا احتیاطی عمل نہ صرف آپ کی صحت کو محفوظ رکھتا ہے بلکہ روزمرہ بیماریوں جیسے پیٹ درد، قے، یا فوڈ پوائزننگ سے بچاؤ میں بھی مددگار ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پھلوں اور سبزیوں سبزیوں کو
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔