ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے ریلوے کنسٹرکشن پاکستان لمیٹڈ میں اربوں روپے کی کرپشن کا بڑا اسکینڈل بے نقاب کیا ہے جہاں جعلی بینک گارنٹی کیس میں تین سابق اعلی افسران کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔یہ کارروائی چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹرز پاکستان ریلوے کیرج فیکٹری ڈاکٹر نعیم نیازی کی درخواست پر ملزمان کے خلاف کی گئی۔ایف آئی اے کے مطابق مقدمہ الزام نمبر 37/2025 میں زیر دفعہ 109، 409، 420، 468، 471 اور انسدادِ بدعنوانی ایکٹ 1947 کی دفعہ 5(2) کے تحت جن افسران کو گرفتار کیا گیا ہے، ان میں سید نجم سعید ، سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر، RAILCOP اسلام آباد، محمد زبیر حسین، سابق کنٹرولر فنانس اینڈ اکانٹس اور مہرالنسا ، سابق ڈائریکٹر کمرشل و مارکیٹنگ شامل ہیں۔ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک نجی کمپنی انڈس ویلی انڈسٹریل جنکشن (IVIJ) کے چیئرمین عرفان حمید خان ولد عبد الحمید خان کے ساتھ ملی بھگت کرتے ہوئے2023 اور 2024 کے دوران یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ اور بینک الحبیب لمیٹڈ کی 14 جعلی بینک گارنٹیاں تیار کیں جن کی مالیت 1 ارب 16 کروڑ 73 لاکھ روپے سے زائد ہے۔یہ جعلی گارنٹیاں مختلف سرکاری ترقیاتی منصوبوں میں ٹینڈرز میں حصہ لینے کے لیے استعمال کی گئیں۔ ان گارنٹیوں کے عوض RAILCOP اسلام آباد کی جانب سے مذکورہ نجی کمپنی کو 16 کروڑ 49 لاکھ 69 ہزار 160 روپے کی غیرقانونی ادائیگی کمیشن کی مد میں کی گئی، جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔ذرائع کے مطابق کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔یہ اسکینڈل ایک مرتبہ پھر سرکاری اداروں میں شفافیت، نگرانی اور احتساب کے فقدان کو اجاگر کرتا ہے۔ بینکاری نظام پر بھی یہ سوال اٹھا ہے کہ آخر کس طرح بینک گارنٹی جیسے حساس مالیاتی دستاویزات جعلی طور پر منظور ہوئیں اور بروقت پکڑی کیوں نہ گئیں؟پاکستان ریلوے کے مزید سابق اور موجودہ افسران کو بھی طلبی کے نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس اسکینڈل کے تانے بانے دیگر اداروں اور بااثر حلقوں سے بھی جڑے ہو سکتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار

— فائل فوٹو

راولپنڈی میں 13 سو روپے کے لین دین پر 2 نوجوانوں کے قتل میں ملوث دونوں فریقین کے 7 افراد کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔

پولیس کے مطابق مقتول زین شاہ کے قتل میں ملوث 6 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، ملزمان نے زین شاہ کو ٹارچر کر کے سفاکانہ طریقے سے قتل کیا تھا جبکہ مقتول سراج کے قتل میں ملوث ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم نے ساتھیوں کے ہمراہ مقتول سراج پر گولی چلائی تھی، واقعہ 8 مئی کو تھانہ دھمیال کے علاقے پیر مہر علی شاہ ٹاؤن میں پیش آیا تھا۔

راولپنڈی: دورانِ ڈکیتی قتل کا ڈراپ سین، بیوی ہی قاتل نکلی

راولپنڈی میں کلرسیداں کے علاقے بشندوٹ میں 4 روز قبل دوران ڈکیتی قتل کا ڈراپ سین ہو گیا۔

پولیس کے مطابق مقتول زین شاہ نے مقتول سراج کی دکان سے گھر کے لیے خریداری کی تھی، مقتول سراج نے بقایا رقم 13 سو روپے کا تقاضہ کیا تو جھگڑا ہوا تھا۔

جھگڑے کے دوران گولی چلی جس سے مقتول سراج موقع پر جاں بحق ہو گیا تھا جبکہ مقتول سراج کا بدلہ لینے کے لیے اس کے رشتے داروں نے زین شاہ کو اغواء کر کے قتل کر دیا تھا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار