بینک ٹرانزیکشن پر ٹیکس اور بینکوں کے چارجز میں ہوشربا اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
ویب ڈیسک: وفاقی حکومت نے یکم جولائی سے فائلر اور نان فائلرز کے لیے ہر قسم کی بینک ٹرانزیکشن پر ٹیکس وصولی شروع کر دی ہے جہاں حکومت نے نان فائلرز کے لیے بینکوں سے رقوم نکلوانے پر ٹیکس کی شرح بڑھائی گئی ہے اور بینکوں نے اپنی چارجز میں بھی ہوش ربا اضافہ کردیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق فائلرز پر 50 ہزار یومیہ سے زیادہ رقم نکلوانے پر صفر اعشاریہ تین فیصد ود ہولدنگ ٹیکس لاگو کر دیا ہے، وہیں بینکوں نے بھی فائلرز اور نان فائلرز کی تخصیص ختم کرنے کا لحاظ رکھے بغیر ٹیکسوں کے علاوہ اپنے شیڈول چارجز بڑھا دیے ہیں۔
معمولی تلخ کلامی پر فائرنگ سے شہری کو زخمی کرنے والا ملزم گرفتار
بینکوں سے اے ٹی ایم ایف اور کیش کاونٹرز سے بذریعہ چیک 50 ہزار روپے یومیہ سے زائد رقم نکلوانے پر اب فائلرز سے بھی 0.
اسی طرح بینکوں نے اے ٹی ایم ایف کارڈ فیس، ایس ایم ایس الرٹ فیس، دوسرے بینک کے اے ٹی ایم استعمال کی فیس میں بھی ہوشربا اضافہ کردیا ہے، جس کے نتیجے میں بینک صارفین اور بینک عملے کے درمیان جھگڑے بڑھ گئے ہیں، بینکوں نے شیڈول چارجز پر نظر ثانی کے لیے ون لنک سے رجوع کر لیا ہے۔
سبزہ زار: تلخ کلامی پرفائرنگ کرکےشہری کوزخمی کرنیوالا ملزم گرفتار
وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے نئے مالی سال 26-2025 کے بجٹ کے نافذ ہوتے ہی عام عوام پر اس کے اثرات واضح ہونا شروع ہوگئے ہیں اور لوگوں کی پریشانیاں بڑھ گئی ہیں، ایک طرف ٹیکسوں کی شرح بڑھا دی گئی ہے تو دوسری طرف بینکوں نے اپنے شیڈول چارجز بڑھا دیے ہیں جس سے صارفین میں بے چینی پائی جاتی ہے۔
ذرائع کے مطابق بینکوں کی جانب سے پہلے دوسرے بینک کے اے ٹی ایم کے استعمال پر چارجز اٹھارہ روپے سے بڑھا کر 23 روپے کیے گئے تھے اور اب یکم جولائی سے مزید اضافہ کرتے ہوئے 23 روپے سے بڑھا کر 34 روپے فی ٹرانزیکشن کردیے گئے ہیں۔
کویتی ویزوں کاحصول مزید آسان بنانے کیلئےجدید الیکٹرانک سسٹم متعارف
اسی طرح اے ٹی ایم کارڈ فیس میں 700 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، ایس ایم ایس الرٹ سروس فیس 800 روپے اضافے کے ساتھ 1200 روپے سے بڑھا کر دو ہزار روپے کردی گئی ہے، اس کے علاوہ کیش کاؤنٹر سے بذریعہ چیک رقم نکلوانے پر بھی ٹیکس لاگو کردیا گیا ہے۔
نان فائلرز کے لیےکیش کاؤنٹر کے ذریعے 20 ہزار روپے نکلوانے پر 522 روپے کی کٹوتی کی جا رہی ہے جبکہ فائلرز کے لیےبھی یومیہ 50 ہزار روپے سے زیادہ کسی بھی صورت میں بینک سے رقوم نکلوانے پر صفر اعشاریہ تین فیصد جبکہ نان فائلرز پر صفر اعشاریہ 6 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس عائد کردیا گیا ہے۔
حکومت پولیو کے مکمل خاتمے کیلئے پرعزم ہے ،شہبازشریف
بینکوں نے اے ٹی ایم کے ذریعے بینکوں سے رقوم نکلوانے کی بھی حد مقرر کردی ہے، سٹینڈرڈ ڈیبٹ کارڈ رکھنے والے یومیہ 25 ہزار روپے سے پچاس ہزار روپے تک اے ٹی ایم کے ذریعے نکلوا سکیں گے، اسی طرح پریمیم کارڈ رکھنے والے پانچ لاکھ روپے یومیہ تک جبکہ فارن ڈیبٹ کارڈ رکھنے والے 200 سے 500 ڈالر کے برابر یومیہ رقوم نکلوا سکیں گے۔
ایک دن میں 50 ہزار روپے سے زیادہ رقم نکلوانے پر خودبخود بینک اکاؤنٹ سے ٹیکس کٹوتی ہوجائے گی، اس کے علاوہ انٹرنیشنل اے ٹی ایم کے ذریعے رقم نکلوانے پر یا تو نکلوائی جانے والی رقم کی شرح کے حساب سے فیس کی کٹوتی ہوگی یا پھر بینک کی مقرر کردہ فکس فیس کے حساب سے کٹوتی ہوگی، اس کا انحصار بینک پر ہوگا کہ وہ فیس وصولی کا کون سا طریقہ اختیار کرتا ہے۔
جنگلا ت کا ہر قیمت پر تحفظ کیاجائے گا : مریم اورنگزیب
یکم جولائی سے نئے ٹیکس ریٹ اور بینک چارجز میں اضافے کے بعد سے صارفین اور بینک انتظامیہ کے درمیان جھگڑے شروع ہوگئے ہیں، جس کے باعث بینکوں نے شیڈول چارجز پر نظر ثانی کے لیےون لنک سے رجوع کرلیا ہے۔
بینکوں کا کہنا ہے کہ اس سے بینکنگ لین دین متاثر ہوگا اور کیش اکانومی کو فروغ ملے گا۔
یہ بھی پڑھیں:ملکی مجموعی ذخائر بڑھ کر کتنے ارب ڈالر ہو گئے؟سٹیٹ بینک نے بڑی خوشخبری سنا دی
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: رقم نکلوانے پر اے ٹی ایم کے نان فائلرز ہزار روپے بینکوں نے فائلرز کے اور بینک کے ذریعے روپے سے گئے ہیں گئی ہے
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔