لاہور ( اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ آئی پی اے ۔ 03 جولائی 2025ء ) پنجاب یونیورسٹی مالی سال 2025-26 کے بجٹ کی سفارشات کیلئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹرمحمد علی کی چیئرمین شپ میں سینڈیکیٹ کا 1758 واں اجلاس منعقد ہوا جس میں سینڈیکیٹ نے سینیٹ کو 20.16  ارب روپے کے بجٹ کی منظوری کی سفارش کر دی۔ بجٹ میں طلباء و طالبات کا مالی بوجھ کم کرنے کے لئے سکالرشپس اور سبسڈی میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر محمد علی کی ہدایت پر گزشتہ سال کے مقابلے میں سکالرشپ کی رقم 380 ملین روپے سے بڑھا کر406 ملین روپے کر دی گئی۔ علاوہ ازیں ہونہار سکالرشپ پروگرام، ایچ ای سی اور پنجاب ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کی طرف سے بھی یونیورسٹی کے طلباء و طالبات وظائف دئیے جائیں گے۔ ڈاکٹر محمد علی کے اقدامات کے باعث پہلی مرتبہ پنجاب یونیورسٹی کے بجٹ خسارے میں کمی واقع ہوئی ہے امسال بجٹ خسارہ گزشتہ سال 2 ارب کے مقابلے میں 1.

2 ارب روپے ہے۔

(جاری ہے)

اس موقع پر سینڈیکیٹ ممبران نے پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ کی کفایت شعاری کی پالیسی کو سراہا۔ وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی کی ہدایت پر یونیورسٹی کی بین الاقوامی رینکنگ کو مزید بہتر بنانے اور ملکی معاشی و معاشرتی ترقی پر مثبت انداز میں اثرانداز ہونے والی تحقیق اور تحقیقی کلچر کو فروغ دینے کے لئے ریسرچ گرانٹ 229 ملین سے بڑھا کر 297 ملین روپے کرنے کی منظوری دے دی گئی۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد علی نے کہا کہ آئندہ 3  سالوں میں یونیورسٹی کا بجٹ خسارہ ختم کر دیں گے اور قرض لینے کی بجائے ذرائع آمدن بڑھانے کو ترجیح دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے انڈومنٹ فنڈ کو بڑھائیں گے۔امسال پہلی مرتبہ حکومت پنجاب کی جانب سے پنجاب یونیورسٹی کو 78 کروڑ روپے ملیں گے۔  خصوصی طلباء و طالبات کو مفت تعلیم اور مفت رہائش جبکہ سپورٹس کی بنیاد پر داخلہ لینے والے طلباء و طالبات کو مفت تعلیم اور حافظ قرآن کی ٹیوشن فیس معاف ہو گی۔ پنجاب یونیورسٹی انتظامیہ ہاسٹل میں رہائش پذیر طلباء و طالبات کوکروڑوں روپے کی سبسڈی فراہم کرے گی جبکہ ٹیچنگ ڈیپارٹمنٹس میں بجلی کے بلوں کی مد میں دی جانے والی سبسڈی اس کے علاوہ ہے۔ 

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر محمد علی طلباء و طالبات محمد علی کی

پڑھیں:

وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار

سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔

بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند

متعلقہ مضامین

  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم