Express News:
2026-07-24@10:09:24 GMT

کاروباری دنیا میں مفت کچھ نہیں

اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT

کہتے ہیں کہ کاروباری دنیا میں مفت کچھ بھی نہیں ہوتا۔ کوئی نہ کوئی اس کی قیمت ضرور ادا کرتا ہے، چاہے اس کےلیے ادائیں اور کچھ اور بھی کیوں نہ دکھانا پڑے۔ میرے نزدیک تو کاروباری دنیا کا مفت ظہرانہ ہو یا عشائیہ، کاروباری نہیں بلکہ کاروکاری ہے اور یہ وقت بتاتا ہے کہ کون کارو ہے اور کون کاری ہے۔

کاروباری دنیا میں مفت ظہرانہ یا عشائیہ کیوں نہیں ہوتا؟ اور اس بات کا آغاز کب اور کہاں سے ہوا ہے؟

پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ کاروباری دنیا مفادات کی دنیا ہے اور جس کا مطمع نظر صرف اور صرف منافع ہوتا ہے۔ عام طور پر ایک فریق کا نقصان ہی دوسرے فریق کا فائدہ یا منافع ہوتا ہے۔ اس کی بالکل سامنے کی مثال اسٹاک ایکسچینج ہے کیونکہ وہاں یہی ہوتا ہے کہ جس کو جوا تو کہا جاسکتا ہے مگر کاروبار قطعی نہیں۔ لیکن ہمارے یہاں اب بھی اس کو کاروبار سمجھا اور بولا جاتا ہے۔

آپ کو ایک مزے کی بات بتاؤں کہ دنیا کے تمام بڑے جوئے خانوں میں جواری حضرات کےلیے کھانے اور پینے کے لوازمات بظاہر بالکل مفت ہوتے ہیں۔ ان کی قیمت جوئے کی رقم میں نظر تو نہیں آتی مگر شامل ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جوئے خانے کے مالکان یہ نہیں چاہتے کہ ان کے یہاں کھیلنے والے کھانے کےلیے بھی باہر جائیں، کیونکہ اگر ایک دفعہ وہ باہر چلے گئے تو پھر ہوسکتا ہے کہ وہ پلٹ کر واپس اسی جوئے خانے میں نہ آئیں اور کہیں اور چلے جائیں۔

اب ہم ہمارے دوسرے سوال کی جانب آتے ہیں کہ کاروباری دنیا میں کوئی چیز ایسی کیوں نہیں ہوتی کہ جس کو مفت قرار دیا جاسکے؟ اور اس کا آغاز کب اور کہاں سے ہوا ہے؟

اس بات کے آغاز کے بارے میں حتمی طور پر تو کچھ نہیں کہا جاسکتا مگر عام خیال یہ ہے کہ اس کا آغاز انیسویں صدی میں ہوا ہے کہ جب کچھ بار (شراب خانے) والوں نے اپنے صارفین کو ایک بیئر کی بوتل کے ساتھ مفت کھانے کی ترغیب دینی شروع کی تھی۔ مفت کھانے کے لالچ میں لوگ بیئر کا آرڈر دیتے تھے۔ کھانے میں نمک کا تناسب عام سے تھوڑا زیادہ ہوتا تھا، نتیجتاً گاہک کو زیادہ پیاس لگتی تھی اور یوں صارف بیئر کی مزید بوتلوں کا آرڈر دیتا تھا کہ جس سے کھانے کی قیمت وصول ہوجاتی تھی اور یوں اس کہاوت کا آغاز ہوا۔

اب تو آپ کو یقین آگیا ہوگا کہ مفت نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی اور یہی بات ول اسمتھ فلم ’کنگ رچرڈ‘ میں اپنی دونوں بیٹیوں وینس ولیم اور سرینا ولیم کو بتاتا ہے، جب وہ ایک کلب میں گئے ہوتے ہیں اور بچیوں نے مفت سمجھ کر برگر آرڈر کیے تھے۔ اگر آپ نے یہ فلم نہیں دیکھی تو ضرور دیکھیے یہ ایک بہت شاندار فلم ہے۔

اس مفت کھانے کی پوری کہانی میں مزے کی بات یہ ہوتی ہے کہ جو کھانا کھا رہا ہوتا ہے صرف اسی کو قیمت نظر نہیں آرہی ہوتی، ورنہ باقی سب کو تو اس کھانے کی قیمت بڑی بڑی لکھی نظر آرہی ہوتی ہے۔ آپ بس اس تھوڑے لکھے کو بہت جانیے۔

اس کائنات اور دنیا کا کاروبار ’’کچھ لو اور کچھ دو‘‘ کے اصول پر چلتا ہے اور یہی برابری کا اصول ہے۔ اگر آپ کچھ خدمات دیے بغیر صرف وصول کرنے پر یقین رکھتے ہیں تو اسے بھیک، صدقہ، خیرات یا امداد ہی کہہ سکتے اور اس کی بھی قیمت ہوتی ہے کہ جو غیرت، وقار، عزت نفس، قدر و منزلت، حشمت، حرمت، آبرو اور خودداری کی صورت میں ادا کرنی پڑتی ہے اور من حیث القوم ہم سے زیادہ اس کا ادراک اور کس کو ہوگا؟

آخر میں حسب روایت ایک کہانی اور اختتام۔ ایک صاحب کہ جن کا نام ڈونلڈ ڈک تھا ان کے پاس یکایک بہت بہت زیادہ پیسہ آگیا اور انھوں نے اپنی امارت کا اظہار کرنے کےلیے اپنے دوستوں عربی، عجمی، یورپی، پوربی، چینی غرضیکہ اپنے تمام حامیوں کی ایک دعوت کا اہتمام کیا۔ دعوت کے اختتام پر انھوں نے اپنے تمام مہمانوں کو اپنے محل نما گھر جو کہ پورا سفید ماربل کا بنا ہوا تھا اس کا دورہ کرایا۔ ایک بڑے کمرے میں ایک بہت ہی بارعب شخص کی بڑی سی تصویر لگی ہوئی تھی۔ تمام مہمانوں نے استفسار کیا کہ یہ صاحب کون ہے؟ اس پر ڈونلڈ ڈک نے کہا کہ یہ میرے جد امجد ہے اور ان سے ہمارا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ اس کے بعد انھوں نے اپنے جد امجد کی بہادری اور سخاوت کی مبالغہ آرائی بلکہ دروغ گوئی کی حد تک کی کہانیاں سنانی شروع کردی۔ اب ان سب مہمانوں نے ان کا (مفت) ظہرانہ کھایا تھا اس لیے چپ کرکے سنتے رہے مگر ایک مہمان سے برداشت نہ ہوا اور اس نے کہا کہ تھوڑے سے پیسوں کی وجہ سے میرا سودا ٹوٹ گیا تھا ورنہ آج یہ میرے جد امجد ہوتے۔

اگر اس کہانی کا کوئی تعلق آپ کو بین الاقوامی سیاست سے لگتا ہے تو یہ آپ کے اپنے ذہن کا فتور ہے اور اس میں میرا کوئی قصور نہیں۔ ہاں اس میں سمجھنے والوں کےلیے نشانیاں ہیں، اگر وہ سمجھنا چاہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کاروباری دنیا میں کھانے کی ہوتا ہے ہوتی ہے کی قیمت کا آغاز اور اس ہے اور

پڑھیں:

کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک

ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار  تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا  تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
  • ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
  • عاطف اسلم کا نیا البم ’صبح آئے نہ‘ کب ریلیز ہو گا؟ گلوکار نے بڑی اپڈیٹ دے دی
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • آپریشن سندور کی ناکامی پر بھارتی حکومت کا بیانیہ اپنے ہی شہریوں نے زمین بوس کر دیا 
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک