Islam Times:
2026-07-24@10:49:37 GMT

پاک ایران ہندوستان تعلقات

اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT

پاک ایران ہندوستان تعلقات

اسلام ٹائمز: ایران اور ہندوستان کے مابین تعلقات کی نوعیت کا سوال ایک ایسا سوال ہے جسے بین الاقوامی تعلقات کے قوانین و ضوابط کو مد نظر رکھ کر کرنا چاہیئے۔ آخر پاکستان کے بھی اس ملک سے تعلقات ہیں جسے ایران آج کی سب سے بڑی طاغوتی طاقت اور اس مملکت کے سربراہ کو شیطان بزرگ کہتا ہے۔ لیکن ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کی پاکستان اور ایران کے باہمی تعلقات بین الاقوامی تعلقات میں اپنی ایک الگ پہچان رکھتے ہیں۔ نیز یہ کہ دونوں ممالک کی عوام کے باہمی رشتے کی گہرائی خلیج فارس اور بحیرہء عرب کی گہرائی سے زیادہ ہے۔ تحریر: پروفیسر سید تنویر حیدر نقوی

بین الاقوامی تعلقات سے مراد بین الاقوامی قوانین کے تحت قوموں، ملکوں اور انفرادی سطح پر باہمی تعلقات ہیں۔ اس حوالے سے دنیا کی اقوام ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ البتہ قوموں کے مابین مختلف قسم کے تنازعات کی بھی ایک تاریخ ہے۔ یہ تنازعات بعض اوقات جنگوں کی صورت میں بھی نمودار ہوتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود عام طور پر قوموں اور ملکوں کے باہمی تعلقات مختلف دائروں میں اپنا سفر جاری رکھتے ہیں۔ مثلاً ہندوستان اور پاکستان کے مابین جنگ و جدل کی ایک تاریخ ہے۔ انڈیا نے پاکستان کے جنم لینے کے بعد ہی اس نوزائدہ مملکت کی شہ رگ، کشمیر کو اپنی گرفت میں لے لیا تھا۔

اس کے بعد ہندوستان نے پاکستان کی عین جوانی میں اس کے بدن کے ایک حصے کو اس کے تن سے جدا کر دیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود بین الاقوامی تعلقات کا لحاظ کرتے ہوئے ہمارے ہندوستان سے سفارتی تعلقات قائم ہیں۔ انڈیا سے ہمارے تعلقات میں اتار چڑھاؤ باقی رہتا ہے۔ کبھی ہم اس سے دوستی کی باتیں کرتے ہیں اور کبھی اس سے دشمنی پر اتر آتے ہیں۔ لیکن اس مدوجزر کے باوجود ہمارے آپسی تعلقات مکمل ختم نہیں ہوتے۔ ہمارے انڈیا کے ساتھ سفارتی تعلقات کے ساتھ ساتھ تجارتی اور ثقافتی تعلقات بھی ہیں جو حالات کے مطابق کم یا زیادہ ہوتے رہتے ہیں۔

سر مطلب یہ کہ کسی ملک کے کسی ملک سے ایک خاص پیمانے تک باہمی تعلقات سے مراد یہ ہر گز نہیں ہوتا کہ ان ملکوں کے مابین جو اصولی اور نظریاتی اختلافات ہوتے ہیں ان پر لکیر کھینچ دی جاتی ہے۔ بعض صورتوں میں کاٹ کھانے والے اختلافات اپنا وجود باقی رکھتے ہیں لیکن امن عالم قائم رکھنے کے لیے انہیں رسی سے باندھ کر رکھنا پڑتا ہے۔ ایران بھی ہمارا ایک ایسا برادر، ہمسایہ اور اسلامی ملک ہے جو بین الاقوامی برادری کا ایک حصہ ہے۔ اس کے بھی دنیا میں دوست دشمن موجود ہیں۔ کئی ایسے ممالک ہیں جن کے ساتھ اس کے اصولی اختلاف اپنے مقام پر موجود ہیں۔ ان میں سے ایک بھارت بھی ہے۔

ایران جہاں ایک جانب بھارت سے ایک حد تک اپنے تجارتی تعلقات استوار کیے ہوئے ہے، وہاں دوسری جانب وہ کشمیریوں کے حوالے سے اپنا ایک اصولی موقف رکھتا ہے، ان کے حقوق کی کھل کر بات کرتا ہے اور ان پر ہونے والے مظالم کی مذمت کرتا ہے۔ ایران کے نہ صرف بھارت سے تعلقات ہیں بلکہ بھارت سے بڑھ کر اس کے ایسے ممالک سے بھی اچھے تعلقات ہیں جن کے ساتھ وہ بھارت سے زیادہ اپنے تحفظات رکھتا ہے۔ مثلاً ایران کا ایک اور ہمسایہ ملک ترکی بھی ہے۔ بین الاقوامی مفادات کے تناظر میں ترکی نے بعض حوالوں سے ایران کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ مثلاً ترکی ہی وہ ملک ہے جس نے شام میں ایران کی ایک حامی حکومت کے خاتمے اور اس کی جگہ جولانی حکومت کو برسراقتدار لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

اس کے علاوہ وہ ترکی ہی ہے جس نے اس سے قبل  بشارالاسد کی حکومت کو گرانے کے لیے دنیا بھر کے تکفیریوں کو مجتمع کر کے اور انہیں تربیت دے کر انہیں اپنی سرحد سے شام میں داخل کیا۔ ترکی کے اسرائیل سے بھی سفارتی تعلقات ہیں۔ لیکن ان سب باتوں کے ہوتے ہوئے بھی ایران کے اس ملک سے ایسے سفارتی، تجارتی اور اقتصادی تعلقات ہیں جو کئی میدانوں میں ہندوستان سے بھی زیادہ گہرے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے حوالے سے ترکی کئی فورموں پر ایران کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے۔

اسی طرح ایران کے ہمسایے میں ایک اور مسلم ملک آذربائیجان ہے جس کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی اور دفاعی نوعیت کے تعلقات ہیں اور ایران کے مقابلے میں اسرائیل کی طرف اس کا جھکاؤ زیادہ ہے نیز اس پر ایران کے دفاع کو کمزور کرنے کے حوالے سے کئی طرح کے الزامات بھی ہیں لیکن اس کے باوجود ایران کئی سطحوں پر انڈیا کے مقابلے میں آذربائیجان سے زیادہ قریب ہے۔ لہذا ان تمام حقائق کو دیکھ کر ایران پر اس اعتراض کی یہ گنجائش باقی نہیں رہتی کہ اس کے انڈیا سے تعلقات کیوں ہیں؟ امر واقعہ یہ ہے کہ حالیہ پاکستان ہندوستان محدود جنگ میں ایران اور ہندوستان کے مابین تعلقات میں کافی سرد مہری آ چکی ہے اور ایران اور پاکستان ایک دوسرے سے زیادہ قریب آئے ہیں۔

ایران اور ہندوستان کے مابین تعلقات کی نوعیت کا سوال ایک ایسا سوال ہے جسے بین الاقوامی تعلقات کے قوانین و ضوابط کو مد نظر رکھ کر کرنا چاہیئے۔ آخر پاکستان کے بھی اس ملک سے تعلقات ہیں جسے ایران آج کی سب سے بڑی طاغوتی طاقت اور اس مملکت کے سربراہ کو شیطان بزرگ کہتا ہے۔ لیکن ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کی پاکستان اور ایران کے باہمی تعلقات بین الاقوامی تعلقات میں اپنی ایک الگ پہچان رکھتے ہیں۔ نیز یہ کہ دونوں ممالک کی عوام کے باہمی رشتے کی گہرائی خلیج فارس اور بحیرہء عرب کی گہرائی سے زیادہ ہے۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: بین الاقوامی تعلقات باہمی تعلقات تعلقات میں تعلقات ہیں پاکستان کے کے باوجود ایران اور رکھتے ہیں اور ایران سے تعلقات کی گہرائی ایران کے بھارت سے کے مابین کے باہمی حوالے سے سے زیادہ کے ساتھ لیکن اس اور اس ملک سے

پڑھیں:

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سینئر عہدیدار ایریکا گویرا روزاس نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی گرفتاری اور ان پر بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کو انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کا احترام کرتے ہوئے عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد یقینی بنانا چاہیے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سینئر ڈائریکٹر برائے تحقیق، وکالت، پالیسی اور مہمات، ایریکا گویرا روزاس نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی گرفتاری اور ان کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

Instead of waging a campaign against the @IntlCrimCourt and continuing to arm a government committing genocide, US authorities should uphold human rights and respect the rule of law. @NYCMayor Mamdani is right: @netanyahu should be arrested, and brought before the International… pic.twitter.com/mai4rtENAh

— Erika Guevara Rosas (@ErikaGuevaraR) July 23, 2026

ایریکا گویرا روزاس نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں نیویارک کے میئر زوہران ممدانی کے حالیہ مؤقف کی حمایت کی، جنہوں نے کہا تھا کہ اگر بنیامین نیتن یاہو نیویارک کا دورہ کریں تو انہیں گرفتار کیا جانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے نیتن یاہو جنگی مجرم، اس کی جگہ جیل ہے، ظہران ممدانی ستمبر میں اسرائیلی وزیراعظم  کو گرفتار کرنے پر بضد

روزاس نے اپنے بیان میں کہا کہ  امریکی حکام کو انسانی حقوق کے تحفظ اور قانون کی حکمرانی کا احترام کرنا چاہیے۔

واضح رہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) نے 2024 میں بنیامین نیتن یاہو کے خلاف غزہ میں جنگی جرائم کے الزامات کے تحت گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔ عدالت کا مؤقف ہے کہ غزہ میں جاری جنگ کے دوران مبینہ جنگی جرائم کے الزامات کی باقاعدہ تحقیقات اور قانونی کارروائی ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیے نیتن یاہو کو گرفتار کریں گے، ہنگری کے نومنتخب وزیراعظم کا بڑا اعلان

اسرائیل آئی سی سی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے، جبکہ غزہ میں جاری جنگ اور انسانی بحران کے تناظر میں اسرائیلی قیادت کے خلاف بین الاقوامی سطح پر قانونی اور سفارتی دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایمنسٹی انٹرنیشنل جنگی جرائم نیتن یاہو

متعلقہ مضامین

  • اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو بین الاقوامی اعزاز پر مبارکباد
  • اسحاق ڈار اور چینی وزیر خارجہ وانگ ای کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال
  • ABN نیوز نے مبینہ جعلی بین الاقوامی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • وزیرِ پیٹرولیم کی بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم