اب مذاکرات نہیں سڑکوں پردما دم مست قلندر ہوگا،عمران خان
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد:سابق وزیراعظم اور بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ اب کسی سے کسی بھی قسم کے مذاکرات نہیں ہوں گے! صرف اور صرف سڑکوں پر احتجاج ،دما دم مست قلندر ہوگا تاکہ قوم زبردستی کے مسلط کردہ کٹھ پتلی حکمرانوں سے نجات حاصل کرے۔عمران خان کے ایکس اکاﺅنٹ پر جاری ہونے والے بیان میں ا ±ن کا مزید کہنا تھا کہ جب ایک قوم اپنے حق کے لیے خود کھڑی ہو جاتی ہے پھر اس کو کوئی طاقت جھکا نہیں سکتی۔
تمام پاکستانیوں کو اب اپنی حقیقی آزادی کے لیے باہر نکلنا ہو گا۔ ا ±ن کا کہنا تھا کہ ملک کی خاطر میں نے بارہا مذاکرات کی بات کی مگر اب مذاکرات کا وقت گزر چکا ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد اس ملک میں آئین و قانون اور انصاف کو دفن کر دیا گیا ہے۔ ہمیں عدالتوں سے انصاف کی جو امید تھی وہ مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک گیر تحریک کا مکمل لائحہ عمل اسی ہفتے پیش کیا جائے گا، پانچ اگست کو میری نا حق قید کو پورے 2 برس مکمل ہو جائیں گے۔
اسی روز ہماری ملک گیر احتجاجی تحریک کا نقطہ عروج ہوگا۔انھوں نے کہا کہ دوٹوک پیغام دے رہا ہوں کہ تحریک انصاف کا جو عہدہ دار اس تحریک کا وزن نہیں اٹھا سکتا وہ ابھی سے الگ ہو جائے۔دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے عبوری چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے اڈیالہ جیل میں پارٹی کے بانی عمران خان سے ملاقات کی۔جیل کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے تصدیق کی کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کارکنوں، حامیوں اور عوام سے کہا ہے کہ وہ 5 اگست سے شروع ہونے والی پرامن لیکن مو ¿ثر احتجاجی مہم کے لیے تیار ہوں۔انھوں نے کہا کہ یہ اب صرف سیاسی انتقام کا معاملہ نہیں رہا، یہ ہر شہری کے حقوق چھن جانے کا معاملہ ہے، بانی نے کہا ہے کہ یہ تحریک اب دوسری تحریک پاکستان کی شکل اختیار کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔