بیجنگ(نیوز ڈیسک)یورپی یونین کی جانب سے چینی کمپنیوں پر بڑے طبی آلات کی خریداری پر پابندی کے جواب میں چین نے بھی جوابی اقدام کرتے ہوئے یورپی کمپنیوں پر اسی نوع کی پابندیاں عائد کردی ہیں۔

بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق اتوار کو وزارت خزانہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق 6 جولائی سے یورپی یونین کی کمپنیوں کو چینی حکومت کی طرف سے ان طبی آلات کی خریداری سے خارج کر دیا جائے گا جن کی مالیت 45 ملین یوان (6.

3 ملین امریکی ڈالر) سے زیادہ ہو گی۔

وزارت تجارت نے ایک الگ بیان میں کہا کہ چین میں یورپی سرمایہ کاری سے قائم کی گئی کمپنیوں پر یہ پابندیاں لاگو نہیں ہوں گی۔

چین کا یہ اقدام یورپی یونین کی جانب سے چینی طبی آلات بنانے والی کمپنیوں کو 50 لاکھ یورو (5.7 ملین امریکی ڈالر) سے زیادہ کے عوامی معاہدوں تک رسائی محدود کرنے کے منصوبے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔

اس اقدام سے چینی کمپنیوں کی تقریباً 60 فیصد عوامی شعبے میں رسائی محدود ہو جائے گی، جو تقریباً 150 ارب یورو بنتی ہے۔

ایک یورپی یونین کے عہدیدار کے مطابق جو ان منصوبوں سے واقف ہے،یونین نے یہ بھی کہا ہے کہ کامیاب بولیوں میں چینی مصنوعات کا تناسب 50 فیصد سے زیادہ نہیں ہو گا۔

یورپی کمیشن کے بیان کے مطابق 2015 سے 2023 کے درمیان یورپی یونین کو چینی طبی آلات کی برآمدات دوگنا سے زیادہ ہو گئی ہیں۔

بلومبرگ نے جمعے کو رپورٹ کیا تھا کہ چینی حکومت نے یورپی یونین کے رہنماؤں کے ساتھ ہونے والی دو روزہ سربراہی ملاقات کو کم کر کے صرف ایک دن کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے جس سے یورپ اور بیجنگ کے درمیان کشیدگی کا اظہار ہوتا ہے۔

چین نے جمعہ کو یورپی برانڈی پر اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی بھی عائد کی، تاہم ان بڑی کونیاک بنانے والی کمپنیوں کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا جو کم از کم قیمتوں پر متفق ہو گئیں۔

یہ اقدام یورپی یونین کی جانب سے 2024 میں چینی الیکٹرک گاڑیوں پر 45 فیصد تک کے محصولات عائد کرنے کے فیصلے کے بعد اٹھایا گیا۔

یورپی ممالک نے شکایت کی ہے کہ چینی حکومت اسٹیل سمیت مختلف شعبوں میں زائد پیداوار، غیر منصفانہ سبسڈی اور اپنی معیشت تک رسائی کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: یورپی یونین کی طبی آلات کی کمپنیوں پر کے مطابق سے زیادہ

پڑھیں:

امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے

امریکا نے جبری مشقت کی روک تھام میں ناکامی پر60 سے زائد تجارتی شراکت داروں پر 10 سے 12.5 فیصد تک ٹیرف عائد کردیئے ہیں۔ 24 جولائی سے نئے ٹیرف کا اطلاق ہو رہا ہے اور پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جن پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ نیا اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کے نظریے کو بحال کرنے کی کوشش ہے۔ فروری 2026 میں امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک کی اشیا پر لگائے جانے والے 10 سے 50 فیصد اضافی ٹیرف کے نفاذ کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس بار ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکی ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 301 کو استعمال کرکے 60 سے زائد ممالک پر ٹیرف عائد کیے جا رہے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ممالک جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے اور اس حوالے سے قوانین کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ارجنٹینا، بنگلا دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ دیگر 38 ممالک کی درآمدی اشیا پر 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ کچھ امریکی تجارتی شراکت داروں جیسے آسٹریلیا اور برازیل نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نئے ٹیرف غیرمنصفانہ ہیں اور وہ انہیں ختم کرانے کی کوشش کریں گے جبکہ ناروے کا کہنا تھا کہ بے بنیاد الزامات پر اس کا نفاذ کیا جا رہا ہے۔ نئے ٹیرف میں مختلف درآمدی اشیا جیسے خام تیل، قدرتی گیس، مخصوص غذائی اجناس اور اشیا سمیت کھاد کو شامل نہیں کیا گیا۔ اسی طرح جو اشیا جیسے اسٹیل، گاڑیاں، ایلومنیم اور تانبا وغیرہ پہلے سے سیکشن 232 نیشنل سکیورٹی ٹیرف میں شامل ہیں، ان پر بھی اس کا نفاذ نہیں ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • فرانس میں جنگلاتی آگ نے 43 ہزار افراد کو انخلا پر مجبور کردیا
  • بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے ایک ماہ میں47ارب81کروڑ روپے کی اووربلنگ کا انکشاف
  • فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • وزیرِ پیٹرولیم کی بین الاقوامی توانائی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام