امریکا پاکستان اور بھارت تعلقات کی تشکیل جدید
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بھارت اور امریکا کے تعلقات میں ایک جہاں ایک بحرانی سی کیفیت دکھائی دی رہی ہے وہیں دونوں ملکوں کے درمیان اس صورت حال سے نکلنے کے لیے ہمہ جہتی مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ پاکستان اور بھارت دونوں کے ساتھ امریکا تعلقات کی ایک نئی کہانی رقم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ دونوں ملکوں کو ان کے دو روایتی دوستوں چین اور روس سے تھوڑا دور کرتے ہوئے اپنے قریب لانے کی کوشش زوروں پر ہے۔ بھارت تمام تر دباؤ کے باوجود روس کے ساتھ اپنے تاریخی تعلقات کو امریکی پسند کی سطح پر لانے سے انکاری ہے اسی طرح پاکستان کو اپنے روایتی دوست چین سے فاصلہ اختیار کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے ہر طرح کی ترغیب دی جارہی ہے۔ ایسے میں بظاہر امریکا کا جھکاؤ بھارت کے بجائے پاکستان کی طرف ہوتا محسوس ہورہا ہے جو محض فریب ِ نظر نہ سہی مگر ایک عارضی سی بات ہے۔ اگر بھارت کے ساتھ زیادہ بہتر سمجھوتا نہیں بھی ہوتا تو بھی امریکا چین کے مقابل اور متبادل کی آس پر بھارت کو خصوصی سلوک اور رعایت کا مستحق سمجھتا رہے گا۔ پاکستان کی اہمیت فقط جنگوں کی وجہ سے ہے۔ افغانستان کی جنگ، ایران کی جنگ، چین کی جنگ بس جنگوں کے جتنے خاکے امریکیوں کے ذہنوں اور کاغذوں میں ہیں پاکستان کی اہمیت صرف اتنی ہی ہے۔ ماضی میں پاکستان نے بھرپور کوشش کی امریکا اسے ان علاقائی ملکوں کے بجائے پاکستان کی عینک سے دیکھے اور اس کے ساتھ تجارتی معاہدات کرے مگر امریکا نے پاکستان کی اس خواہش کو اہمیت نہیں دی۔ امریکی منصوبہ سازوں کو اندازہ تھا کہ پاکستان کی حکمران اشرافیہ کو سہولتوں، مراعات، سیر وتفریح، بچوں کی رہائش، کاروبار اور تعلیم کی ضرورت کے لیے امریکا کی مستقل ضرورت رہے گی اور چین کے ساتھ ایسی کشش اور تعلق قائم نہیں ہوسکتا۔
امریکی افواج کے افغانستان سے انخلا کے فوری بعد اسلام آباد میں امریکا کے سابق سفیر رچرڈ اولسن نے اپنے ایک مضمون میں اسی اعتماد کا اظہار کیا تھا یہ وہ زمانہ جب امریکا اور پاکستان کے درمیان دنیا کے کئی ملکوں میں اسٹرٹیجک ڈائیلاگ کے نام پر مذاکرات کا سلسلہ جاری تھا۔ رچرڈ اولسن کا کہنا تھا کہ متذکرہ بالا مجبوریوں کے باعث پاکستان کی حکمران اشرافیہ کے پاس امریکا کے ساتھ تعلق رکھنے کے سوا کوئی آپشن ہی موجود نہیں۔ انہی دنوں جنرل قمر جاوید باجوہ نجی محفلوں میں چین کی مخالفت اور امریکا کی حمایت کرتے نظر آتے تھے۔ پاکستان کو چونکہ امریکا تزویراتی زاویے سے دیکھتا ہے اس لیے وہ پہلے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سے اور بعدازاں پاک فضائیہ کے سربراہ سے مذاکرات کر چکا ہے۔ اس کے برعکس بھارت کے ساتھ امریکا کے تعلقات ہمہ جہتی ہیں تو وہ ان سے کئی سطحوں پر مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ ایک وفد دفاعی امور پر بات چیت کو آگے بڑھا رہا ہے تو دوسرا تجارتی معاملات اور ٹیرف کی جنگ کی گتھی کو سلجھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
چین کی سرپرستی میں قائم شنگھائی کانفرنس سے اعلامیہ پر دست خط نہ کرکے دل برداشتہ ہو کر نکلنے والے بھارت کو مغرب سے اس وقت دست مسیحائی میسر آیا جب امریکا کی سرپرستی میں قائم تنظیم کواڈ کے مشترکہ اعلامیے میں وہ تمام خواہشات اور محاورے سمو دیے گئے جو شنگھائی کانفرنس میں اپنائے اور ٹھونسے نہ جا سکے تھے۔ شنگھائی کے دل برداشتہ بھارت کو کواڈ میں پہل گام اور سرحد پار دہشت گردی کا بھرپور ذکر کرے خوش کر دیا گیا۔ کواڈ وزرائے خارجہ کے اجلاس کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ پہل گام کے مرتکبین کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ کواڈ کے اس اجلاس میں امریکا کے سیکرٹری خارجہ مارکو روبیو۔ بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر آسڑیلیا کی وزیر خارجہ پینی وانگ اور جاپانی وزیر خارجہ تا کیشی کیوابا نے شرکت کی تھی۔ جس کے بعد بھارت کے وزیر خارجہ نے اعلان کیا تھا کہ امریکا کے ساتھ بھارت کے دفاعی تعلقات پہلے ہی مضبوط ہیں اور اس کے علاوہ بھی بہت کچھ کیا جا سکتا ہے۔ یہ اس بات کا پیغام تھا کہ بھارت ایک مقام پر جا کر امریکا کے مطالبات کے آگے سرینڈر بھی کر سکتا ہے۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی یہ اشارے دیے ہیں کہ امریکا بھارت کے ساتھ کئی زیر التوا دفاعی سودے مکمل کر سکتا ہے جس میں مشترکہ دفاعی صنعت اور دفاعی پیداوار اور دونوں افواج کے درمیان قریبی تعاون بھی شامل ہے۔ یہ بھارت اور امریکا کے درمیان تزویراتی مقاصد کے یکجا ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ اس کے ساتھ تجارتی تعلقات میں ٹیرف اور جوابی ٹیرف کی جنگ بھی اب ختم ہوتی جا رہی ہے۔
بھارت کے محکمہ کامرس کے خصوصی سیکرٹری راجیش اگروال ایک وفد کے ہمراہ تجارتی اختلافات کو حل کرنے کے لیے امریکا گئے تھے مگر ان کا قیام ایک ہفتے پر محیط ہوگیا۔ امریکا کی خواہش ہے کہ بھارت روس پر تیل کی خریداری کا انحصار کم کرکے یوکرین کے ساتھ اظہار یک جہتی کرے۔ بھارت روس سے اپنی ضروریات کا چالیس فی صد تیل خریدتا ہے۔ امریکا پوری کوشش کے باوجود اس میں کمی نہیں کر اسکا۔ یہ بات طے ہے کہ اگر بھارت امریکا کا یہ مطالبہ مانتا ہے تو اسے دوسرے ملکوں سے مہنگے داموں تیل خریدنا پڑے گا اور جس کا اثر بھارت کی معیشت پر پڑے گا۔ مہنگائی میں اضافے کے باعث عوام میں ناراضی پید اہوجائے گی۔ بھارت کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ساتھ بھی امریکا کے مذاکرات ٹیرف اور دفاع دونوں سطحوں پر جاری ہیں۔ بظاہر امریکا دونوں ملکوں سے تجارت پر بات کررہا ہے مگر حقیقت میں اصل وجہ نزع دفاعی اور تزویراتی ہے جس میں تجارت محض ایک ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔ بھارت کو روس سے تو پاکستان کو چین سے دور کرنا اصل مقصد ہے اور اس کے اثرات تجارتی شعبے پر منعکس ہو تے دکھائی دے رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ دونوں ملک ان مشکل حالات سے کس طرح نبر د آزما ہوتے ہیں؟۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بھارت کے ساتھ پاکستان کی کے درمیان امریکا کے امریکا کی بھارت کو کی جنگ تھا کہ کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔