چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت اجلاس، کمرشل پلاٹوں کی 15سے 17جولائی تک اوپن نیلامی کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت اجلاس، کمرشل پلاٹوں کی 15سے 17جولائی تک اوپن نیلامی کا فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 9 July, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)چیئرمین سی ڈی اے، چیف کمشنر اسلام آباد اور ڈائریکٹر جنرل سول ڈیفنس محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت سی ڈی اے ہیڈکوارٹرز میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سی ڈی اے کے ممبر ایڈمن و اسٹیٹ طلعت محمود، ممبر فنانس طاہر نعیم، ممبر انوائرمنٹ اسفند یار بلوچ، ممبر انجینئرنگ سید نفاست رضا، ممبر پلاننگ ڈاکٹر خالد حفیظ،ڈی جی ریسورس، ڈپٹی ڈی جی انفورسمنٹ اور ڈائریکٹر ڈی ایم اے سمیت دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں سی ڈی اے کے کمرشل پلاٹوں کی 15 سے 17 جولائی2025 تک اوپن اکشن کے علاوہ وفاقی دارلحکومت اسلام آباد شہر میں کھیلوں کے فروغ، ہوٹل انڈسٹری کی ترقی اور سیاحت سے متعلق موجودہ اور مستقبل کے منصوبوں پر تفصیلی ئتبادلہ خیال کیا گیا۔
چیئرمین سی ڈی اے نے ہدایت کی کہ کمرشل پلاٹس کی آنے والی نیلامی میں حصہ لینے والے سرمایہ کاروں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہمی کی جائیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ مختلف کیٹیگریز کے کمرشل پلاٹس کی نیلامی میں سرمایہ کاروں کو بہترین مواقع فراہم کئے جارہے ہیں۔ جس میں سرمایہ کاروں کو تقریبا 46 کمرشل پلاٹس اور بلیو ایریا میں پارکنگ پلازہ کی دکانیں نیلامی کیلئے پیش کی جارہی ہیں۔ چیئرمین سی ڈی اے نے ہدایت کی کہ سرمایہ کاروں کو نیلامی سے متعلق مکمل آگاہی فراہم کرنے کیلئے متعلقہ معلومات سی ڈی اے کی تمام ونگز سے لینے کے علاوہ مستقبل کے منصوبے کے حوالوں سے معلوماتی (انفارمیشن)کاونٹرز اور بوتھ قائم کیے جائیں ۔ ان منصوبوں میں شامل گندھارا ہیریٹیج اینڈ سٹیزن سینٹر، ہوٹل پلاٹس ،تھیم پارکس، میلوڈی فوڈ سٹریٹ ،لیک ویو پارکس اور سید پور ویلیج میں سرمایہ کاری کیلئے مختلف منصوبے شامل ہونگے۔ اسی طرح ڈی ایم اے کے تحت سید پور ویلج کے ریسٹورٹس، مختلف دکانیں، میلوڈی فوڈ کیوسکس، ڈیجٹل پارکنگ و سکرینز اور ڈپلومیٹک انکلیو میں فوڈ کورٹس شامل ہونگے۔
ان تمام اقدامات کا مقصد اسلام آباد شہر کو دنیا بھر میں ایک میزبانی، سپورٹس اور سیاحتی شہر کے طور پر متعارف کروانا ہے۔اجلاس کو بریفننگ دیتے ہوئے ڈائریکٹر سپورٹس اینڈ کلچر نے بتایا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی کے احکامات کی روشنی میں 25 فٹبال اور 25 کرکٹ گرانڈز کیلئے سی ڈی اے کے پلاننگ ونگ نے جگہ مختص کردی ہے جن پر بتدریج کام کا آغاز کردیا جائے گا۔ اسی طرح فٹسال کے تین گراونڈز اور ایک انڈور کرکٹ گراونڈ کیلئے بھی جگہ مختص کردی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اسلام آباد میں 5 کرکٹ اکیڈمیز کا قیام بھی عمل میں لایا جارہا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ شہر میں کھیلوں کیلئے سپورٹس کمپلیکس کیلئے جگہوں کا تعین ہورہا ہے۔ ان کمپلیکسز میں سوئمنگ پولز، جم، انڈور گیمز اور کافی شاپ کی سہولیات میسر ہونگی۔ جو نہ صرف کھیلوں بلکہ فیملیز کیلئے تفریحی مراکز کے طور پر بھی ہونگے۔چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ سی ڈی اے کا عزم ہے کہ اسلام آباد کو ایک جدید اور خوبصورت شہر بنانے کیلئے تمام ضروری اقدامات اور منصوبے بروقت مکمل کئے جائیں تاکہ شہریوں کو بہترین سیاحتی اور تفریحی سہولیات فراہم کی جاسکیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمسلم لیگ ن نے قومی اسمبلی میں خواتین کی 2 مخصوص نشستوں کیلئے ٹکٹ جاری کردیے مسلم لیگ ن نے قومی اسمبلی میں خواتین کی 2 مخصوص نشستوں کیلئے ٹکٹ جاری کردیے بینک کا گوشوارہ آمدن ثابت کرنے کیلئے کافی نہیں ،سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ سپریم کورٹ ، سابق وفاقی وزیر فواد چودھری کیخلاف 9مئی کیسز سماعت کیلئے مقرر خیبرپختونخوا حکومت کا امن وامان کی صورتحال پر آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ صدر ٹرمپ کی پیوٹن پر سخت تنقید، روس پر مزید پابندیوں کا عندیہ دیدیا سنسنی پھیلانے والے بھگوڑے یوٹیوبرز کے چینل بند کرکے کرمنل کارروائی بھی کی جائیگی، طلال چوہدریCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: چیئرمین سی ڈی اے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔