Islam Times:
2026-07-24@10:24:22 GMT

یمن نے اسرائیل سے منسلک ایک اور بحری جہاز کو ڈبو دیا

اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT

یمن نے اسرائیل سے منسلک ایک اور بحری جہاز کو ڈبو دیا

یحییٰ سریع کے مطابق یمن کی بحری افواج کے انتباہات کو نظرانداز کرنے کی وجہ سے یہ کشتی نشانہ بنائی گئی۔ یہ بحری فوجی آپریشن مظلوم فلسطینی عوام کی حمایت اور ان کے بہادر مجاہدین کی مدد کے لیے کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ یمن نے اسرائیل سے منسلک ایک اور بحری جہاز کو تباہ کر کے ڈبو دیا ہے۔ یمن کی مسلح افواج نے بحری جہاز (ETERNITY C) کو ایلات بندرگاہ کی طرف جاتے ہوئے ایک ڈرون اور 6 کروز اور بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا اور اسے ڈبو دیا۔ یمن کی مسلح افواج کے ترجمان یحییٰ سریع نے ایک بیان میں کہا کہ یمن کی مسلح افواج نے کشتی (ETERNITY C) کو بندرگاہ ام الرشراش (ایلات) کی طرف جاتے ہوئے ایک ڈرون اور 6 کروز اور بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ اس آپریشن کے نتیجے میں کشتی مکمل طور پر ڈوب گئی، اور اس آپریشن کی ویڈیوز احتیاط سے ریکارڈ کی گئی ہیں۔ کشتی کے کچھ عملے کو بچا لیا گیا، انہیں ضروری طبی امداد فراہم کی گئی اور یمن کی نیوی کے کمانڈوز نے انہیں محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔ یہ کشتی اس وقت نشانہ بنائی گئی جب مالک کمپنی نے بندرگاہ ام الرشراش (ایلات) کے ساتھ اپنے تعلقات اور تعاون کو دوبارہ شروع کیا، جو کہ فلسطین کے مقبوضہ بندرگاہوں تک رسائی پر پابندی کی کھلی خلاف ورزی ہے۔  یحییٰ سریع کے مطابق یمن کی بحری افواج کے انتباہات کو نظرانداز کرنے کی وجہ سے یہ کشتی نشانہ بنائی گئی۔ یہ بحری فوجی آپریشن مظلوم فلسطینی عوام کی حمایت اور ان کے بہادر مجاہدین کی مدد کے لیے کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اسرائیلی رژیم کی بحیرہ احمر اور عرب سمندر میں جہازرانی کو روکنے پر اپنی پالیسی جاری رکھیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: یمن کی

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم