کوئی بھی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو نشانہ بنانے کی جرات نہیں کرسکتا: ڈی جی آئی ایس پی آر
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
—فائل فوٹو
پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ کوئی بھی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو نشانہ بنانے کی جرات نہیں کرسکتا، پاکستان کا ایٹمی پروگرام مکمل طور پر محفوظ ہے۔
غیرملکی چینل کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جوہری صلاحیت ناقابل تسخیر ہے، یہ پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں اور موجودہ علاقائی توازن پر اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اسلامی ریاست کے خلاف کسی بھی جارحیت کو علاقائی استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا ہے، بھارتی سیاسی قیادت متعدد مواقع پر پاکستان میں دہشت گردی کی پشت پناہی کا اعتراف کر چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیے ہمیں شہادت کی آرزو زندگی سے زیادہ ہے: لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری 5 سال کے مقابلے میں اس سال سب سے زیادہ دہشتگرد مارے گئے: لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدریانہوں نے کہا کہ بھارتی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے نیٹ ورک کا ماسٹر مائنڈ اجیت دوول ہے، امریکا اور کینیڈا سمیت کئی ممالک بھارتی ریاستی دہشت گردی کا اعتراف کر چکے ہیں، بھارت پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں کی حمایت اور مالی معاونت کر رہا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بھارت کے مذموم عزائم پاکستان کی سلامتی کو غیرمستحکم کرنے کی منظم سازش ہے، بھارت کے مذموم عزائم بالخصوص بلوچستان کو غیر مستحکم کرنے کی منظم سازش ہے، ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی کو بھارت نے بطور پالیسی پاکستان کے خلاف اپنایا ہوا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اسلام میں جہاد یا قتال کا اختیار صرف ریاست کے پاس ہے، اسلام میں جہاد یا قتال کا کسی فرد، تنظیم یا گروہ کو اختیار نہیں۔ فتنہ الخوارج کا اسلام، انسانیت، پاکستان یا پاکستانی روایات سے کوئی تعلق نہیں، فتنہ الہندوستان کی اصطلاح ان دہشت گردوں کے لیے ہے جو بھارتی حمایت یافتہ ہیں، فتنہ الہندوستان خصوصاً بلوچستان میں ملک کو غیرمستحکم کرنے میں سرگرم ہے۔
انہوں نے کہا کہ خارجیوں کی اصطلاح پاکستانی فوج اور میڈیا میں وسیع پیمانے پر استعمال ہو رہی ہے، خوارج کی اصطلاح ان مسلح گروہوں کے لیے ہے جو ریاست اور فوج پر حملے کرتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ
پڑھیں:
باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
سپریم کورٹ آف پاکستان نے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ بین الاقوامی ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام میں فعال شرکت کرتے ہوئے عالمی سطح پر عدالتی تعاون، پیشہ ورانہ مہارت اور جدید نظامِ انصاف کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے متبادل نظامِ حلِ تنازعات (ADR) کی اہمیت پر خصوصی لیکچر بھی دیا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے عالمی سطح پر عدالتی مہارت اور بین الاقوامی عدالتی تعاون کے فروغ کی کوششوں میں مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام میں شرکت کی۔
سپریم کورٹ کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق 4 روزہ تربیتی پروگرام 21 سے 24 جولائی 2026 تک منعقد ہوا، جس کا اہتمام پاکستان اور آذربائیجان کی وزارت ہائے انصاف کے اشتراک سے کیا گیا۔
اس پروگرام میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی نمائندگی جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کی، جنہوں نے ممتاز ریسورس پرسن کی حیثیت سے شرکت کرتے ہوئے دنیا بھر سے آئے ہوئے ججز، قانونی ماہرین اور انصاف کے شعبے سے وابستہ شخصیات کے ساتھ عدالتی تجربات اور بہترین عملی طریقوں کا تبادلہ کیا۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ‘ADR: A Global Perspective – A Guide for Judges’ کے موضوع پر خصوصی لیکچر دیتے ہوئے انصاف تک بروقت اور مؤثر رسائی میں متبادل نظامِ حلِ تنازعات (Alternative Dispute Resolution – ADR) کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ متبادل نظامِ حلِ تنازعات عدالتی کارکردگی کو بہتر بنانے، مقدمات کے بوجھ میں کمی لانے اور نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد کے فروغ میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے پاکستان میں متبادل نظامِ حلِ تنازعات کے ارتقا پذیر قانونی فریم ورک اور اس حوالے سے عالمی تجربات کا بھی جائزہ پیش کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ججز کو جدید تنازعاتی حل کے طریقوں سے آراستہ کرنا بروقت، مؤثر اور عوام دوست انصاف کی فراہمی کے لیے ناگزیر ہے۔
پریس ریلیز کے مطابق 4 روزہ پروگرام کے دوران عدالتی مہارت، عدالتی اخلاقیات، ادارہ جاتی دیانت داری، کیس مینجمنٹ، عدالتی طرزِ عمل، ابلاغی مہارت، عدالتی ریکارڈ کی الیکٹرانک آرکائیونگ، ڈیٹا کی درستگی اور عدالتی فیصلہ سازی کے جدید رجحانات سمیت مختلف موضوعات پر خصوصی سیشنز اور تبادلۂ خیال کیا گیا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ عدالتی تعلیم، ادارہ جاتی شراکت داری، بین الاقوامی عدالتی تعاون اور بہترین عدالتی طریقہ کار کے تبادلے کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
باکو آذربائیجان بین الاقوامی ایگزیکٹو جوڈیشل ٹریننگ پروگرام سپریم کورٹ آف پاکستان متبادل نظامِ انصاف میاں گل حسن اورنگزیب