بھارت: گجرات میں پل کا حصہ گرنے سے گاڑیاں دریا میں جاگریں، 10 افراد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
گجرات (اوصاف نیوز)بھارتی ریاست گجرات کے گمبھیرا پل کا ایک حصہ گرنے سے 10 افرادہلاک ہوگئے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق گجرات میں پل کا ایک حصہ اس وقت گرا جب اس پر گاڑیاں رواں دواں تھیں جس کے باعث متعدد گاڑیاں بھی دریا میں جاگریں۔
بھارتی میڈیا کا بتانا ہےکہ واقعے کی اطلاع ملنےپر جائے حادثہ پر امدادی کارروائیاں شروع کردی گئی ہیں اور اب تک 10 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔
این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق یہ پُل 40 سال پرانا ہے جس پر بدھ کی صبح ٹریفک کے سبب حادثہ پیش آیا، ریسکیو اہلکاروں نے اب تک صرف 3 افراد کو ریسکیو کیا جب کہ باقی کی تلاش جاری ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق مقامی رہائشیوں کا بتانا ہے کہ پل کی خستہ حالی گزشتہ کئی عرصے سے واضح تھی لیکن حکام نے مرمت کی درخواستیں نہیں سنیں۔
وزیر اعلیٰ گجرات بھوپیندر پٹیل نےمحکمہ روڈ اینڈ بلڈنگ کو اس حادثے کی فوری تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے۔
اسلام آباد ، سنگجانی کے قریب موٹروے پر کوسٹر کھائی میں جا گری ، 17 مسافر زخمی
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔