ٹک ٹاک کی جانب سے امریکا کے لیے علیحدہ ایپ بنائے جانے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک کی جانب سے امریکی صارفین کے لیے ایک علیحدہ ایپلی کیشن بنائے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جسے امریکا میں اس وقت فعال کیا جائے گا جب وہاں ٹک ٹاک پر بندش عائد کی جائے گی۔
امریکی حکومت نے ٹک ٹاک کی بندش کے خلاف قانون بنا رکھا ہے، جس کے تحت اگر ٹک ٹاک اپنے امریکی آپریشنز کسی امریکی کمپنی یا فرد کو فروخت نہیں کرتی تو ایپ کو امریکا میں بند کردیا جائے گا۔
مذکورہ قانون کے تحت ڈونلڈ ٹرمپ ٹک ٹاک کی فروخت اور پابندی سے متعلق معاملات طے پانے کی وجہ سے تین بار ٹک ٹاک پر پابندی کی مدت بڑھا چکے ہیں۔
ابتدائی طور پر ٹک ٹاک کو امریکا میں اپنی سروسز جنوری 2025 تک فروخت کردینی تھی، تاہم ایسا نہ ہوسکا اور ڈونلڈ ٹرمپ بار بار ٹک ٹاک پر بندش کی مدت بڑھاتے آئے، اب ٹک ٹاک کو 17 ستمبر تک ہر حال میں امریکی آپریشنز کسی بھی امریکی ادارے یا شخص کو فروخت کرنے ہوں گے۔
اگر اس بار بھی ٹک ٹاک اپنی سروسز فروخت کرنے میں ناکام رہتا ہے تو امریکا میں ایپلی کیشن بند کردی جائے گی، تاہم ممکنہ طور پر ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر اس کی بندش کی مدت بڑھا سکتے ہیں۔
لیکن اب خبر سامنے آئی ہے کہ اگر ٹک ٹاک کسی سودے تک نہیں پہنچتا اور اس کی ایپلی کیشن امریکا میں بند ہوگی تو ٹک ٹاک نئی تیار کردہ ایپلی کیشن امریکا میں متعارف کرائے گا۔
برطانویخبر رساں ادارے کے مطابق ٹک ٹاک کی جانب سے حالیہ ایپلی کیشن کے طرز کی ہی نئی ایپ تیار کے آخری مراحل میں ہے، جسے امریکا میں ہی متعارف کرایا جائے گا۔
خبر رساں ادارے نے دوسرے نشریاتی ادارے کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ٹک ٹاک امریکا میں اپنی پابندی سے قبل ہی صارفین کو آپشن فراہم کرے گا کہ وہ نئی ایپلی کیشن پر اکاؤنٹ بنا کر سروسز استعمال کرتے رہیں۔
رپورٹس کے مطابق ٹک ٹاک ممکنہ طور پر ستمبر کے پہلے ہفتے میں امریکی صارفین کو نئی ایپلی کیشن جوائن کرنے کا آپشن فراہم کرے گا اور اگر ٹک ٹاک کی فروخت کا معاملہ طے نہیں ہو پاتا اور ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس کی بندش کی مدت نہیں بڑھاتا تو ٹک ٹاک کے بند ہوجانے سے وہاں کے صارفین کو متبادل ایپلی کیشن استعمال کے لیے دستیاب ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: امریکا میں ایپلی کیشن ڈونلڈ ٹرمپ ٹک ٹاک کی کی مدت
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔