ایران نے امریکا سے مذاکرات کی تردید کر دی، ٹرمپ کا دعویٰ مسترد
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تہران : ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ کے بعد ایران امریکا سے مذاکرات کا خواہشمند ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے امریکا سے کسی بھی قسم کی ملاقات یا بات چیت کی کوئی درخواست نہیں کی گئی،ہم نے امریکا سے نہ کوئی رابطہ کیا ہے اور نہ ہی مستقبل قریب میں کوئی بات چیت کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی اس بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب حالیہ دنوں میں اس نے ایران کے خلاف جارحانہ فوجی اقدامات کیے ہیں۔ عراقچی نے کہا کہ “ہم کیسے ایسے ملک کے ساتھ مذاکرات کر سکتے ہیں جس نے خطے میں ہماری خودمختاری کو چیلنج کیا ہو اور ہمارے خلاف عسکری کارروائیاں کی ہوں؟
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے مذاکرات کی بحالی کے حوالے سے کیے گئے بیانات محض سیاسی مقاصد کے لیے ہیں اور ان میں کوئی صداقت نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسے بیانات سے عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
خیال رہےکہ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم نے ایران کے ساتھ مذاکرات طے کر لیے ہیں اور وہ ہم سے ملاقات کے لیے تیار ہیں۔
دوسری جانب خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے اور ایران و امریکا کے درمیان سفارتی تناؤ میں کمی کے کوئی آثار تاحال نظر نہیں آ رہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امریکا سے
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔