عمران خان کے بیٹوں اور بہنوں کا تحریک میں شامل ہونا ان کا حق ہے، سیلمان اکرم راجا
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
پاکستان تحریکِ انصاف کے مرکزی رہنما سیلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ ‘عمران خان کے بیٹوں اور بہنوں کا تحریک میں شامل ہونا ان کا حق ہے، کوئی وجہ نہیں کہ وہ تحریک کا حصہ نہ بنیں’۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلیمان اکرم راجا نے کہا کہ بشریٰ بی بی اور عمران خان کا یہ حق ہے کہ ان کی سزا معطلی کی درخواست فوری طور پر سنی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی نے 15 اکتوبر کا احتجاج کن ممالک کی درخواست پر ملتوی کیا؟ سلمان اکرم راجا نے بتا دیا
وزیرِاعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ کے اُس بیان پر کہ ‘اگر عمران خان کے بیٹے پاکستان آکر احتجاج کریں گے تو انہیں گرفتار کیا جائے گا’، سیلمان اکرم راجا نے ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ‘عمران خان کے بیٹوں اور بہنوں کا تحریک میں شامل ہونا ان کا بنیادی حق ہے، کوئی وجہ نہیں کہ وہ اس جدوجہد کا حصہ نہ بنیں’۔
سیلمان اکرم راجا نے کہا کہ جو لوگ قانون و آئین کے تحفظ کے لیے باہر نکلتے ہیں، یہ ایک خوش آئند بات ہے۔ محترمہ بینظیر بھٹو نے بھی تحریک چلائی تھی، یہ اس ملک کی ایک جمہوری روایت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کے بیٹے پاکستان آئے تو ان کا کیا انجام ہوگا؟ رانا ثنااللہ نے خبردار کردیا
انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈاپور عمران خان کی مرضی سے وزیراعلیٰ ہیں۔ ہم سب متحد ہیں۔ علی امین گنڈاپور کو اپنے ساتھیوں سے کوئی خطرہ نہیں۔ اگر ان کے خلاف باہر سے کوئی سازش ہوئی تو ہم سب ان کے ساتھ کھڑے ہو کر اس کا بھرپور مقابلہ کریں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news احتجاج بشریٰ بی بی پی ٹی آئی سزا معطلی سیلمان اکرم راجہ علی امین گنڈاپور عمران خان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی سزا معطلی سیلمان اکرم راجہ علی امین گنڈاپور سیلمان اکرم راجا عمران خان کے اکرم راجا نے نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
( ملک رحمان)صوبہ خیبر پختونخوا کے پہاڑی ضلع شانگلہ میں ایک نہایت افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے جس میں ایک مکان کی چھت گرنے سے 6 بچے جاں بحق ہو گئے ہیں۔
یہ واقعہ ضلع شانگلہ کی تحصیل الپورئی میں پیش آیا، جس میں گزشتہ رات مکان کی چھت اچانک ڈھہ گئی اور گھر میں موجود بچے ملبے تلے دب گئے، واقعے میں ایک بچہ زخمی بھی ہو گیا ہے، جسے طبی امداد دی جا رہی ہے۔
مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ملبے سے تمام لاشیں اور زخمی بچی کو نکال لیا ہے، جاں بحق بچوں میں ناظرہ، سمیرا، رضوان، نایاب، حیا نور اور عمیرہ بی بی شامل ہیں، جن کی عمریں 5 سے 14 سال کے درمیان ہیں۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
پولیس کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والے بچوں کے والد جہان بشر کا کچھ ہی عرصہ قبل انتقال ہوا تھا، اور ان کا مکان کچا تھا۔ مرنے والوں میں پانچ لڑکیاں اور ایک لڑکا شامل ہیں۔