پی ٹی آ ئی کی پرانی قیادت ’’ریلیز عمران خان‘‘ تحریک چلانے کیلیے تیار،حکومتی وسیاسی قیادت سے ملاقاتوں کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251102-01-26
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک /صباح نیوز) پی ٹی آئی کی پرانی قیادت ’’ریلیز عمران خان‘‘ تحریک چلانے کے لیے تیار ہوگئی‘ حکومتی و سیاسی قیادت سے ملاقات کا فیصلہ کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق پارٹی ذرائع کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی پرانی قیادت ’ ریلیز عمران خان‘ تحریک چلانے کے لیے تیار ہے، تحریک میں فواد چودھری، عمران اسماعیل، علی زیدی، محمود مولوی، سبطین خان اور دیگر رہنما موجود ہوں گے۔ تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو میڈیکل چیک اپ کے لیے پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ (پی کے ایل آئی) اسپتال لاہور لایا گیا، جہاں پی ٹی آئی کے سابق رہنماؤں فواد چودھری، مولوی محمود اور عمران اسماعیل نے اُن سے ملاقات کی۔ذرائع نے بتایا کہ سابق قیادت نے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے اہم فیصلے کیے، انہوں نے اسٹیبلشمنٹ سے رابطوں اور مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت سے بھی ملاقات کا فیصلہ کیا۔ اِسی طرح ملک میں سیاسی درجہ حرارت نیچے لانے کا فیصلہ کیا گیا، عمران خان سے ملاقات بھی کی جائے گی، پی ٹی آئی کی سابق قیادت شاہ محمود قریشی کی رہائی کے لیے بھی سرگرم ہے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی سابقہ قیادت نے شاہ محمود قریشی کو بات چیت کے ذریعے معاملات کو حل کرنے اور سیاسی درجہ حرارت نیچے لانے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کی، شاہ محمود قریشی کو تمام تر معاملات کو حل اور درست کرنے کے کردار ادا کرنے پر گفتگو ہوئی۔پارٹی ذرائع نے بتایا کہ سابق قیادت کا مؤقف ہے کہ پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت عمران خان کو باہر نہیں نکال سکتی‘ سابق سینیٹر اعجاز چودھری، سابق صوبائی وزیر میاں محمود الرشید اور سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ سے بھی ملاقات کی گئی‘ ملاقات کے دوران موجودہ سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ فواد چودھری کی سربراہی میں 3 رکنی وفد مولانا فضل الرحمن سے بھی ملاقات کرے گا۔ فواد چودھری نے کہا کہ پی ٹی آئی سے شاہ محمود قریشی، اعجاز چودھری اور دیگر رہنماوں سے ملاقاتیں ہوئیں ہیں، پی ٹی آئی کی قیادت نے سیاسی قیدیوں کو باہر لانے کی کوشش کی تائید کی ہے۔ ’ایکس‘ پر جاری بیان میں میں سابق پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ حکومت کو ایک قدم بڑھانا اور پی ٹی آئی نے ایک قدم پیچھے ہٹنا ہے تاکہ ان دونوں کو جگہ مل سکے، پاکستان نے جو موجودہ بین الاقوامی کامیابیاں حاصل کیں، سیاسی درجہ حرارت زیادہ ہونے کی وجہ سے اس کا فائدہ حاصل نہیں ہو سکا۔لہٰذا جب تک یہ درجہ حرارت کم نہیں ہوتا، اس وقت تک پاکستان میں معاشی ترقی اور سیاسی استحکام نہیں آسکتا‘ اس وقت ہماری کوشش ہے کہ ایک ایسا ماحول بنایا جاسکے، جس میں کم از کم بات چیت کا راستہ کھولا جا سکے، پی ٹی آئی کے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی، اعجاز چودھری اور باقی دوستوں کے سامنے دوران ملاقات اپنا یہی نقطہ نظر رکھا اور ہمیں خوشی ہے کہ وہ بھی اسی نقطہ نظرکے حامی ہیں۔ فواد چودھری نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے اس کے لیے اقدامات ہوں گے، سیاسی ماحول کیسے بہتر ہوگا، وہ ایسے ہی بہتر ہو سکتا ہے کہ سیاسی قیدیوں کو ریلیف ملے، شاہ محمود قریشی کی ضمانتیں بغیر کسی وجہ کے نہیں ہو رہیں، اعجاز چودھری، یاسمین راشد، عمر چیمہ، محمود رشید، سیاسی ورکرز اور خواتین کا حق ہے کہ انہیں ضمانت ملے۔پی ٹی آئی کے سابق رہنما کا آخر میں کہنا تھا کہ (ن) لیگ کے اہم وزرا سے بات ہوئی ، وہ بھی مفاہمت کے حامی ہیں‘، ہم نے جو کوشش شروع کی ہے اگلے دو تین ہفتوں میں نتائج سامنے آنا شروع ہوں گے، یہ سارے معاملات ہوں گے تو سیاسی فضا بہتر ہوگی، عمران خان اور بشریٰ بی بی کی رہائی ممکن بنانا ہمارا بنیادی کام ہے، فوری طور پر عمران اسمٰعیل، محمود مولوی اور میں باہر نکلے ہیں، آئندہ ملاقاتوں میں آپ کو پی ٹی آئی کی مزید سینئر لیڈر شپ نظر آئی گی اور یہ ماحول مزید بہتر ہو گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شاہ محمود قریشی اعجاز چودھری پی ٹی ا ئی کی فواد چودھری سے ملاقات کا فیصلہ بہتر ہو ہوں گے
پڑھیں:
اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی مدت پوری ہونے کے بعد ان کے جانشین کے انتخاب کے لیے 6 امیدوار سامنے آ گئے ہیں۔ عالمی ادارہ اس وقت بڑھتی ہوئی جنگوں، عالمی عدم استحکام اور شدید مالی بحران جیسے غیر معمولی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، جس کے باعث نئے سربراہ کے انتخاب کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔
امیدواروں میں 4 خواتین اور 2 مرد شامل ہیں۔ مبصرین کے مطابق اگرچہ کسی ایک امیدوار کو واضح برتری حاصل نہیں، تاہم ارجنٹائن سے تعلق رکھنے والے رافیل گروسی کا نام سب سے زیادہ مضبوط امیدوار کے طور پر لیا جا رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے اگلے سربراہ کے انتخاب کے لیے سلامتی کونسل کے 15 میں سے کم از کم 9 ارکان کی حمایت درکار ہوگی، تاہم امیدوار کو 5 مستقل ارکان امریکا، برطانیہ، چین، فرانس اور روس میں سے کسی ایک کے ویٹو سے بھی بچنا ہوگا۔ سلامتی کونسل کی سفارش کے بعد ہی جنرل اسمبلی نئے سیکریٹری جنرل کی باضابطہ منظوری دے گی۔
مشیل باشیلے (چلی)74 سالہ مشیل باشیلے چلی کی پہلی خاتون صدر رہ چکی ہیں۔ جنرل آگستو پنوشے کی فوجی حکومت کے دوران انہیں تشدد کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
بعد ازاں وہ اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق بھی رہیں، جہاں انسانی حقوق سے متعلق ان کے مؤقف، خصوصاً چین کے سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں سے متعلق رپورٹ، پر بیجنگ نے سخت تنقید کی۔
باشیلے کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے پاس بڑی طاقتوں کے دباؤ کے باوجود اخلاقی قیادت ہونی چاہیے۔
انہیں میکسیکو اور برازیل کی حمایت حاصل ہے، تاہم چلی کی نئی حکومت نے ان کی حمایت واپس لے لی ہے، جبکہ امریکا بھی اسقاط حمل کے حق میں ان کے مؤقف پر تنقید کرتا رہا ہے۔
ماریا فرنانڈا ایسپینوسا (ایکواڈور)61 سالہ ماریا فرنانڈا ایسپینوسا ایکواڈور کی سابق وزیر خارجہ اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی سابق صدر رہ چکی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ انسانیت کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کا واحد عالمی پلیٹ فارم ہے، تاہم ادارے میں گہری اصلاحات کی بھی ضرورت ہے۔
انہوں نے مستقبل کے تنازعات کی پیشگی نشاندہی کے لیے ابتدائی انتباہی نظام (Early Warning System) قائم کرنے کی تجویز دی ہے۔
ان کی امیدواری کی حمایت اینٹیگوا اینڈ باربوڈا نے کی ہے، تاہم ان کے اپنے ملک ایکواڈور نے باضابطہ حمایت نہیں کی۔
رافیل گروسی (ارجنٹائن)65 سالہ رافیل گروسی پیشہ ور سفارت کار ہیں اور 2019 سے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ڈائریکٹر جنرل ہیں۔
انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام اور یوکرین کے زاپوریزیا جوہری پلانٹ سے متعلق عالمی سفارت کاری میں اہم کردار ادا کیا۔
گروسی نے سیکریٹری جنرل کی انتخابی مہم چلانے کے لیے اپنے موجودہ عہدے سے استعفیٰ دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کرنا ان کی ذمہ داریوں سے غفلت کے مترادف ہوگا۔
وہ اقوام متحدہ میں اصلاحات اور سیکریٹری جنرل کے زیادہ فعال کردار کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔
ربیکا گرینسپن (کوسٹا ریکا)70 سالہ ربیکا گرینسپن کوسٹا ریکا کی سابق نائب صدر اور اقوام متحدہ کے ادارے UNCTAD کی سربراہ ہیں۔
انہوں نے سیکریٹری جنرل کی مہم کے لیے اپنی ذمہ داریوں سے عارضی رخصت لے رکھی ہے۔
2022 میں انہوں نے روس اور یوکرین کے درمیان بحیرہ اسود اناج معاہدہ کرانے میں اہم سفارتی کردار ادا کیا، جس کے ذریعے یوکرین سے اناج کی برآمدات بحال ہوئیں۔
گرینسپن کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ ایک ضرورت سے زیادہ محتاط ادارہ بن چکا ہے، جس میں مؤثر فیصلوں کی رفتار بڑھانے کی ضرورت ہے۔
کیرولین روڈریگز برکیٹ (گیانا)52 سالہ کیرولین روڈریگز برکیٹ گیانا کی سابق وزیر خارجہ اور اس وقت اقوام متحدہ میں اپنے ملک کی مستقل مندوب ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کو عالمی سطح پر اپنی ساکھ دوبارہ بحال کرنا ہوگی۔
ان کے مطابق اقوام متحدہ کو صرف امن و سلامتی کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے، کیونکہ ادارہ ترقی، انسانی حقوق اور دیگر کئی شعبوں میں بھی نمایاں خدمات انجام دے رہا ہے۔
میکی سال (سینیگال)64 سالہ میکی سال اس دوڑ میں شامل واحد امیدوار ہیں جو لاطینی امریکا سے تعلق نہیں رکھتے، حالانکہ روایتی طور پر اس مرتبہ سیکریٹری جنرل کا منصب لاطینی امریکا کو ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
سینیگال کے سابق صدر میکی سال امن اور ترقی کے باہمی تعلق پر زور دیتے ہیں۔
ان کی امیدواری سب سے پہلے برونڈی نے، جو اس وقت افریقی یونین کی سربراہی کر رہا ہے، پیش کی تھی، جبکہ سینیگال نے بھی حال ہی میں ان کی باضابطہ حمایت کا اعلان کیا ہے۔
تاہم سینیگال میں ان پر 2021 سے 2024 کے دوران حکومت مخالف مظاہروں کو طاقت سے کچلنے کے الزامات بھی عائد کیے جاتے رہے ہیں، جن میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔
انتخاب کا طریقۂ کاراقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی تقرری 5 سال کے لیے ہوتی ہے۔ سلامتی کونسل امیدوار کے نام کی سفارش کرتی ہے، جس کے بعد 193 رکنی جنرل اسمبلی اس کی توثیق کرتی ہے۔ اگرچہ سلامتی کونسل میں 9 ووٹ درکار ہوتے ہیں، لیکن کسی بھی مستقل رکن کا ویٹو امیدوار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی، یوکرین اور غزہ کی جنگ، مشرقِ وسطیٰ کے بحران اور اقوام متحدہ کے مالی مسائل کے باعث اس مرتبہ سیکریٹری جنرل کا انتخاب گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ اور حساس تصور کیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں