دوسری شادی پر عمران اشرف کی لب کشائی
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار، اسکرین رائٹر و میزبان عمران اشرف نے اپنی دوسری شادی پر لب کشائی کر دی۔
حال ہی میں نجی ٹی وی کے پروگرام میں اداکار نے اپنی شادی سے متعلق پوچھے گئے سوال پر کھل کر بات کی۔
دورانِ پروگرام حاضرین میں شریک ایک مداح نے بتایا کہ وہ دبئی سے خصوصی طور پر پروگرام میں شرکت کرنے آئی ہیں اور میزبان عمران اشرف سے کچھ پوچھنا چاہتی ہیں۔
انہوں نے پوچھا کہ آپ دوسری شادی کب کر رہے ہیں کیونکہ ہم آپ کو زندگی میں خوش دیکھنا چاہتے ہیں اور ہمیں یوں لگتا ہے کہ آپ کی زندگی میں کچھ ادھورا پن ہے۔
مداح کے سوال کا جواب دیتے ہوئے اداکار نے کہا کہ میں اپنی زندگی میں یوں ہی خوش ہوں، تاہم مذکورہ مداح نے اصرار کیا کہ انہیں جلد شادی کرلینی چاہیے جس پر عمران اشرف نے مذاقاً کہا کہ ٹھیک ہے پھر کسی کی تلاش شروع کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ سب اللّٰہ کے فیصلے ہیں، یہ تب ہوگا جب وہ چاہے گا، لیکن آپ مجھ سے زیادہ میرے بیٹے کے لیے دعا کریں۔
واضح رہے کہ اداکار و میزبان عمران اشرف اور ماڈل کرن اشفاق 2018ء میں شادی کے بندھن میں بندھے تھے، اس جوڑی کے ہاں 2020ء میں بیٹے روہم کی پیدائش ہوئی تھی۔
بعد ازاں عمران اشرف اور کرن اشفاق کے درمیان نومبر 2022ء میں طلاق ہوگئی تھی۔
طلاق کے تقریباً ایک سال بعد دسمبر 2023ء میں کرن اشفاق نے دوسری شادی کرلی تھی۔
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔