خیبرپختونخوا میں عدم اعتماد لانا اپوزیشن کا حق ہے، رانا ثنا اللہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ کے پی میں عدم اعتماد لانا اپوزیشن کا حق ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی کے پی حکومت کو ہٹانا اس وقت سوٹ نہیں کرتا، علی امین گنڈا پور کو خود ان کی پارٹی ہٹانا چاہتی ہے، گورنر کے پی فیصل کریم نے علی امین کو ہٹانے کی بات کرکے ان کی مدد کردی ہے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت ہٹانے یا عدم اعتماد لانے پر کوئی بات نہیں ہوئی لیکن عدم اعتماد لانا اپوزیشن کا حق ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف سے ایمل ولی کی کے پی میں تبدیلی پر کوئی بات نہیں ہوئی، گنڈا پور پر ان کی پارٹی کے ممبران وکٹ کے دونوں طرف کھیلنے کا الزام لگاتے ہیں، وہ دونوں طرف کھیلتے ہیں یا نہیں اس بات پر کیوں کریں اگر وہ وکٹ کے دونوں طرف کھیلتے ہیں تو یہ ہمیں سوٹ کرتا ہے۔
ن لیگی رہنما نے کہا کہ علی امین گنڈاپور کو ان کی اپنی پارٹی تبدیل کرنے جارہی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم دوستی کی وجہ سے چوہدری نثار سے ملاقات کرنے گئے تھے، چوہدری نثار کی واپسی سے متعلق مجھے کوئی علم نہیں۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ہمارا ہمیشہ سے بانی پی ٹی آئی کے لیے دل میں نرم گوشہ ہے کبھی سختی نہیں کی، جب اپوزیشن میں بھی تھے اس وقت بھی کہا کہ آئیں ڈائیلاگ کرتے ہیں، جمہوریت ڈائیلاگ سے چلتی ہے ڈیڈلاک سے نہیں۔
انہوں نے کہا کہ موروثی سیاست کی بات کرنا غلط ہے یہ شوشہ بھی عمران خان نے چھوڑا تھا، ڈاکٹرز کے بچے ڈاکٹرز بن سکتے ہیں تو سیاست دان کے بچے سیاست کیوں نہیں کرسکتے، قائد اعظم کے ساتھ ان کی بہن فاطمہ جناح نے بھی کردار ادا کیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
پشاور: سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے پنشنرز کی نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا، جبکہ اس حوالے سے محکمہ خزانہ نے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ اضافہ 30 جون 2026 تک وصول کی جانے والی نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ حکومت کے اس اقدام سے لاکھوں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو مہنگائی کے موجودہ دور میں مالی سہارا ملنے کی امید ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے سے مستفید ہوں گے۔ اسی طرح فیملی پنشن حاصل کرنے والے افراد اور کمپیشنٹ الاؤنس لینے والے مستحقین پر بھی یہ اضافہ یکساں طور پر لاگو ہوگا۔
محکمہ خزانہ کے مطابق بیرون ملک مقیم وہ پنشنرز بھی، جو خیبرپختونخوا حکومت کی پنشن کے اہل ہیں، مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ اضافہ پہلے سے دی جانے والی کسی بھی خصوصی اضافی پنشن پر لاگو نہیں ہوگا، بلکہ صرف بنیادی نیٹ پنشن کی بنیاد پر ادا کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کا یہ فیصلہ بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر ریٹائرڈ ملازمین کے لیے اہم ریلیف ثابت ہوگا اور ان کے ماہانہ اخراجات پورے کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔