وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان کے بیٹوں نے پاکستان آ کر پی ٹی آئی کی تحریک میں حصہ لیا تو وہ گرفتار ہوں گے اور  پھر برطانیہ کی ایمبیسی ہی انہیں بازیاب کرائے گی۔

عمران خان کے بیٹے آئے تو ان کے لیے مشکلات ہوں گی اور پھر انہیں ???????? کی ایمبیسی ہی بازیاب کروائے گی ! رانا ثناءاللہ کی دھمکی ۔۔۔ pic.

twitter.com/WuEfBqRrbH

— AMJAD KHAN (@iAmjadKhann) July 8, 2025

رانا ثناء اللہ کے بیان کے بعد پی ٹی آئی کے حامی صارفین اس پر مختلف تبصرے کرتے نظر آئے۔ فیاض شاہ نے سوال کیا کہ عمران خان کے بیٹوں کو کس جرم میں اور کس قانون کے تحت گرفتار کیا جائے گا؟

عمران خان کے بیٹے قاسم اور سلیمان اگر تحریک میں حصہ لینے پاکستان آتے ہیں تو انہیں گرفتار کر لیا جائے گا۔ رانا ثناء اللہ

کس جرم میں؟ اور کس قانون کے تحت گرفتار کرو گے؟؟؟ pic.twitter.com/I8QC5HpGna

— Fayyaz Shah (@RebelByThought) July 8, 2025

سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے کہا کہ ایک پُر امن تحریک کو وقت سے پہلے پُر تشدد تحریک کہنا اور عمران خان کے بیٹوں کی گرفتاری کی دھمکی دینا یہی ثابت کرتا ہے کہ ن لیگ رانا ثناء اللہ جیسے انتشاریوں پر مشتمل ایک مافیا ہے جس نے پاکستان کو اپنے باپ کی جاگیر سمجھا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحریکِ انصاف اگر پُر تشدد جماعت ہوتی تو پچھلے 3 سالوں میں اپنے پیاروں کے درجنوں جنازے نہ اٹھاتی، پاکستان کسی مافیا کے باپ کی جاگیر نہیں یہ 25 کروڑ عوام کا ملک ہے جہاں پر امن احتجاج اور کسی بھی عوامی تحریک کا حصہ بننا ہر پاکستانی کا حق ہے۔

ایک پُر امن تحریک کو وقت سے پہلے پُر تشدد تحریک کہنا اور عمران خان کے بیٹوں کی گرفتاری کی دھمکی دینا یہی ثابت کرتا ہے کہ ن لیگ رانا ثناء اللہ جیسے انگوٹھا چھاپ کرائے کے غنڈوں اور انتشاریوں پر مشتمل ایک مافیا ہے جس نے پاکستان کو اپنے باپ کی جاگیر سمجھا ہوا ہے، تحریکِ انصاف اگر پُر… pic.twitter.com/TGe9geoErq

— Qasim Khan Suri (@QasimKhanSuri) July 9, 2025

ملیحہ ہاشمی لکھتی ہیں کہ حکومت ابھی سے عمران خان کے بیٹوں سے خوفزدہ ہو گئی ہے۔

"عمران خان کے بیٹے پاکستان آئے تو گرفتار ہوں گے۔ پھر ان کی ایمبیسی ہی چھڑوا کر واپس لے کر جاۓ گی" – رانا ثناء اللہ

حکومت ابھی سے خان کے بیٹوں سے خوفزدہ ہو گئی ہے؟ ???????? pic.twitter.com/Pm1bE6BDkS

— Maleeha Hashmey (@MaleehaHashmey) July 8, 2025

عبید بھٹی نے کہا کہ کل اگر رانا ثناء اللہ پر کوئی مدعا ڈالا گیا اور ان کی رہائی کے لیے ان کی اہلیہ باہر نکلیں تو وہ بھی اسی روایت کے تحت گرفتار ہوں گی۔

بسم اللہ کریں اور گرفتار کریں۔ یہ تو بہت اچھی روایت ہوگی۔ کل کلاں جب رانا ثناء اللہ پر کوئی مدعا ڈالا گیا اور انکی رہائی کیلیے انکی اہلیہ جگتیں مارتی ہوئی نکلیں تو وہ بھی اسی روایت کے تحت گرفتار ہوسکیں گی۔
بی وی اور بہنیں گرفتار کرکے روایت پہلے ہی ڈالی جا چکی ہے۔
باقی لوگوں کی… https://t.co/gVqf8LJOsR

— Obaid Bhatti (@Obibhatti) July 8, 2025

واضح رہے کہ سابق وزیراعظم اور بانی پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان نے ملک گیر احتجاج کی کال دے دی ہے، ان کا کہنا ہے کہ اب مذاکرات کا وقت گزر چکا ہے۔

عمران خان نے سماجی رابطوں کی سائیٹ ایکس پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ  ملک گیر تحریک کا مکمل لائحہ عمل اسی ہفتے پیش کیا جائے گا، 5 اگست کو میری نا حق قید کو پورے 2 برس مکمل ہو جائیں گے۔ اسی روز ہماری ملک گیر احتجاجی تحریک کا نقطہ عروج ہوگا۔ پاکستان تحریک انصاف کے بانی کی بہن علیمہ خان کا کہنا ہے کہ عمران خان کے بیٹے قاسم اور سلمان پی ٹی آئی کی احتجاجی تحریک کا حصہ بنیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پی ٹی آئی پی ٹی آئی تحریک عمران خان عمران خان بیٹے

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی پی ٹی ا ئی تحریک عمران خان بیٹے عمران خان کے بیٹوں عمران خان کے بیٹے رانا ثناء اللہ کے تحت گرفتار نے پاکستان گرفتار کر پی ٹی ا ئی تحریک کا

پڑھیں:

شہدا ء کا مقام اور فضیلت

جے یو آئی کے قصور شہرمیں غیر متوقع طور پر بہت بڑے پاور شو اور عوامی اجتماع نے جہاں پنجاب کی سیاست میں ایک نئی روح پھونکی اور دہائیوں پر محیط روایتی سیاسی و غیر سیاسی مہروں کے متبادل ایک نئی عوامی طاقت کا احساس دلایا، وہاں اس جیتی جاگتی تبدیلی سے خائف حلقوں نے ہمیشہ کی طرح ایک فرسودہ اور ہتک آمیز حربہ اختیار کیا۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ایک بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہوئے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اور یہ گمراہ کن پروپیگنڈا گھڑا گیا کہ انھوں نے معاذ اللہ فوجی جوانوں کے لیے "شہادت کی تنخواہ" کے الفاظ استعمال کیے، حالانکہ ان کا مدعا و مقصد ہر گز یہ نہیں تھا۔ مولانا نے اپنے خطاب میں ایک انتہائی عقلی اور اصولی نکتہ واضح کیا تھا۔ اصل میں اس گفتگو کا بنیادی محور قبائلی علاقوں میں مقامی لشکروں کی تشکیل تھا۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ اس گفتگو کا درست مفہوم سیاسی مخالفین کو تو سمجھ آگیا لیکن سوشل میڈیا کے کارندوں کو سمجھ نہ آیا کیونکہ جان بوجھ کر منفی مطلب نکالنا ان کا شیوا ہے۔ یہاں ایک بنیادی اور تلخ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شہادت کا رتبہ، جہاد کی فضیلت اور شہید کا مقام کیا ہوتا ہے، یہ دینِ اسلام کے اسرار و رموز سے واقف، پوری زندگی قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرنے والا ایک جید عالمِ دین بہتر جانتا ہے یا پھر سوشل میڈیا کے مجاہدین۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ملک کے ممتاز ترین عالمِ دین کو شہادت کی عظمت پر لیکچر دیئے جا رہے ہیں۔

ناقدین کو شاید یہ معلوم ہی نہیں کہ شہادت ایک شرعی اور دینی اصطلاح ہے، جس کا تقدس اور حقیقی مرتبہ علماء ہی جانتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن خود ہزاروں شہداء کے وارث ہیں۔

1857کی جنگ آزادی میں حضرت حافظ محمد ضامن شہیدؒ سمیت کلکتہ سے پشاور تک پھانسیوں پر لٹکائے جانے والے 51 ہزار علماء ان کے ہی اکابر تھے۔ پاکستان میں سیکڑوں کی تعداد میں شہید کیے جانے والے علماء، جن میں شیخ المشائخ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، مولانا سید شمس الدین شہیدؒ، مولانا حق نواز شہیدؒ، شیخ الحدیث مولانا حسن جان شہیدؒ، شیخ الحدیث مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ، مفتی جمیل خان شہیدؒ، مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہیدؒ اور دیگر بے شمار شخصیات شامل ہیں، ان کے جماعتی کارکن، دوست اور دست و بازو تھے، جن کو دن دہاڑے اس لیے شہید کیا گیا کہ وہ ریاست و آئین پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے اور ان میں سے آج تک کسی ایک کے قاتل کو نہیں پکڑا گیا۔ جو شخص اور جو جماعت خود شہداء کی امین ہو، وہ بھلا شہداء کی توہین کا سوچ بھی کیسے سکتی ہے؟ قصور جلسہ کے ایک لفظ کو مسخ کر کے پہاڑ بنانے والوں کا یہ وقتی ابال بہت جلد بیٹھ جائے گا۔ تمام زندگی بلامعاوضہ ملک و ملت کی خدمت کرنے والے، مدارس و مساجد کی حفاظت کے لیے دن رات ایک کرنے والے، قبائل کے لوگوں کو بغاوت سے بچانے والے اور مسلح دہشت گردوں کے خلاف ریاست کے لیے خود کش حملے، دھمکیاں اور گالیاں برداشت کرنے والے زیرک رہنما کو غدار قرار دینا نا مناسب ہے۔

اسلام میں شہید کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند اور منفرد ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شہیدوں کی عظمت کو اتنے ارفع انداز میں بیان کیا ہے کہ انھیں مردہ کہنے سے بھی منع فرما دیا ہے۔ سورہ البقرہ اور سورہ آل عمران میں واضح فرمایا گیا کہ "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انھیں مردہ نہ کہو اور نہ ہی ایسا گمان کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انھیں رزق بھی دیا جا رہا ہے اور وہ اللہ کے اس فضل پر جو انھیں عطا کیا گیا ہے، انتہائی خوش اور مسرور ہیں"۔ یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ شہید کی زندگی عام اموات جیسی نہیں ہوتی بلکہ وہ برزخ میں ایک خاص قسم کی حیاتِ طیبہ اور انعاماتِ الٰہی سے سرفراز ہوتے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی شہید کے بے پناہ فضائل کا ذکر ملتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "اللہ کے نزدیک شہید کی خاص خصوصیات ہیں، خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے، اسے عذابِ قبر اور قیامت کی بڑی گھبراہٹ سے پناہ ملتی ہے، اس کے سر پر وقار کا ایسا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے اور اس کی اپنے اقارب میں سے ستر لوگوں کے لیے شفاعت قبول کی جائے گی"۔ کائنات کی سب سے عظیم ہستی حضرت محمد ﷺ کا شہادت کی بار بار تمنا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں شہادت کا مقام کتنا عظیم ہے۔ شہید کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ جنت میں جانے کے بعد کوئی بھی شخص دنیا میں دوبارہ لوٹنے کی خواہش نہیں کرے گا، سوائے شہید کے، جو وہاں ملنے والے اکرام کو دیکھ کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں دس بار واپس بھیجا جائے تاکہ وہ بار بار اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کر سکے۔

احادیث کے مطابق شہید کو موت کی تکلیف اتنی ہی محسوس ہوتی ہے جتنی کسی انسان کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے اور قیامت کے دن اس کے زخموں سے بہنے والے خون سے مشک کی خوشبو آئے گی۔قرآن و حدیث کی رو سے شہید کا درجہ انبیاء، صدیقین اور صالحین کے بالکل متصل ہے اور یہ اہل علم ہی جانتے ہیں لہٰذا سیاسی مقاصد کے لیے پاک صاف دامن پر چھینٹیں پھینکنے والے یاد رکھیں کہ مکافاتِ عمل کا نظام عنقریب پلٹا کھائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نعروں، الزامات اور مذمتوں کی اس تعفن زدہ سیاست کو اب بند کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا