ایڈووکیٹ ایمان مزار ی کے خلاف لائسنس منسوخی کا ریفرنس دائر کردیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250917-01-10
اسلام آباد(آن لائن)ایڈووکیٹ ایمان مزار ی کے خلاف لائسنس منسوخی کا ریفرنس دائر کردیا گیا۔ اسلام آباد بار کونسل میں ایڈووکیٹ ایمان مزاری کے خلاف لائسنس منسوخی کا ریفرنس دائر کر دیا گیا ہے۔ ایڈووکیٹ عدنان اقبال کی جانب سے دائر ریفرنس میں ایمان مزاری پر ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ایمان مزاری کی جانب سے سرکاری افسران کیخلاف نفرت انگیز تقاریر اور منفی مہم چلائی جاتی ہے، ریفرنس میں مزیدکہاگیاہے کہ ایمان مزاری ریاستی اداروں کیخلاف بغاوت پر اکسانے میں ملوث ہے، ایمان مزاری کے تعلقات تحریک طالبان، بلوچ لبریشن آرمی و منظور پشتین کی تحریک سے ہیں، ایمان مزاری ہر ایسی تحریک کی حمایت کرتی ہیں جس کا ایجنڈا ریاست مخالف اور اداروں میں بغاوت ہو، ایمان مزاری کیوجہ سے ساری وکلا برادری بدنام ہورہی ہے،ایمان مزاری وکالت کے شعبے کو بطور ڈھال استعمال کررہی ہیں،ایمان مزاری کے اقدامات کی وجہ سے لوگوں کا نظام انصاف سے اعتماد اٹھ رہا ہے،ریفرنس میں استدعا کی گئی ہے کہ ایمان مزاری کا مستقل وکالت کا لائسنس منسوخ کیا جائے اور ان کے خلاف باضابطہ انکوائری کی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایمان مزاری کے خلاف
پڑھیں:
ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز سے متعلق نظرثانی درخواست پر وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے معاونت طلب کر لی، جبکہ مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماریہ شہباز کم عمر تھی اور اسے ورغلا کر مذہب تبدیل کروایا گیا، جبکہ عدالت نے اپنے سابق فیصلے میں کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ سابق عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق شادی کے لیے 18 سال عمر کی حد مقرر ہے اور قانون کے خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی پر سزا کا ذکر تو موجود ہے، تاہم نکاح کو خودکار طور پر منسوخ قرار دینے کی کوئی شق موجود نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کم عمری میں شادی ہو جائے تو قانون اس صورت حال کا کیا حل فراہم کرتا ہے۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ماریہ شہباز نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے لے کر وفاقی آئینی عدالت تک کسی بھی مرحلے پر یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی تھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر درخواست گزار اس مؤقف پر اصرار کرتا ہے تو عدالت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی معاونت حاصل کر لیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی کیخلاف گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس
عدالت نے سماعت کے دوران وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کو والد کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ تنسیخ نکاح کے لیے متعلقہ فریق سول کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ حبسِ بے جا اور حوالگی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نکاح کی تنسیخ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چائلڈ میرج قبول اسلام ماریہ شہباز وفاقی آئینی عدالت