قائم مقام صدر یوسف رضا گیلانی کی سیلاب متاثرین کے لیے عالمی اداروں سے امداد کی اپیل
اشاعت کی تاریخ: 17th, September 2025 GMT
قائم مقام صدرِ مملکت سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ فلاحی اور بین الاقوامی ادارے پاکستان کے سیلاب متاثریں کو فوری امداد فراہم کریں۔
قائم مقام صدرِ مملکت سید یوسف رضا گیلانی نے فلاحی اور بین الاقوامی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ سیلاب متاثرین، بالخصوص جنوبی پنجاب کے متاثرہ خاندانوں کے لیے فوری امداد فراہم کریں۔ صدر نے کہا کہ متاثرین کو بروقت امداد پہنچانا نہایت ضروری ہے تاکہ ان کی مشکلات کم کی جا سکیں۔
سینیٹر رانا ثناء اللہ خان نے ایوانِ صدر میں قائم مقام صدر یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کی۔ ملاقات میں ملکی سیاسی حالات اور امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ یہ رانا ثناء اللہ کی بطور سینیٹر صدرِ مملکت سے پہلی باضابطہ ملاقات تھی۔
پیپلز پارٹی رہنما کی ملاقاتصدرِ مملکت سے پیپلز پارٹی کے سینٹرل سیکریٹری جنرل ہمایوں خان نے بھی ملاقات کی اور پارٹی کی تنظیمی صورتحال پر انہیں بریفنگ دی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: یوسف رضا گیلانی
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔