پنجاب ترقیاتی ورکنگ پارٹی نے ترقیاتی سکیموں کیلئے 134 ارب منظور کر لئے
اشاعت کی تاریخ: 16th, September 2025 GMT
لاہور (کامرس رپورٹر) پنجاب پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ نے مالی سال 2025-26ء کے صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی کے 29 ویں اجلاس میں مختلف سیکٹرز کی ترقیاتی سکیموں کے لئے 134 ارب روپے کے فنڈز کی منظوری دے دی گئی۔ اجلاس کی صدارت چیئرمین پی اینڈ ڈی بورڈ ڈاکٹر نعیم رؤف نے کی۔ جن منصوبوں کی منظور ی دی گئی ان میں سی ایم انیشیٹو کے تحت نئے کالجز کی تعمیر کے لیے7 ارب 47 کروڑ ، پہلے سے موجود یونیورسٹیوں کے سب کیمپسز کی تعمیر اور اپگریڈیشن کے لیے 2 ارب، پنجاب ڈیویلپمنٹ پروگرام کے تحت مختلف اضلاع میں ترقیاتی کاموں کے لیے 124 ارب روپے کی منظوری دی گئی۔ اس رقم سے ساہیوال، لودھراں، خانیوال، ٹوبہ ٹیک سنگھ، فیصل آباد، بہاولپور، وہاڑی، کوٹ ادو، سیالکوٹ، اٹک، شیخوپورہ، سرگودھا، نارووال، اوکاڑہ، قصور اور وزیر آباد میں سیوریج، نکاسی آب اور دیگر ترقیاتی کام کئے جائیں گے۔ پنجاب آرکائیو فیز تھری کی ڈیجیٹلائزیشن کے پوزیشن پیپر، پنجاب میں بزنس فسلیٹیشن ای بز پورٹل کے لیے پوزیشن پیپر، پنجاب ای کامرس انیشیٹو کے پوزیشن پیپر، چیف منسٹر آئی ٹی انٹرنشپ پروگرام کے پوزیشن پیپر، پرفارمنس مینجمنٹ اینڈ ریفارمز یونٹ (پی ایم آر یو) آئی اینڈ سی ونگ، ایس اینڈ جی اے ڈی کے پوزیشن پیپر، پنجاب میں آن لائن شماریاتی نظام کے پوزیشن پیپر کی منظوری بھی دی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پوزیشن پیپر
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔