قائم مقام صدر کی مخیر حضرات اور عالمی اداروں سے سیلاب متاثرین کی فوری مدد کی اپیل
اشاعت کی تاریخ: 17th, September 2025 GMT
قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ عوام، خصوصاً جنوبی پنجاب میں تباہ حال کمیونٹیز کی مدد کے لیے مخیر حضرات اور بین الاقوامی ڈونر ادارے آگے بڑھیں۔
انہوں نے زور دیا کہ بروقت امداد انتہائی ضروری ہے تاکہ مدد ان لوگوں تک پہنچ سکے جو سب سے زیادہ ضرورت مند ہیں۔
مزید پڑھیں: حکومت سیلاب متاثرین کے لیے عالمی امداد کی اپیل کیوں نہیں کر رہی؟
ایوانِ صدر میں وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ سینیٹر رانا ثنا اللہ خان نے قائم مقام صدر سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات ان کی بطور سینیٹر پہلی تعارفی ملاقات تھی۔ اس موقع پر ملک کی مجموعی سیاسی اور امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
بعد ازاں قائم مقام صدر نے پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکریٹری جنرل اور سابق صوبائی وزیر خزانہ خیبر پختونخوا، ہمایوں خان سے بھی ملاقات کی۔ ہمایوں خان نے انہیں ملک میں پارٹی کی صورتحال پر بریفنگ دی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سید یوسف رضا گیلانی سیلاب متاثرین قائم مقام صدر مدد کی اپیل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سید یوسف رضا گیلانی سیلاب متاثرین مدد کی اپیل
پڑھیں:
امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
واشنگٹن: امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو کرنسی ایکسچینجز کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق پابندیوں کا مقصد ایران سے منسلک مالیاتی سرگرمیوں کو محدود کرنا اور ایسے نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا ہے جن پر امریکی حکام کو پابندیوں سے بچنے میں معاونت کا شبہ ہے۔
بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان افراد اور اداروں کے ساتھ کاروبار یا مالی لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے، کمپنیاں اور افراد بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔ اس اقدام کے بعد بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے لیے ان نامزد اداروں سے تعلقات برقرار رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ حتمی منصوبے پر فوری ردعمل دینے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک کوئی باضابطہ جواب نہیں بھیجا گیا۔
ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی تجویز پر ایران میں مختلف سطحوں پر مشاورت جاری ہے اور متعلقہ حکام اس منصوبے کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے تہران کسی بھی ممکنہ معاہدے میں صرف وعدوں پر انحصار نہیں کرنا چاہتا بلکہ ایسے ٹھوس اور حقیقی فوائد کا خواہاں ہے جو ایرانی عوام اور ملکی معیشت کے لیے عملی نتائج فراہم کر سکیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق نئی امریکی پابندیاں اور جاری سفارتی مذاکرات ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں ایک نئی پیچیدگی پیدا کر سکتے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کسی ممکنہ سمجھوتے کے امکانات پر بھی عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔