چیئرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) ڈاکٹر مختار احمد نے کہا ہے کہ اعلیٰ تعلیمی بجٹ کو کم سے کم 4 فیصد کرنے، نوجوانوں کو درست سمت دکھانے اور جدید تعلیم تک رسائی کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومتی ہدایت پر وژن 2047 پر کام کر رہے ہیں جس کے پہلے مرحلے میں پی۔10 پراجیکٹ کے تحت ٹاپ 10 جامعات کا انتخاب کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے: ملک میں میڈیکل ایجوکیشن کے مسائل کے حل کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملکی جامعات میں 100 سمارٹ کلاس روم قائم کردیے گئے ہیں جبکہ 200 مزید سمارٹ کلاس رومز بنارہے ہیں۔

چیئرمین ایچ ای سی نے کہا کہ اعلیٰ تعلیمی بجٹ کو کم سے کم 4 فیصد کرنے، نوجوانوں کو درست سمت دکھانے اور جدید تعلیم تک رسائی کو بڑھانے کی ضرورت ہے، پی ایچ ڈی فیکلٹی ممبران کی تعداد 3 ہزار سے بڑھا کر 5 ہزار سالانہ کی جائے گی۔

ڈاکٹر مختار احمد کا کہنا تھاکہ تعلیمی حوالے سے پاکستان دنیا کا مقابلہ کرنے کو تیار ہے، انٹرنیشنل رینکنگ میں پاکستان کی 4 مزید جامعات دنیا کی ایک ہزار یونیورسٹیوں میں شامل ہوئی ہیں، ہمیں توقع ہے کہ اگلے 5 سال تک یہ کی 2 سوبہترین جامعات میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہو جائیں گی۔ اس وقت ایچ ای سی کے تحت 31 لاکھ سے زائد بچے زیر تعلیم ہیں، ان میں اگر کالجز کی تعداد بھی شامل کریں تو 60 لاکھ طلبا بنتے ہیں، سالانہ ساڑھے 8 لاکھ گریجویٹس فارغ ہوتے ہیں، یہ تعداد کم ہے اس کے لیے اعلیٰ تعلیم تک رسائی کو بڑھانے پر کام کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: خیبر پختونخوا کی یونیورسٹیوں میں حروف تہجی کی ترتیب سے چانسلرز کی تعیناتی، لمحہ فکریہ ہے

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ڈیڑھ کروڑ نوجوان موجود ہیں، اتنی بڑی تعداد کو اعلیٰ تعلیم تک رسائی اور سہولیات دینا ہم سب کی ذمہ داری ہے، ہم نے تعلیمی سہولیات کو بڑے شہروں کے ساتھ ساتھ پسماندہ علاقوں تک پہنچایا ہے تاکہ ملک کے ہر شہری کو یکساں تعلیمی مواقع مل سکیں۔اس وقت ملک میں صرف 28 فیصد فیکلٹی پی ایچ ڈی ہولڈر ہیں، جامعات میں پی ایچ ڈی فیکلٹی کو بڑھانے کے لیے کام کر ہے ہیں۔

ڈاکٹر مختار احمد کا کہنا تھاکہ ایچ ای سی کا ترقیاتی بجٹ کم ہوا ہے جو کہ سال 2018میں تقریباً 65 ارب تھا اس وقت وہ بمشکل 70 ارب تک پہنچا ہے۔ ترقیاتی بجٹ میں کمی سے ہمارے جاری منصوبہ رکنے کا خدشہ ہے، تعلیمی بجٹ کو کم سے کم  4 فیصد تک لانا ہوگا جس کا او آئی سی کے رکن ممالک نے وعدہ بھی کر رکھا ہے تاہم بدقسمتی سے یہ بجٹ 1.

9 فیصد سے بھی کم ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: تعلیم تک رسائی کو بڑھانے ایچ ای سی کا کہنا کے لیے ہے ہیں

پڑھیں:

پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم

پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی اور علمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر عطیہ کر دیے، جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے قائم جدید کمپیوٹر لیبارٹری اور تزئین و آرائش شدہ کلاس رومز کا بھی افتتاح کر دیا گیا۔

تقریب میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام نے مشترکہ طور پر کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے تعلیم، تحقیق، ثقافتی روابط اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔

ہائی کمشنر عمران حیدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر لیب کا قیام صرف نئی سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیم، ثقافتی ہم آہنگی اور نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جدید لیبارٹری طلبہ اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے، تحقیق کے فروغ اور معیاری تعلیم کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم باہمی اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے، اسی مقصد کے تحت پاکستانی ہائی کمیشن مختلف تعلیمی اور علمی تعاون کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرام، سمسٹر ایکسچینج، مشترکہ ڈگری پروگرامز اور قلیل مدتی تربیتی کورسز شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

اس سے قبل ہائی کمشنر عمران حیدر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام سے ملاقات کی، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور پاکستان کی مختلف جامعات کے درمیان تعلیمی روابط بڑھانے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی وزراتِ عظمیٰ: پاک بنگلہ دیش تعلقات میں تاریخی پیشرفت کے مواقع

وائس چانسلر نے پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے شعبہ اردو کی ترقی کے لیے فراہم کیے گئے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 1921 میں قائم ہونے والا شعبہ اردو یونیورسٹی کے قدیم اور ممتاز شعبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت بی ایس (آنرز)، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم دی جا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

تقریب میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار، شعبہ اردو کے چیئرمین ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد غلام مولا، پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی، پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد واصف سمیت اساتذہ، طلبہ اور دونوں ممالک کے حکام نے بھی شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک بنگلہ دیش پاکستان پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار ڈھاکہ یونیورسٹی کمپیوٹر لیب

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد میں گلاسگو 2026 دولتِ مشترکہ کھیلوں کی افتتاحی تقریب
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع