ڈیڑھ کروڑ نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم تک رسائی اور جدید سہولیات فراہمی کی کوشش کر رہے ہیں، چیئرمین ایچ ای سی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
چیئرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) ڈاکٹر مختار احمد نے کہا ہے کہ اعلیٰ تعلیمی بجٹ کو کم سے کم 4 فیصد کرنے، نوجوانوں کو درست سمت دکھانے اور جدید تعلیم تک رسائی کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومتی ہدایت پر وژن 2047 پر کام کر رہے ہیں جس کے پہلے مرحلے میں پی۔10 پراجیکٹ کے تحت ٹاپ 10 جامعات کا انتخاب کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: ملک میں میڈیکل ایجوکیشن کے مسائل کے حل کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملکی جامعات میں 100 سمارٹ کلاس روم قائم کردیے گئے ہیں جبکہ 200 مزید سمارٹ کلاس رومز بنارہے ہیں۔
چیئرمین ایچ ای سی نے کہا کہ اعلیٰ تعلیمی بجٹ کو کم سے کم 4 فیصد کرنے، نوجوانوں کو درست سمت دکھانے اور جدید تعلیم تک رسائی کو بڑھانے کی ضرورت ہے، پی ایچ ڈی فیکلٹی ممبران کی تعداد 3 ہزار سے بڑھا کر 5 ہزار سالانہ کی جائے گی۔
ڈاکٹر مختار احمد کا کہنا تھاکہ تعلیمی حوالے سے پاکستان دنیا کا مقابلہ کرنے کو تیار ہے، انٹرنیشنل رینکنگ میں پاکستان کی 4 مزید جامعات دنیا کی ایک ہزار یونیورسٹیوں میں شامل ہوئی ہیں، ہمیں توقع ہے کہ اگلے 5 سال تک یہ کی 2 سوبہترین جامعات میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہو جائیں گی۔ اس وقت ایچ ای سی کے تحت 31 لاکھ سے زائد بچے زیر تعلیم ہیں، ان میں اگر کالجز کی تعداد بھی شامل کریں تو 60 لاکھ طلبا بنتے ہیں، سالانہ ساڑھے 8 لاکھ گریجویٹس فارغ ہوتے ہیں، یہ تعداد کم ہے اس کے لیے اعلیٰ تعلیم تک رسائی کو بڑھانے پر کام کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: خیبر پختونخوا کی یونیورسٹیوں میں حروف تہجی کی ترتیب سے چانسلرز کی تعیناتی، لمحہ فکریہ ہے
انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ڈیڑھ کروڑ نوجوان موجود ہیں، اتنی بڑی تعداد کو اعلیٰ تعلیم تک رسائی اور سہولیات دینا ہم سب کی ذمہ داری ہے، ہم نے تعلیمی سہولیات کو بڑے شہروں کے ساتھ ساتھ پسماندہ علاقوں تک پہنچایا ہے تاکہ ملک کے ہر شہری کو یکساں تعلیمی مواقع مل سکیں۔اس وقت ملک میں صرف 28 فیصد فیکلٹی پی ایچ ڈی ہولڈر ہیں، جامعات میں پی ایچ ڈی فیکلٹی کو بڑھانے کے لیے کام کر ہے ہیں۔
ڈاکٹر مختار احمد کا کہنا تھاکہ ایچ ای سی کا ترقیاتی بجٹ کم ہوا ہے جو کہ سال 2018میں تقریباً 65 ارب تھا اس وقت وہ بمشکل 70 ارب تک پہنچا ہے۔ ترقیاتی بجٹ میں کمی سے ہمارے جاری منصوبہ رکنے کا خدشہ ہے، تعلیمی بجٹ کو کم سے کم 4 فیصد تک لانا ہوگا جس کا او آئی سی کے رکن ممالک نے وعدہ بھی کر رکھا ہے تاہم بدقسمتی سے یہ بجٹ 1.
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: تعلیم تک رسائی کو بڑھانے ایچ ای سی کا کہنا کے لیے ہے ہیں
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ