لوئر دیر میں کباڑ کے گودام میں دھماکا؛ 3 افراد جاں بحق، 3 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
ویب ڈیسک : لوئر دیر کے علاقے خال مارکیٹ میں واقع ایک کباڑ کے گودام میں دستی بم پھٹنے سے دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق جبکہ تین زخمی ہو گئے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق دھماکے کے فوری بعد امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں، دھماکے میں جاں بحق ہونے والوں اور زخمیوں کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال اور آر ایچ سی خال ہسپتال منتقل کیا گیا۔
ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر موجود ہیں اور امدادی کارروائیاں تیزی سے جاری ہیں۔ واقعہ کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے جبکہ سکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر مزید شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے۔
مخصوص نشستوں کی بحالی کا فیصلہ؛ کس پارٹی کو کیا ملا
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے میں جاں بحق افراد کی شناحت روئیداد، امین اللہ اور ہارون کے نام سے ہوئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔